✕
اداریہ

گنجائش سے زیادہ بھری جیلیں،انصاف سے انکار

  • ملک کی جیلوں میں تقریباً 68 ہزار 832 قیدیوں کی مجاز گنجائش کے مقابلے میں 110 ہزار 513 قیدی موجود ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی گنجائش سے زیادہ قیدیوں سے بھری جیلیں محض انتظامی ناکامی کی عکاسی نہیں کرتیں بلکہ انصاف اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سنگین بحران کی نشاندہی کرتی ہیں۔

جیلوں کے سالانہ اعداد و شمار کی رپورٹ 2026 کے مطابق ملک کی جیلوں میں تقریباً 68 ہزار 832 قیدیوں کی مجاز گنجائش کے مقابلے میں 110 ہزار 513 قیدی موجود ہیں، جس کے باعث جیلیں اپنی مقررہ گنجائش کے 160 فیصد سے بھی زیادہ پر کام کر رہی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان قیدیوں میں سے 75 فیصد مقدمات کی سماعت اور فیصلے کے منتظر ہیں۔ یہ اعداد و شمار فوری اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ ہر عدد کے پیچھے ایک انسان موجود ہے، جس کی آزادی، وقار اور مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

اس بحران کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو طویل عرصے تک قید رکھنا ہے۔

انصاف کے اصول کے تحت ہر ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہوجائے۔ اس کے باوجود ہزاروں افراد مہینوں بلکہ برسوں تک سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں، کیونکہ ان کے مقدمات عدالتی نظام میں سست روی سے آگے بڑھتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے عدالت کی جانب سے جرم ثابت کیے جانے سے بہت پہلے ہی سزا کا آغاز ہوجاتا ہے۔

ممکن ہے کہ ان میں سے بعض افراد کو بالآخر بری کردیا جائے، لیکن اس وقت تک وہ طویل اذیت، سماجی بدنامی اور معاشی مشکلات برداشت کرچکے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی عدالتی فیصلہ ان کے ضائع ہونے والے وقت، متاثرہ صحت، درہم برہم خاندانی زندگی یا دورانِ حراست قربان کیے جانے والے روزگار کے مواقع واپس نہیں لاسکتا۔

جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایسے حالات بھی پیدا کرتی ہے جو قیدیوں کے بنیادی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ رہائش کے لیے ناکافی جگہ، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی کمی، صحت کی ناکافی سہولیات اور متعدی بیماریوں سے متاثر ہونے کے خطرات قیدیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔

بھیڑ بھاڑ سے بھرے ایسے مراکز میں، جہاں وسائل اور نگرانی کے انتظامات اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ دباؤ کا شکار ہوں، تشدد، استحصال اور ذہنی اذیت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ قید کا ایک اہم مقصد، یعنی قیدیوں کی اصلاح اور بحالی، اس وقت مزید مشکل ہوجاتا ہے جب انہیں تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، مشاورت اور دیگر تعمیری سرگرمیوں تک رسائی حاصل نہ ہو۔

خواتین اور بچوں کے حوالے سے صورت حال خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ دورانِ حراست انہیں مخصوص نوعیت کے خطرات اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کہ قید بچوں میں سے 86.2 فیصد مقدمات کی سماعت اور فیصلے کے منتظر ہیں، اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ بچوں کی زندگیوں کو حراست کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

طریقۂ کار میں تاخیر کے باعث بچوں کو اپنی تعلیم، جذباتی تحفظ اور اصلاح و بحالی کے امکانات سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح قید خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافے کے پیش نظر صنفی ضروریات کو مدنظر رکھنے والی پالیسیوں اور جہاں مناسب ہو، جیل میں قید رکھنے کے بجائے متبادل اقدامات کے وسیع تر استعمال کی ضرورت ہے۔

حکومت اور عدلیہ کو جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کو فوجداری نظامِ انصاف کا ایک فوری حل طلب مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ ضمانت کے طریقۂ کار پر نظرثانی کی جانی چاہیے تاکہ غربت اس بات کا تعین نہ کرے کہ کون شخص جیل میں رہے گا۔ عدالتوں کو مقدمات کی سماعت اور فیصلوں میں تیزی لانے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے جانے چاہییں۔

رپورٹ کی سفارش کے مطابق، اہل ملزمان کے لیے پروبیشن (نگرانی میں رہائی)، پیرول، متبادل قانونی طریقۂ کار اور قید کے دیگر متبادل اقدامات کے استعمال کو وسعت دینے سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ منشیات سے متعلق جرائم کے مقدمات میں بھی استغاثہ اور سزا دینے کی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ قید ضروری بھی ہو اور جرم کی نوعیت کے لحاظ سے متناسب بھی۔

انصاف کا مطلب صرف مجرم ثابت ہونے والوں کو سزا دینا نہیں، بلکہ بے گناہوں کو غیر ضروری اذیت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔

برسوں جیل میں گزارنے کے بعد بری ہونے والا شخص نظام کی ناکامی کی بھاری اور ناقابلِ تلافی قیمت ادا کرچکا ہوتا ہے۔

لہٰذا، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کو کم کرنا محض جیلوں کے انتظامی امور کو بہتر بنانے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ آئینی ضمانتوں پر عمل درآمد، انسانی وقار کے تحفظ اور نظام کی ناکامیوں کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔ بالخصوص مقدمات کے فیصلے سے قبل طویل حراست اور عدالتی کارروائی میں تاخیر جیسی خامیوں کو روکنا ضروری ہے، تاکہ فوجداری نظامِ انصاف خود ناانصافی کا ذریعہ نہ بن جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026