✕
کاروبار اور معیشت

کوئلے کے منصوبوں کی رائلٹی تھر کے مقامی علاقوں کی ترقی پر خرچ ہوگی، قاسم سومرو

  • وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا ہے کہ کوئلے کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن تھر کی مقامی آبادی کی ترقی پر خرچ کی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

سندھ کے پارلیمانی سیکریٹری برائے بلدیات، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ قاسم سراج سومرو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کوئلے کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی بالخصوص تھر کے مقامی علاقوں کی ترقی پر خرچ کرے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ توانائی کے منصوبوں کے قریب آباد آبادیوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی تاحال ایک بڑا مسئلہ ہے۔

دو روزہ سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے قاسم سراج سومرو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایات دی ہیں کہ کوئلے کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدنی تھر کے مقامی لوگوں کی ترقی اور فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے ۔

مزید برآں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تھر کے مختلف علاقوں میں نصب کیے گئے زیادہ تر آر او پلانٹس (پانی صاف کرنے کے پلانٹس) درست طریقے سے کام نہیں کر رہے، تاہم کوئلے کے منصوبوں سے متاثرہ آبادیوں کے نمائندوں نے حکومت کے ترقیاتی دعوؤں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے باوجود مقامی لوگ بے روزگاری، ماحولیاتی آلودگی، بنیادی سہولتوں کی کمی اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔

دو روزہ کانفرنس میں پالیسی سازوں، سرکاری حکام، توانائی کے ماہرین، ماحولیاتی کارکنوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، سیاست دانوں اور متاثرہ آبادیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سندھ میں توانائی کے مسائل اور توانائی کے منصوبوں کے سماجی و ماحولیاتی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکا نے کوئلے کی کان کنی اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے متاثرہ آبادیوں کے لیےسستی اور بلا تعطل بجلی،صاف پینے کے پانی، مناسب معاوضے، روزگار کے مواقع اور متاثرہ خاندانوں کی منتقلی کے لیے شفاف پالیسی کا مطالبہ کیاکانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سستی اور مسلسل بجلی تک رسائی کو بنیادی حق تسلیم کیا جائے،خصوصاً ان علاقوں کے لوگوں کو اس سہولت سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں سے ملک کے لیے توانائی پیدا کی جا رہی ہے۔

گاؤں تھاریو ہالیپوٹو کے نمائندے عبدالعزیز قادری نے کہا کہ ان کے گاؤں کی آبادی تقریباً 4,500 افراد پر مشتمل ہے، لیکن اردگرد بڑے توانائی منصوبے قائم ہونے کے باوجود مقامی لوگوں کو روزگار کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئلے کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی کہاں خرچ کی جا رہی ہے اور اس آمدنی کا کتنا حصہ مقامی لوگوں کی زندگی بہتر بنانے پر صرف کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور منصوبوں کے ذمہ دار اداروں نے مقامی آبادی کو اب تک کوئی واضح منصوبہ نہیں دیا۔

مقررین نے توانائی کی منصوبہ بندی میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی شرکت بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں توانائی کے شعبے کی تبدیلی اور ترقی کی کامیابی کا اندازہ صرف بجلی کی پیداوار اور سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ مقامی آبادیوں کی زندگیوں میں آنے والی بہتری سے بھی لگایا جانا چاہیے۔