اشرافیہ کے لیے معاشی ترقی
- ”سبسڈی، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباری اداروں کی معاونت نے متحرک اور بیرونی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔“
استحکام حاصل ہونے کے بعد اب معاشی ترقی حکومت کا بنیادی ہدف ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خزانہ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں۔ صنعتی پیداوار میں اضافے کے ثبوت کے طور پر بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) کے شعبے میں نمو کے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، جن کا تخمینہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) لگاتا ہے۔
صنعت کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 18.14 فیصد ہے، جبکہ زراعت کا حصہ 23.44 فیصد ہے۔ تاہم، زرعی شعبے میں فصلوں کے مقابلے میں مویشی بانی کا حصہ کہیں زیادہ ہے؛ مویشی بانی زراعت کا 62.45 فیصد، جبکہ فصلیں 17.32 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ ان دونوں شعبوں سے آگے خدمات کا شعبہ ہے، جس کا حصہ 8.42 فیصد ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ تھوک اور پرچون تجارت کا ہے، جو کھپت کی عکاسی کرتا ہے۔
اگست 2026ء میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کا مقداری اشاریہ، جس کا بنیادی سال 2015ء ہے، اگست 2025ء کے مقابلے میں 0.67 فیصد بڑھا، تاہم جولائی 2026ء کے مقابلے میں اس میں نمایاں طور پر 4.96 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی سالانہ شرحِ نمو کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
اول، مالی سال 2021-22ء میں صنعتی پیداوار 11.7 فیصد بڑھی۔ یہ اس وقت کی حکومت کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ کووڈ 19 سے متعلق پابندیاں نرم ہونے کے بعد کھپت میں اضافہ ہوا اور ذخائر میں کمی کے نتیجے میں پیداوار کی شرحِ نمو بلند رہی۔
دوم، مالی سال 2022-23ء میں صنعتی پیداوار میں 10.3 فیصد کمی ہوئی۔ اس کی ذمہ داری پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) پر عائد ہوتی ہے، جو اپریل 2022ء میں اقتدار میں آئی۔ اس حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم ہونے کے باوجود روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کی پالیسی جاری رکھی۔ اس کے نتیجے میں شرحِ مبادلہ کے متعدد نرخ وجود میں آئے، جن کے باعث سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی آمد میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔
اس پر مستزاد یہ کہ اس وقت کی حکومت نے تباہ کن سیلاب کے باعث 3 کروڑ پاکستانیوں کے بے گھر ہونے کے باوجود برآمد کنندگان کو 110 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں آئی ایم ایف کا جاری پروگرام معطل ہوگیا۔
سوم، مالی سال 2023-24ء میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو گر کر 0.9 فیصد رہ گئی۔ گزشتہ سال کی انتہائی کم شرحِ نمو کو مدنظر رکھا جائے تو یہ اضافہ بھی کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
چہارم، مالی سال 2025-26ء میں صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو 4.98 فیصد بتائی گئی، تاہم ٹیکسٹائل شعبے نے اس اعداد و شمار کو چیلنج کیا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ٹیکسٹائل کا صنعتی پیداوار میں وزن 18.16 فیصد ہے۔ اس شعبے کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے نے اسے علاقائی منڈیوں میں غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ اس دعوے کے ثبوت کے طور پر 150 سے زائد فیکٹریوں اور پیداواری یونٹس کی بندش کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس دعوے کی تائید نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے منفی بہاؤ سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار نجی شعبے کے قرضوں کی سب سے بڑی وصول کنندہ ہے۔ یکم جولائی 2026ء سے 11 ستمبر 2026ء تک نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کا خالص بہاؤ منفی 364.5 ملین روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ منفی 170 ملین روپے تھا۔
یہاں چار نکات قابلِ غور ہیں۔
اول، سب سے زیادہ نمو گاڑیوں کے شعبے میں ہوئی، جہاں جولائی اور اگست 2026ء کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 32.45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان میں گاڑیاں زیادہ تر پرزے جوڑ کر تیار کی جاتی ہیں اور کمپنیاں ان پرزوں کے لیے اپنے مرکزی دفاتر سے درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ اس تناظر میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں گاڑیوں کو دیا گیا 3.1 فیصد وزن شاید کچھ زیادہ ہے، بالخصوص اس لیے کہ اس سے درآمدات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
دوم، پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی پیداوار میں 15.48 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں اس شعبے کا وزن 6.66 فیصد ہے۔ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور حالیہ عرصے میں عالمی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ممکن ہے کہ پیداوار میں یہ اضافہ دراصل قیمتیں بڑھنے کا نتیجہ ہو، نہ کہ حقیقی پیداوار میں اضافے کا۔
سوم، ملبوسات کے شعبے میں 16.69 فیصد نمو ہوئی، جبکہ صنعتی پیداوار میں اس کا وزن 6.08 فیصد ہے۔ یہاں بھی اضافے کی وجہ قیمتوں میں بڑھوتری ہوسکتی ہے، کیونکہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں پیداواری لاگت بڑھنے سے فیکٹریاں مسلسل بند ہو رہی ہیں۔ چینی کی صنعت، جس کی ملکیت سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں 3.43 فیصد حصہ رکھتی ہے۔
چہارم، معاشی نمو کا تعلق ذخائر میں کمی سے بھی رہا ہے، جیسا کہ مالی سال 2021-22ء میں واضح طور پر دیکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ خریدار مارکیٹ مستحکم ہونے تک خریداری مؤخر کردیتے ہیں یا پھر جب خریداری مزید ملتوی کرنا ممکن نہیں رہتا، تو اشیا خرید لی جاتی ہیں؛ مثال کے طور پر گاڑیوں میں خرابی بڑھنے کے بعد نئی گاڑی خریدنا ضروری ہوجاتا ہے۔
ان چار شعبوں میں کام کرنے والوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ یہ طبقات پالیسی سازوں پر خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور پیداوار، برآمدات اور معاشی نمو بڑھانے کے نام پر مالیاتی مراعات، ٹیکسوں میں رعایتوں اور محصولات پر سبسڈی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، آئی ایم ایف نے 10 اکتوبر 2024ء کی اپنی رپورٹ میں ان مطالبات پر سخت تنقید کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق:
”سبسڈی، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباری اداروں کی معاونت نے متحرک اور بیرونی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس تمام معاونت کے باوجود کاروباری شعبہ معاشی نمو کا محرک بننے میں ناکام رہا، جبکہ مراعات نے بالآخر مسابقت کو کمزور کیا اور وسائل کو مستقل طور پر غیر مؤثر صنعتوں، بشمول نام نہاد نوزائیدہ صنعتوں، میں جکڑ دیا۔“
زراعت اب بھی موسمی حالات پر منحصر ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید دباؤ کا شکار پاکستان میں اس شعبے کی شرحِ نمو بلند اہداف حاصل نہیں کر سکی۔
یہ درست ہے کہ بڑے زمینداروں کو سرمائے، جدید مشینری، معیاری زرعی مداخل اور ادارہ جاتی قرضوں تک بہتر رسائی حاصل ہونے کے باعث فی ہیکٹر پیداوار قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود امیر زمینداروں سے اسی شرح پر انکم ٹیکس وصول کرنا، جس شرح سے ان کے مقابلے میں کہیں کم آمدن رکھنے والے تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لیا جاتا ہے، اب بھی ایک مشکل کام بنا ہوا ہے۔
آئی ایم ایف کی یہ شرط کہ امیر زمینداروں کی آمدن پر زرعی ٹیکس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے اور پھر اس پر عمل درآمد بھی ہو، تاحال تسلی بخش طور پر پوری نہیں کی گئی۔ آئین کے تحت زرعی ٹیکس صوبائی معاملہ ہے۔
آئی ایم ایف نے 2024ء میں اپنے جائزے میں کہا تھا:
”ٹیکس نظام کو مراعات یافتہ شعبوں، مثلاً رئیل اسٹیٹ، زراعت، صنعت اور توانائی کو ٹیکس سے استثنیٰ دے کر غیر شفاف انداز میں معاونت فراہم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) کی تعداد میں اضافے نے بھی اس عمل کو تقویت دی ہے۔“
رپورٹ کے مطابق زرعی اجناس، ایندھن، بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین میں حکومتی مداخلت، نیز بلند درآمدی محصولات اور غیر محصولاتی پابندیوں نے مخصوص گروہوں اور شعبوں کے حق میں مسابقتی ماحول کو یک طرفہ بنا دیا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعات دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اشیائے ضروریہ کی برآمدات کا جائزہ لینے کے لیے اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اجلاس میں ہدایت کی کہ رکاوٹیں دور کرکے فاضل اجناس کی برآمدات میں سہولت فراہم کی جائے۔
تاہم، یہ ہدایت برآمدات کے لیے اشیا کی پیداوار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی بلکہ صرف فاضل پیداوار برآمد کرنے تک محدود ہے، جیسا کہ اس وقت ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسی زیادہ قدر والی برآمدی مصنوعات کی تیاری کی طرف پیش رفت بھی رکی رہے گی جو فی الحال بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کے زمرے میں شامل نہیں ہیں۔
آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ ان سرگرمیوں کو روکا جائے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو حکومت کو مالیاتی گنجائش میں خاطر خواہ اضافہ حاصل ہوسکتا ہے، جس سے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اصلاحات شروع کرنے کا وقت ملے گا۔ ان اصلاحات کا مقصد بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرکے براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ بڑھانا ہے، کیونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے، جبکہ براہِ راست ٹیکس ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق عائد کیے جاسکتے ہیں۔
مزید برآں، آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ مختلف شعبوں، بالخصوص زرعی اور غیر زرعی شعبوں، کے درمیان پیداواری صلاحیت میں نمایاں اور مسلسل فرق کے باوجود وسائل نسبتاً کم پیداواری شعبوں سے زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل نہیں ہوئے۔ بالخصوص 1990ء کے بعد سے پاکستان میں ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں میں زرعی روزگار کے حصے میں کمی کی شرح سب سے کم رہی ہے۔
اسی طرح کم سرمایہ کاری، تحفظ پسند پالیسیوں اور کمزور مسابقت نے قابلِ تجارت اشیا کی پیداوار میں جدت کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں معیشت کی پیچیدگی کم ہوئی۔ ان عوامل نے پاکستان کے لیے ایسی زیادہ پیچیدہ مصنوعات کی تیاری کی طرف پیش رفت بھی روکی، جن کا تعلق ان اشیا سے ہے جو ملک پہلے ہی تیار کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تھوک اور پرچون تجارت اب بھی ملک میں معاشی نمو کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس حوالے سے ایک تشویش ناک پہلو آڑھتی کا کردار ہے، جو چھوٹے کسانوں اور اپنی گزر بسر کے لیے کاشت کاری کرنے والے کسانوں سے جلد خراب ہونے والی زرعی اجناس خریدتا ہے اور ماضی میں کسان کی جانب سے لیے گئے قرضوں پر سود کی رقم خریداری کے واجبات میں سے منہا کرلیتا ہے۔ اس طرح وہ غیر معمولی منافع کماتا ہے۔ دوسری جانب، مقامی طور پر تیار کردہ، درآمد شدہ اور اسمگل شدہ اشیائے صرف کی تجارت کرنے والے درمیانی تاجر بھی اسی نوعیت کے طریقے اپناتے ہیں۔
آخر میں، جب معیشت کے تین بڑے شعبوں میں ترقی کے ثمرات سے بنیادی طور پر اشرافیہ مستفید ہو رہی ہو تو معاشی نمو کے دعووں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی اب خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو اس صورت حال کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت معاشی ترقی کے اصل مستفید ہونے والوں کا جائزہ لے اور ایسی جامع پالیسیاں نافذ کرے جن کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک حقیقی معنوں میں پہنچیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026