مسابقتی ماحول ملے تو ٹیکسٹائل برآمدات میں مزید 3 ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے، اپٹما
- آئندہ دو سے تین برسوں میں مزید 10 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے، اسد شفیع
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے نو منتخب چیئرمین اسد شفیع نے کہا ہے کہ اگر ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کیا جائے تو رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات میں مزید 3 ارب ڈالر اور آئندہ دو سے تین برسوں میں مزید 10 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسد شفیع نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح حکومت اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ویلیو ایڈڈ برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہوگی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں فائبر سے فیشن تک ٹیکسٹائل کی مکمل ویلیو چین موجود ہے جس میں اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ، فنشنگ، گارمنٹس، اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل کے شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپٹما کا مقصد اس ملکی ویلیو چین کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے زیادہ تیار شدہ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرنا ہوگا، کیونکہ مقامی خام مال اور ان پٹس کا زیادہ استعمال روزگار، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کا زیادہ حصہ ملک میں برقرار رکھنے کا باعث بنتا ہے۔
نو منتخب چیئرمین اسد شفیع نے مزید کہا کہ پاکستان اس حوالے سے پہلے ہی پیش رفت کر چکا ہے اور اب ٹیکسٹائل کی 80 فیصد سے زائد برآمدات ویلیو ایڈڈ صارف مصنوعات، مثلاً اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل، پر مشتمل ہیں۔