حکومت سے الیکٹرک چولہوں کے استعمال اور مقامی پیداوار کے فروغ کا مطالبہ
- پاکستان صاف ستھری سہولتوں کے ذریعے کھانا پکانے کے معاملے میں خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے، ماہرین
پاکستان کی صرف 51 فیصد آبادی کو کھانا پکانے کی صاف ستھری سہولتیں میسر ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر توانائی کے ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ درآمدی گیس، لکڑی اور دیگر روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے سستے الیکٹرک چولغوں کے استعمال اور مقامی سطح پر ان کی تیاری کو فروغ دیا جائے۔
سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کے مشترکہ اہتمام میں منعقدہ قومی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت اور اضافی بجلی کی دستیابی، کھانا پکانے کے لیے برقی آلات کے استعمال کی جانب منتقلی تیز کرنے کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
نیکا کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر جمشید علی نے کہا کہ پاکستان صاف ستھری سہولتوں کے ذریعے کھانا پکانے کے معاملے میں خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے۔ بھارت میں 80 فیصد سے زائد جب کہ بھوٹان میں 92.8 فیصد آبادی کو یہ سہولت حاصل ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں مؤثر پالیسیوں، مالی معاونت کے طریقہ کار اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ بایوماس، یعنی لکڑی اور دیگر حیاتیاتی ایندھن کے استعمال سے دیہی گھرانوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو مضر دھوئیں اور آلودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ شہری علاقوں میں گیس کی قلت برقرار ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سردیوں میں بجلی کے استعمال کے لیے مراعات متعارف کرائی جائیں اور سستے الیکٹرک چولہوں کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
یو این ای ایس سی اے پی کی فادیہ احمدی نے کہا کہ دنیا بھر میں گھریلو فضائی آلودگی کے باعث ہر سال تقریباً 29 لاکھ افراد کی قبل از وقت موت واقع ہوتی ہے۔ گلوبل الیکٹرک کوکنگ کولیشن کی ایلیشیا بٹر فیلڈ نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کی تخمینہ شدہ 50 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت کھانا پکانے کے لیے بجلی کے استعمال کی جانب بڑے پیمانے پر منتقلی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ ملک بھر میں کھانا پکانے کے صاف ستھرے طریقوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سستے برقی آلات، صارفین میں آگاہی اور حکومتی مراعات ضروری ہیں۔