BR100 Increased By (0.98%)
BR30 Increased By (1.31%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.51 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 25.52 Increased By ▲ 0.32 (1.27%)
BOP 34.42 Increased By ▲ 0.43 (1.27%)
CNERGY 8.21 Increased By ▲ 0.10 (1.23%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 195.75 Increased By ▲ 2.78 (1.44%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.65 Increased By ▲ 0.82 (1.55%)
FFL 18.13 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 19.74 Increased By ▲ 0.77 (4.06%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.61 Decreased By ▼ -0.28 (-1%)
MLCF 87.70 Increased By ▲ 1.19 (1.38%)
OGDC 324.15 Increased By ▲ 4.19 (1.31%)
PAEL 39.78 Increased By ▲ 0.36 (0.91%)
PIBTL 17.48 Increased By ▲ 0.81 (4.86%)
PIOC 270.88 Increased By ▲ 4.82 (1.81%)
PPL 230.05 Increased By ▲ 1.87 (0.82%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.16 Increased By ▲ 0.56 (2.11%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.37 (4.47%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 71.12 Increased By ▲ 1.41 (2.02%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

رواں سال جنوری میں ایک دوسرے پر میزائل حملوں کے بعد تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی آج پیر سے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد کسی بھی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ ان کی اہلیہ، وزیر خارجہ، کابینہ کے دیگر ارکان، اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد بھی شامل ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ابراہیم رئیسی وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لاہور اور کراچی بھی جائیں گے اور صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں کے پاس پاکستان ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت، رابطے، توانائی، زراعت، اور عوام سے عوام کے رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کا وسیع ایجنڈا ہوگا۔ ہم علاقائی اور عالمی پیش رفت اور دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دو طرفہ تعاون پر بھی بات کریں گے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات ہیں۔ یہ دورہ پاکستان ایران تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کریگا۔

یہ دورہ ایران کی جانب سے بلوچستان کے سرحدی شہر پنجگور میں عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے پاکستان میں حملوں کے کے چند ماہ بعد ہورہا ہے۔

48 گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد، پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران نے زور دیا تھا کہ وہ اپنے دشمنوں کو اسلام آباد کے ساتھ اپنے ”خوشگوار اور برادرانہ تعلقات“ کو کشیدہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،

Comments

Comments are closed.