جولائی تا مارچ: حکومتی قرضے 4.8 ٹرین روپےکی بلند سطح پرجاپہنچے
رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ(جولائی تا مارچ) کے دوران شیڈول بینکوں سے وفاقی حکومت کا بجٹ قرضہ 4.8 ٹریلین روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق رواں مالی سال مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ سپورٹ کے لیے قرض لینے میں 138 فیصد یا 2.809 ٹریلین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر حکومت نے جولائی تا مارچ شیڈول بینکوں سے 4.842 ٹریلین روپے اکٹھے کیے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2.033 ٹریلین روپے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے بڑھتے اخراجات نے اسے اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شیڈول بینکوں سے قرض لینے پر مجبور کیا ہے، جیسا کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے ایس بی اے پروگرام سے فائدہ اٹھایا ہے تاہم حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کو محدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نے قرض لینے کے بجائے اسٹیٹ بینک کے قرضے کو کم کرنے کے لیے کافی رقم واپس کر دی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک کو 332.7 ارب روپے واپس کیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 828.6 ارب روپے کے قرضے لیے گئے تھے۔
زیر جائزہ مدت کے دوران اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں کی مالی حالت وفاقی حکومت سے بہت بہتر ہے کیونکہ تمام صوبوں نے مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک کو 315.4 بلین روپے کی رقم واپس کردی ہے۔
پہلے نو ماہ میں بلوچستان حکومت نے اسٹیٹ بینک کو 68.7 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 40.5 ارب روپے، سندھ حکومت نے 41.8 ارب روپے اور پنجاب حکومت نے 164.22 ارب روپے کی ادائیگی کی ۔
مزید برآں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان حکومت نے زیر جائزہ مدت کے دوران 17.7 بلین روپے اور 1.1 بلین روپے ریٹائر کئے۔
وفاقی حکومت کو گزشتہ دو سال سے شدید بحران کا سامنا ہے اور بڑھتے مالی خسارے نے وفاق کو ملکی بینکنگ سسٹم سے مزید قرض لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ، وفاقی حکومت نے اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیےآخری سہ ماہی میں ٹریژری بلز اور بانڈز کی فروخت کے ذریعے بینکوں سے تقریباً 5 ٹریلین روپے قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
وفاقی حکومت یہ رقم پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز اور گورنمنٹ آف پاکستان مارکیٹ ٹریژری بلزسمیت سیکیورٹی پیپرز کی نیلامی کے ذریعے حاصل کرے گی۔ حکومت کا کمرشل بینکوں سے طویل مدتی سیکیورٹی پیپر کے ذریعے 2.49 ٹریلین روپے اور مارکیٹ ٹریژری بلز کی نیلامی کے ذریعے 2.475 ٹریلین روپے اکٹھا کرنے کا منصوبہ ہے۔


Comments
Comments are closed.