✕
اداریہ

اسٹیٹ بینک کی جائزہ رپورٹ

شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پاکستان میں کام کرنے والے نئے اور موجودہ بینکوں کے لیے کم از کم سرمایہ کی لازمی شرط (ایم سی آر) میں 100 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق اس اضافے کی وجہ مالیاتی اداروں کے قیام اور پائیدار بنیادوں پر ان کے آپریشنز جاری رکھنے کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔

کم از کم سرمایہ کی لازمی شرط (ایم سی آر) ایک ایسا ضابطہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بینکوں کے پاس اپنے اثاثوں کے مقابلے میں اتنا نقد سرمایہ موجود ہو کہ وہ مالی طور پر مستحکم رہ سکیں اور ممکنہ مالی بحران کا مقابلہ کرسکیں۔ اس کا بنیادی مقصد کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ اور مالیاتی نظام کا استحکام برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے مرکزی بینک کی جانب سے کم از کم سرمایہ کی شرط میں اضافے کے حق میں دی گئی وضاحت میں وزن موجود ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بینکوں کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اس کا جواب کافی واضح ہے۔ رواں سال کے آغاز سے صارفین کے لیے قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) میں مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسوں میں برقرار ہے جس کی ایک وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے اثرات اور دوسری وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط سے منسلک انتظامی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان شرائط کے تحت حکومت کو یوٹیلیٹیز (بجلی، گیس وغیرہ) کی قیمتیں لاگت کے مطابق وصولی کی بنیاد پر مقرر کرنا ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں تمام شعبوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پٹرولیم اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل بھی نقل وحمل کے اخراجات کو متاثر کر رہا ہے۔

ایک اور ممکنہ وجہ مخصوص شعبوں میں ایسی سرمایہ کاری بھی ہوسکتی ہے جو متوقع منافع پیدا نہیں کررہی۔ اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستانی بینک ماضی میں بھی توانائی شعبے میں ضرورت سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں اور اب بھی اس شعبے میں ان کی مالیاتی شراکت حد سے زیادہ ہے۔ گزشتہ سال توانائی شعبے کے بھاری گردشی قرضے کی ادائیگی اور اس کی واپسی مرحلہ وار کرنے کے لیے مزید 1.23 ٹریلین روپے کے قرض کی فراہمی پر بینکوں نے ابتدا میں مزاحمت کی تھی، تاہم بالآخر انہیں اس پر آمادہ کرلیا گیا۔ نتیجتاً بینکوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہوگا۔

تاہم ان عوامل کو تسلیم کرنے کے باوجود اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ کم از کم سرمایہ کی لازمی شرط (ایم سی آر) ایک ایسا مالیاتی پالیسی کا ذریعہ بھی ہے جس کے ذریعے معیشت کی سمت متعین کی جاتی ہے۔ چنانچہ ایم سی آر میں اضافہ ایک انقباضی مالیاتی پالیسی کے آلے کے طور پر کام کرتا ہے، کیونکہ اس سے قرضوں کی فراہمی اور زیر گردش زر کی مقدار کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایم سی آر میں کمی ایک توسیعی مالیاتی پالیسی ہے جس کا مقصد معاشی کساد بازاری پر قابو پانا ہوتا ہے۔

تو پھر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے محض ایک روز بعد کم از کم سرمایہ کی لازمی شرط (ایم سی آر) کیوں بڑھائی گئی؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکزی بینک آئی ایم ایف کے عملے کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس سے کہیں زیادہ اضافہ کرنا ایسی منڈی کو غلط اشارہ دے گا جو پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے؟ آخرکار، 3.7 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ ہونے کے باوجود معیشت کو روزگار کے نئے مواقع یا ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافے کا سہارا حاصل نہیں۔ اس کے بجائے یہ نمو تھوک اور پرچون تجارت میں اضافے کی عکاس ہے، جسے کھپت میں اضافے نے تقویت دی ہے۔ یہ کھپت جزوی طور پر طویل اور غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ سے بھی فروغ پا رہی ہے۔

لہٰذا یہ قیاس بے جا نہیں کہ ایم سی آر کو راتوں رات دوگنا کرنے کا فیصلہ، پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کے محض ایک روز بعد، آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے کسی معاہدے کا نتیجہ ہوسکتا ہے، جس کی تفصیلات رواں سال 7 اکتوبر کو فنڈ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے چوتھے جائزے کے اسٹاف لیول معاہدے میں بیان کی گئی ہیں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلند افراط زر کے دباؤ کے دوران انقباضی پالیسی اختیار کرنے کی سفارش کی جاتی ہے جبکہ معاشی کساد بازاری کے دوران توسیعی پالیسی کو موزوں سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مہنگائی کی شرح بدستور دوہرے ہندسوں میں ہے جبکہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور کھاد سمیت بڑی صنعتیں خام مال اور دیگر پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، جیسا کہ بزنس ریکارڈر کے ایک غیر رسمی سروے میں بھی سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ملک کو جمود کے ساتھ مہنگائی (اسٹگ فلیشن) کا سامنا ہے اور اس کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ یہی صورتحال اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ انقباضی مالیاتی پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس کے تحت کم از کم سرمایہ کی لازمی شرط (ایم سی آر) اور پالیسی ریٹ، دونوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔