✕
کھیل

ذاتی زندگی میں مشکلات کے بعد کرکٹ ایشلے گارڈنر کے لیے سکون کا ذریعہ بن گئی

  • سڈنی سکسرز نے بھی ایشلے گارڈنر کا ساتھ دیا اور جولائی میں اعلان کیا کہ وہ ویمنز بگ بیش لیگ کے آئندہ سیزن میں ٹیم کی کپتان برقرار رہیں گی۔
شائع اپ ڈیٹ

آسٹریلیا کی نائب کپتان ایشلے گارڈنر کا کہنا ہے کہ ذاتی زندگی میں مشکل دور کے دوران کرکٹ نے انہیں ذہنی سکون اور حالات سے وقتی طور پر نکلنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے شادی ختم ہونے کے بعد ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے ملنے والی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ایشلے گارڈنر کی شادی رواں سال کے اوائل میں ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد ان کی سابق شریکِ حیات مونیکا رائٹ نے سوشل میڈیا پر آسٹریلوی ٹیم کی ساتھی کھلاڑی جارجیا وول کے ساتھ ان کے تعلقات پر تنقید کی تھی۔

کرکٹ آسٹریلیا کو اس تعلق کے بارے میں مونیکا رائٹ کے تبصروں سے پہلے ہی علم تھا، اور ادارے نے قیادت کے حوالے سے تنقید کے باوجود ایشلے گارڈنر کو نائب کپتان کے عہدے پر برقرار رکھنے کی حمایت کی۔

گارڈنر نے پیر کے روز سڈنی میں سڈنی سکسرز کی سیزن لانچ تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ذاتی زندگی کا مشکل دور ان کے لیے آزمائش رہا، تاہم کرکٹ سے وابستگی نے انہیں حالات کا سامنا کرنے میں مدد دی۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ مشکل وقت تھا، لیکن کرکٹ نے مجھے اس صورت حال سے نکلنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’ورلڈ کپ جیتنا اور دی ہنڈریڈ میں بھی کامیابی حاصل کرنا بہت اچھا رہا۔‘‘

گارڈنر نے مزید کہا، ’’میرے اردگرد کچھ بہت اچھے لوگ موجود رہے، جنہوں نے ضرورت کے وقت میرا ساتھ دیا۔ کرکٹ اس لیے بھی اچھی رہی کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے آس پاس کے لوگ میری حمایت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ میں کس طرح کی انسان ہوں۔‘‘

سڈنی سکسرز کی کپتان گارڈنر نے اگست میں ایک بیان کے ذریعے اپنی شادی ختم ہونے سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت کی تھی اور قیادت کے معاملے پر حمایت کرنے پر کرکٹ آسٹریلیا کا شکریہ ادا کیا تھا۔

سڈنی سکسرز نے بھی گارڈنر کی حمایت جاری رکھی اور جولائی میں اعلان کیا تھا کہ وہ ویمنز بگ بیش لیگ کے آئندہ سیزن میں ٹیم کی کپتان برقرار رہیں گی۔

گارڈنر نے کہا، ’’ظاہر ہے کہ یہ کلب میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، اور اعلیٰ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہونا میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔‘‘