انٹربینک مارکیٹ: ڈالر کے مقابلے روپے کی بہتری جاری
- ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 276.91 روپے پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا ہوگیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 276.91 روپے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 276.92 روپے پر بند ہوئی تھی۔
عالمی منڈی میں جمعہ کو امریکی ڈالر پانچ ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن رہا، جس کے نتیجے میں یورو کو 17 ماہ کی کم ترین سطح سے بحالی کا موقع ملا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری سے متعلق خدشات اور امریکی بانڈز کی شرح منافع میں کمی نے ڈالر کی حالیہ تیزی کی رفتار روک دی۔
ایشیا میں جمعہ کی صبح کرنسیوں کی قدر میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے بعد ڈالر اس ہفتے اب تک 0.2 فیصد گر کر 158.13 ین پر آگیا جبکہ یورو کے مقابلے میں اس کی قدر تقریباً 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1210 ڈالر رہی۔
ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران 3 فیصد سے زیادہ قدر کھونے والے یورو کے لیے یہ بحالی بروقت ثابت ہوئی۔ اس عرصے میں فرانس کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور موسم سرما میں توانائی کی قلت کے خدشات نے یورو پر دباؤ بڑھایا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے ڈالر کی قدر بڑھنے پر شرط لگا رکھی ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے حوالے سے خدشات مزید بڑھتے ہیں تو ڈالر میں تیزی کی یہ پوزیشنیں ختم ہوسکتی ہیں، جس سے امریکی کرنسی کی قدر میں مزید کمی کا امکان ہے۔
ڈالر انڈیکس 102.07 پر رہا اور اس ہفتے اس میں 0.14 فیصد کمی متوقع ہے۔ برطانوی پاؤنڈ 1.3270 ڈالر پر مستحکم رہا اور ہفتہ وار بنیاد پر 0.3 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔ برطانوی معیشت کے اگست میں غیر متوقع طور پر 0.1 فیصد بڑھنے کے اعداد و شمار سے پاؤنڈ کو سہارا ملا۔
نیوزی لینڈ کا ڈالر 0.5621 امریکی ڈالر پر رہا اور اس ہفتے تقریباً 0.1 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا، تاہم وہ دیگر بڑی کرنسیوں کے برعکس اس ہفتے ڈالر کے مقابلے میں 0.8 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔ جمعرات کو روزگار کے توقع سے کمزور اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ نے شرح سود میں ایک اور اضافے کے امکانات کو کم کرکے دیکھا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش جمعہ کو بینکاک میں آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر گرینچ معیاری وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 30 منٹ پر خطاب کریں گے۔ یہ خطاب دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہونے والے فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے سے قبل مارکیٹ کی توقعات پر اثرانداز ہونے کا آخری اہم موقع ہوگا۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے امکانات سے متعلق تاجروں کی توقعات بڑھ کر 72 فیصد ہوگئی ہیں، جو ایک ماہ قبل 53 فیصد تھیں۔