✕
پاکستان

کورنگی صنعتی ایریا میں ترقیاتی کاموں کے نئے مرحلے کا آغاز، میئر مرتضیٰ وہاب

  • سندھ حکومت نے کراچی کے صنعتی علاقوں کی ترقی کے لیے 9.5 ارب روپے مختص کیے ہیں، خطاب
شائع اپ ڈیٹ

کراچی کے اہم اقتصادی اور صنعتی مراکز میں شمار ہونے والے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔

کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کورنگی انڈسٹریل ایریا کا دورہ کیا اور انفرااسٹرکچر کی بحالی کے متعدد منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا جن میں سیکٹر 23 میں سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے صنعتی علاقوں کی ترقی کے لیے 9.5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا کے لیے گرانٹ ایک ارب روپے سے بڑھا کر دو ارب روپے کر دی گئی ہے جبکہ پوری رقم ایک ہی قسط میں منتقل کر دی گئی ہے۔

انہوں نے سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے شاہراہِ بھٹو پر پولیس گشت شروع کرنے اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا اعلان کیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ صنعتی زونز اور کاروباری سرگرمیاں پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جبکہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں بحالی کے کام کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ دونوں کے لیے کراچی کا پورا شہر ترجیحی اہمیت رکھتا ہے۔

صنعتی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں کے لیے تقریباً 9.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ شہر بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔

میئر نے کہا کہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور شہری اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

شاہراہِ بھٹو پر ڈکیتی کے حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے صوبائی وزیرِ داخلہ سے رابطہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ شاہراہِ بھٹو کو عائشہ مسجد سے ملانے والے لوپ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جو تین ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد ٹریفک سگنل کے بغیر رواں دواں ہو سکے گی۔

میئر نے مزید کہا کہ کورنگی میں قبرستان کا منصوبہ زیرِ تکمیل ہے جبکہ شاہراہِ بھٹو کے ساتھ لنک روڈ کی تعمیر بھی آخری مراحل میں ہے۔

ایم نائن انٹرچینج پر کام بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

ریڈ لائن منصوبے کے حوالے سے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ خود منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی کررہے ہیں جبکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔