آسٹریلیا نے پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 421 رنز کا مشکل ہدف دے دیا
- پہلی اننگز میں رینشا کے 190 رنز کی بدولت آسٹریلیا کو 106 رنز کی برتری حاصل ہوئی
آسٹریلیا کے میٹ رینشا کی شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد ان کی ٹیم نے پیر کو پہلے ٹیسٹ کے چوتھے روز چائے کے وقفے پر 6 وکٹوں کے نقصان پر 314 رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کردی اور میزبان جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 421 رنز کا ہدف دے دیا۔
پہلی اننگز میں رینشا کے 190 رنز کی بدولت آسٹریلیا کو 106 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔ کوئنزلینڈ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ بیٹر نے کنگزمیڈ میں میزبان ٹیم کے بولرز کے خلاف عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ برقرار رکھا، تاہم کیشو مہاراج کی گیند پر کیچ اینڈ بولڈ ہونے کے متنازع فیصلے کے باعث ان کی اننگز ختم ہوگئی۔
رینشا آسٹریلیا کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر رہے۔ آسٹریلوی ٹیم نے رنز بنانے کی رفتار تیز کرنے کی کوشش کی تاکہ جنوبی افریقا کو دوبارہ بیٹنگ پر بھیجنے اور ایک روز باقی رہتے ہوئے فتح کے لیے درکار تمام 10 وکٹیں حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
رینشا، جو اپنی گزشتہ 15 ٹیسٹ اننگز میں کوئی نمایاں اسکور نہیں بنا سکے تھے، اپنی وکٹ گرنے کے انداز پر خاصے ناخوش دکھائی دیے۔ کیشو مہاراج نے کیچ پکڑنے کی کوشش میں گیند کو کئی بار سنبھالا، جو بظاہر زمین پر گرتی دکھائی دے رہی تھی، تاہم انہوں نے بالآخر کیچ تھامنے کا دعویٰ کیا۔ ٹی وی ریویو کے بعد رینشا کو آؤٹ قرار دے دیا گیا۔
آسٹریلیا نے چوتھے روز کھیل کا آغاز بغیر کسی نقصان کے 33 رنز سے کیا اور پہلے سیشن میں تیز رفتاری سے 141 رنز بنائے، تاہم اس دوران اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ دوپہر کے سیشن میں ٹیم نے مزید 140 رنز کا اضافہ کیا۔
اوپنر نک میڈنسن، جنہوں نے ایک دہائی بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر پہلی اننگز میں کوئی رن نہیں بنایا تھا، نے جارحانہ شاٹس کھیلے، لیکن اینرک نورکیا نے انہیں 48 رنز پر بولڈ کردیا۔ بیو ویبسٹر نے ناٹ آؤٹ 39 رنز بنائے، جبکہ کپتان پیٹ کمنز نے صرف 12 گیندوں پر چار چھکوں کی مدد سے برق رفتار 32 رنز کی اننگز کھیلی۔
آسٹریلوی اننگز کے آغاز میں ٹریوس ہیڈ کے 11 رنز اور مارنس لبوشین کے مزید 37 رنز انفرادی طور پر ان کے لیے زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم لبوشین نے اسٹیو اسمتھ (27 رنز) کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 53 رنز کی شراکت قائم کرکے رنز بنانے کی رفتار تیز کی اور آسٹریلیا کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔
جنوبی افریقا کو شکست سے بچنے اور کپتان ٹیمبا باووما کے مسلسل 12 ٹیسٹ میچوں میں ناقابلِ شکست ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے حوصلہ مندانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ابتدائی تینوں روز خراب روشنی کے باعث کھیل وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا تھا اور پیر کو بھی وقت سے پہلے کھیل ختم ہونے کا امکان ہے۔