دائرۂ اختیار کا مسئلہ : کراچی پولیس کی نوآبادیاتی سوچ کیسے کام کرتی ہے؟
- شارع فیصل جیسی اہم سڑک پر جرائم کا فوری ڈیجیٹل اندراج ہونا چاہیے، مگر متاثرین کو تھانوں کے دائرۂ اختیار کے تنازعات میں الجھا کر چکر لگوائے جاتے ہیں
پاکستان کا معاشی مرکز کراچی ملک کی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے باوجود یہاں کام کرنے والے افراد سڑکوں پر بڑھتے ہوئے جرائم کے باعث بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں، جس پر مؤثر روک تھام بھی نظر نہیں آتی۔
ایک طرف کاروباری شعبے کو ڈیجیٹل نظام اپنانے اور جدت لانے کی ترغیب دی جا رہی ہے تو دوسری جانب اس افرادی قوت کی حفاظت پر مامور پولیس کا نظام بدستور خراب ہے، جو افسر شاہی کی بے حسی اور پولیس کے فرسودہ دائرۂ اختیار کے نظام کے باعث مفلوج ہو چکا ہے۔
23 ستمبر 2026ء کی شام تقریباً 7 بج کر 30 منٹ پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ میرا بیٹا، جو ایک نوجوان پیشہ ور ہے، دفتر سے شارع فیصل کے مرکزی راستے سے گھر واپس جا رہا تھا۔ ایف ٹی سی پل کے قریب، جو شہر کی کاروباری برادری کے لیے آمدورفت کا ایک اہم مقام ہے، ایک موٹر سائیکل سوار نے راستہ پوچھنے کے بہانے اس کے قریب آ کر موٹر سائیکل روکی۔ چند ہی لمحوں میں یہ بہانہ جارحانہ کارروائی میں بدل گیا۔ ملزم نے اس کا بیگ چھینا اور ٹریفک میں غائب ہو گیا۔ اس بیگ میں ایک نیا لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون اور بٹوا موجود تھا۔ ایک نوجوان پیشہ ور کے لیے یہ محض مہنگی اشیا نہیں بلکہ جدید معیشت میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کے بنیادی ذرائع ہیں۔
مہنگے تکنیکی آلات اور ڈیجیٹل رابطے سے محرومی کے نتیجے میں ہونے والا فوری مالی نقصان خاصا زیادہ ہے، تاہم اس کے ثانوی نقصانات اس سے بھی سنگین ہیں۔ اس طرح کے واقعات کاروباری سرگرمیوں میں خلل، حساس معلومات کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور کام کرنے والے افراد کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کرتے ہیں۔
تاہم اس واقعے کے بعد سرکاری سکیورٹی نظام سے مدد حاصل کرنے کا تجربہ بھی ڈکیتی جتنا ہی تھکا دینے والا ثابت ہوا۔ اگلے تین دنوں کے دوران پیش آنے والے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی میں باصلاحیت افراد کو روکنے اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم کرنے میں مشکلات کیوں درپیش ہیں۔
واقعے سے خوف زدہ ہو کر میرے بیٹے نے فوری طور پر قریبی تھانے، تھانہ صدر (پی ایس صدر) سے رجوع کیا، جو پیدل فاصلے پر واقع تھا۔ لیکن مدد فراہم کرنے کے بجائے اسے تھانوں کے دائرۂ اختیار کے تنازع میں الجھا دیا گیا۔
تھانہ صدر کے ڈیوٹی افسر نے دعویٰ کیا کہ واردات تھانہ فیروزآباد کی حدود میں ہوئی ہے۔ جب میرا بیٹا تھانہ فیروزآباد پہنچا تو وہاں اسے بالکل اس کے برعکس بتایا گیا کہ ایف ٹی سی پل کا علاقہ تھانہ صدر کی حدود میں آتا ہے۔
دونوں تھانوں کے درمیان اسے ایک سے دوسرے تھانے کے چکر لگوائے گئے، جیسے وہ کوئی ایسی ذمہ داری ہو جسے کوئی قبول کرنے کو تیار نہ ہو۔ بالآخر اسے رات گئے خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑا۔ نہ اس کا سامان ملا اور نہ ہی اسے پولیس میں شکایت یا ایف آئی آر درج کرانے کا بنیادی قانونی حق دیا گیا۔
اگلی صبح میں اپنے بیٹے کے ساتھ دوبارہ تھانہ صدر گیا۔ وہاں اسی ڈیوٹی افسر کی جانب سے ایک بار پھر حدود کا وہی اعتراض سامنے آیا۔ مسلسل اصرار کے بعد جب ہم نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سے ملاقات کا مطالبہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ فیلڈ ڈیوٹی پر ہیں۔ تاہم فون پر رابطہ ہونے کے بعد ہمیں زبانی یقین دہانی کرائی گئی کہ ہماری رپورٹ پر کارروائی کی جائے گی۔
لیکن اس کے بعد بھی انتظامی تاخیری حربے جاری رہے۔ ڈیڑھ گھنٹے انتظار کے بعد ہمیں اگلے دن آنے کا کہا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کے لیے صبح 11 بجے بجلی آئے گی یا پھر کیمروں کے نگران افسر یا متعلقہ سہولت کار ہم سے رابطہ کریں گے۔ چونکہ میرے بیٹے کو چوری ہونے والے دفتری لیپ ٹاپ کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کے لیے دفتر جانا ضروری تھا، اس لیے فوری طور پر دوبارہ تھانے آنا ممکن نہیں تھا۔
بالآخر 26 ستمبر کو یعنی واردات کے پورے تین دن بعد ایس ایچ او سے براہِ راست ذاتی رابطے اور مداخلت کے نتیجے میں پولیس کی کچی رپورٹ درج کی گئی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ کیمروں کی فوٹیج دیکھے بغیر ہی مقدمے کا اندراج کر دیا گیا۔ اس دوران تاخیر کے جواز بھی بدلتے رہے، پہلے بجلی کی عدم دستیابی کا عذر پیش کیا گیا اور بعد میں بتایا گیا کہ کراچی سیف سٹی سے متعلقہ خاتون اہلکار ڈیوٹی پر موجود نہیں تھیں۔
اس صورتِ حال سے پالیسی سازوں اور صوبائی حکومت کے سامنے نظام سے متعلق کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ ’’سیف سٹی کراچی‘‘ اور ڈیجیٹل نگرانی جیسے منصوبوں پر معمول کے مطابق لاکھوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں سیٹلائٹ تصاویر، فوری جی پی ایس ٹریکنگ اور موبائل فون ٹاورز کے ذریعے کسی شخص کی موجودگی کا پتا لگانا ممکن ہے۔
پھر آخر شہریوں کو انصاف تک رسائی کے لیے اب بھی نوآبادیاتی دور کی قائم کردہ تھانوں کی حدود کے تنازعات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟ شارع فیصل جیسی اہم تجارتی سڑک پر ہونے والے جرم کا اندراج فوری طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے متعلقہ اضلاع میں ہونا چاہیے۔
اس کے برعکس متاثرین کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ تھانوں کی حدود کا تعین کرنے والے اہلکار ہوں۔ انہیں ایک تھانے سے دوسرے تھانے کے چکر لگانے اور متعلقہ پولیس اسٹیشنوں سے جائے وقوعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی منتیں کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اگر کراچی کو تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد مرکز برقرار رکھنا ہے تو اس کے حفاظتی نظام کو اکیسویں صدی کے تقاضوں اور رفتار سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ جب جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے جرائم پیشہ افراد تیز رفتار ذرائع آمدورفت سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس کے مقابلے میں کاغذی کارروائی، دائرۂ اختیار کی علاقائی تقسیم اور غیر فعال کیمروں میں الجھی پولیس کا فرسودہ نظام ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو مکمل طور پر بے یارومددگار چھوڑ دیتا ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026