آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے 2018ء کی بال ٹیمپرنگ تحقیقات کے نتائج کو چیلنج کردیا
- سابق اوپنر کا دعویٰ ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران گیند کی حالت خراب کرنے کے منصوبے سے پوری ٹیم آگاہ تھی؛ کرکٹ آسٹریلیا اپنے سابقہ تحقیقاتی نتائج پر بدستور قائم
سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2018ء میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران گیند سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے سے پوری آسٹریلوی ٹیم آگاہ تھی، جبکہ کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات میں اس منصوبے کا علم صرف تین کھلاڑیوں تک محدود قرار دیا گیا تھا۔
خواجہ نے اپنی آنے والی خودنوشت کے اقتباسات میں کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران گیند کی سطح کو کھردرا کرنے کے طریقوں، بشمول سینڈ پیپر کے استعمال، پر ٹیم کے اندر کھلے عام اور غیر سنجیدہ انداز میں گفتگو ہوتی رہی تھی۔
مارچ 2018ء میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران سامنے آنے والے اس اسکینڈل کو ’’سینڈ پیپر گیٹ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے کرکٹ آسٹریلیا کو شدید ساکھ کے بحران سے دوچار کردیا تھا۔
کرکٹ آسٹریلیا کی 2018ء کی تحقیقات میں نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ گیند سے چھیڑ چھاڑ کے منصوبے کا پہلے سے علم صرف اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کو تھا۔
سڈنی مارننگ ہیرالڈ میں ہفتے کے روز شائع ہونے والی اپنی خودنوشت کے اقتباسات میں خواجہ نے کہا کہ گیند سے چھیڑ چھاڑ کی باتیں صرف بلے بازوں، بولرز یا معاون عملے تک محدود نہیں تھیں بلکہ پوری ٹیم اس سے آگاہ تھی۔
اخبار کے مطابق، آسٹریلیا کے لیے 88 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سابق ٹاپ آرڈر بلے باز نے کہا، ’’یہ ہم سب تھے۔ صرف بلے باز، بولرز یا عملہ نہیں، بلکہ ہم سب۔‘‘
خواجہ کو اس معاملے میں تحقیقات کے دوران کسی غلط کاری کا مرتکب نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ انہوں نے جنوری میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
کرکٹ آسٹریلیا نے 2018ء میں اسمتھ، وارنر اور بینکرافٹ پر کھیلنے کی پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ دیگر سزائیں بھی دی تھیں۔ اس وقت کے ہیڈ کوچ ڈیرن لی مین کو براہِ راست ملوث ہونے کے الزام سے بری کردیا گیا تھا، تاہم وہ سیریز کے کچھ ہی عرصے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
کرکٹ آسٹریلیا نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا، ’’آج تک کرکٹ آسٹریلیا کو فراہم کی گئی تمام متعلقہ معلومات کا مناسب طور پر جائزہ لیا گیا ہے اور ہم اپنے ضابطہ جاتی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں۔‘‘
ادارے نے مزید کہا، ’’متعلقہ معلومات پیش کرنے کا موقع مسلسل موجود رہا ہے اور آئندہ بھی یہ موقع برقرار رہے گا۔‘‘
آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز، جو کیپ ٹاؤن کے متنازع ٹیسٹ میں کھیلنے والے بولرز میں شامل تھے، نے رواں ماہ ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا تھا کہ عثمان خواجہ کی خودنوشت کی اشاعت سے اس معاملے پر مزید تنازع کھڑا ہوسکتا ہے۔
جنوبی افریقہ نے 2018ء میں چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-3 سے جیتی تھی۔
آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم گزشتہ ماہ 2018ء کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ کے دورے پر گئی، جہاں اسے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-2 سے شکست ہوئی۔