✕
رائے

جب ریاست ٹیکس دہندہ کی مقروض ہو: اعتماد کا سوال

  • اگر رقم قانوناً کبھی واجب ہی نہیں تھی تو اسے واپس کرنا کوئی رعایت نہیں؛ تاہم اسے واپس کرنے کا طریقہ ایک اہم پیغام دے سکتا ہے: ٹیکس دہندہ اور ریاست کا تعلق یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے۔
شائع اپ ڈیٹ

ہر ستمبر میں، جب سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا وقت آتا ہے، ایک دوست مجھے فون کرتا ہے۔ بہت سے ٹیکس دہندگان کی طرح وہ بھی سال میں صرف ایک مرتبہ انکم ٹیکس کے بارے میں سوچتا ہے، جب اسے اپنا ریٹرن جمع کرانا ہوتا ہے۔ اس کے سوالات عموماً سادہ ہوتے ہیں، اگرچہ ان کے جوابات اکثر بڑے مسائل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس سال اس نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 7 ای کے بارے میں پوچھا۔

ٹیکس قوانین سے ناواقف قارئین کے لیے واضح رہے کہ دفعہ 7 ای 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت مقیم افراد کی ملکیت میں موجود بعض غیر منقولہ جائیدادوں پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا گیا۔ اس کے تحت جائیداد سے ’’مفروضہ آمدن‘‘ تصور کی گئی؛ یعنی اگر کوئی متعلقہ جائیداد حقیقی طور پر کوئی آمدن پیدا نہ بھی کرتی ہو، قانون اس کی مالیت کی بنیاد پر آمدن تصور کرتے ہوئے اس پر ٹیکس عائد کرتا تھا۔ ابتدا ہی سے متنازع رہنے والی اس شق کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔ میرے دوست جاننا چاہتا تھا کہ آخرکار اس کا کیا فیصلہ ہوا۔

میں نے اسے بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے دفعہ 7 ای کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا اور قرار دیا کہ یہ ابتدا ہی سے باطل تھی۔ اس کا فوری سوال تھا: ’’پھر ان گزشتہ برسوں میں جو ٹیکس میں نے ادا کیا، اس کا کیا ہوگا؟‘‘ یہی سادہ سا سوال ایک طویل گفتگو کا سبب بن گیا۔

اگر ٹیکس واجب الادا ہی نہیں تھا تو کیا وہ رقم واپس نہیں ہونی چاہیے؟

اصولی طور پر، ایسی شق کے تحت ادا کی گئی رقم، جسے اب ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے، واپس آنی چاہیے۔

’’تو کیا مجھے رقم واپس مل جائے گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’اصولی طور پر ہاں،‘‘ میں نے جواب دیا، پھر اسے طریقہ کار سمجھایا۔ اگر دفعہ 7 ای کی ٹیکس واجبیت پہلے جمع کرائے گئے ایسے ریٹرن میں شامل تھی جس میں بعد میں ترمیم نہیں کی گئی، تو ٹیکس دہندہ کو پہلے اپنی ٹیکس پوزیشن درست کرنا پڑ سکتی ہے، مثلاً ریٹرن میں ترمیم کے لیے اجازت طلب کرکے یا، جہاں کوئی حکم موجود ہو، تصحیح کی درخواست دائر کرکے۔ اس کے بعد بننے والے ریفنڈ کا دعویٰ کرنا اور اسے پراسیس کرانا ہوگا، جبکہ یہ رقم کسی بقایا ٹیکس واجبیت کے خلاف ایڈجسٹ بھی کی جاسکتی ہے۔

’’اس میں کتنا وقت لگے گا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

میں نے پُرامید جواب دیا: ’’اگر سب کچھ تیزی سے آگے بڑھے تو شاید چند ماہ۔‘‘

وہ مسکرایا، جیسا کہ ٹیکس ماہرین کی جانب سے ’’اگر سب کچھ تیزی سے آگے بڑھے‘‘ سن کر ٹیکس دہندگان اکثر مسکراتے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا حکومت اس رقم پر، جو برسوں سے اس کے پاس رہی، کوئی منافع یا معاوضہ بھی ادا کرے گی؟ ٹیکس قانون میں ایسی صورت میں معاوضے کی گنجائش موجود ہے جب واجب الادا ریفنڈ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ادا نہ کیا جائے۔ تاہم مشکل یہ طے کرنے میں ہے کہ قانونی طور پر ریفنڈ کب ’’واجب الادا‘‘ قرار پاتا ہے؛ معاوضے کا آغاز لازماً اس تاریخ سے نہیں ہوتا جب اصل رقم ادا کی گئی تھی۔

یہیں سے اس کا تجسس ایک اور سمت میں چلا گیا۔

لیکن جب حکومت مقدمہ جیت جائے تو کیا ہوتا ہے؟

میرے دوست کو پھر سپر ٹیکس کا تنازع یاد آیا۔ وسیع مفہوم میں سپر ٹیکس مخصوص آمدنی کی حد سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر عائد کیا جانے والا اضافی انکم ٹیکس ہے۔ بعض گزشتہ ادوار اور حتمی ٹیکس کے دائرے میں آنے والی آمدنی پر اس کے اطلاق کے باعث بڑے پیمانے پر مقدمات سامنے آئے۔ ٹیکس دہندگان نے اس ٹیکس کے مختلف پہلوؤں کو چیلنج کیا، تاہم بنیادی آئینی تنازع کا فیصلہ بالآخر بڑی حد تک ریاست کے حق میں ہوا۔

وہ ہماری سابقہ گفتگو کے ذریعے اس معاملے کے بعض حصوں سے واقف تھا۔

’’جب حکومت جیتی تو کیا اس نے ٹیکس دہندگان کا انتظار کیا کہ وہ اپنی مرضی سے ادائیگی کریں؟‘‘

ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا۔ جب ٹیکس قانونی طور پر قابل وصول ہوجاتا ہے تو ریاستی مشینری اس کی وصولی کے لیے حرکت میں آجاتی ہے: مطالبات نافذ کیے جاتے ہیں، ادائیگیوں کا تقاضا کیا جاتا ہے اور تاخیر مزید نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جن میں ڈیفالٹ سرچارج کا معاملہ بھی شامل ہے۔

پھر اس نے بنیادی سوال کیا:

’’اگر حکومت جیتے تو وہ اپنی رقم فوری چاہتی ہے، لیکن اگر ٹیکس دہندہ جیت جائے تو اسے اپنی ہی رقم واپس لینے کے لیے ایک اور عمل سے کیوں گزرنا پڑتا ہے؟‘‘

اس کے قانونی جوابات موجود ہیں، لیکن دراصل وہ انصاف کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔

جائیداد کا ایک پرانا معاہدہ یاد آگیا

اس کے سوال نے مجھے برسوں پہلے کے ایک جائیداد کے لین دین کی یاد دلائی۔ ایجنٹ نے فروخت کا ایک معاہدہ پیش کیا تو فروخت کنندہ کو محسوس ہوا کہ اس میں خریدار کے تقریباً ہر حق کا تحفظ کیا گیا ہے: خریدار کی ذمہ داریاں، عدم تکمیل کی صورت میں نتائج اور خریدار کے لیے حفاظتی اقدامات سب کچھ اس میں درج تھا۔

اس نے پوچھا: ’’یہ کیسا معاہدہ ہے؟ ہر چیز خریدار کے تحفظ کے لیے ہے۔ فروخت کنندہ کا کیا ہوگا؟‘‘

اس کی بے چینی ایک سادہ اصول کی عکاسی کرتی تھی: کوئی معاہدہ اس وقت تک اعتماد پیدا نہیں کرسکتا جب اس کے تحفظات، ازالے اور ذمہ داریاں بنیادی طور پر یک طرفہ ہوں۔ ایک پائیدار انتظام میں دونوں فریقوں کے جائز حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن ہونا چاہیے۔

یہی اصول ٹیکس کے معاملے پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو شہری اور ریاست کے درمیان وسیع تر سماجی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ ٹیکس دہندگان ریاست کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ قانونی ٹیکس عائد کرے، معلومات طلب کرے، ریٹرنز کی جانچ کرے اور واجب الادا ٹیکس وصول کرے۔ اس کے بدلے اگر ریاست یہ توقع رکھتی ہے کہ اس کی رقم واجب ہونے پر فوری ادا کی جائے، تو ٹیکس دہندگان بھی بجا طور پر یہ توقع کرسکتے ہیں کہ جو رقم واجب ہی نہیں تھی، اسے واپس کرنے میں بھی اتنی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ بصورت دیگر یہ تعلق اسی یک طرفہ جائیداد کے معاہدے سے مشابہ ہوجاتا ہے۔

بیس سال سے زائد عرصے بعد بھی یاد رہنے والا ایک معمولی ریفنڈ

ایک اور یاد تازہ ہوگئی۔ میں نے اپنی پہلی ملازمت کے دوران تقریباً 2003 میں اپنا پہلا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرایا تھا اور اس میں معمولی رقم ریفنڈ بن رہا تھا۔ مجھے بار بار ٹیکس دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑے اور نہ ہی درخواستوں کا سلسلہ جمع کرانا پڑا۔ نسبتاً مختصر عرصے کے بعد ریفنڈ واؤچر میرے پتے پر پہنچ گیا۔

دو دہائیاں گزرنے کے باوجود مجھے وہ واؤچر آج بھی یاد ہے، حالانکہ اس وقت میں ’’ٹیکس مورال‘‘، ’’طریقہ کار میں مساوات‘‘ یا ٹیکس دہندہ اور ریاست کے تعلق جیسے الفاظ میں نہیں سوچتا تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اس واؤچر میں یہ تینوں تصورات موجود تھے۔

نظام نے یہ تسلیم کیا کہ میں نے ضرورت سے زیادہ رقم ادا کی تھی اور زائد رقم واپس کردی۔ ٹیکس نظام میں داخل ہونے والے ایک شخص کے لیے یہ ایک مؤثر پیغام تھا: متعلقہ ادارہ صرف وصولی کے لیے موجود نہیں، بلکہ جو رقم واجب نہیں تھی، وہ واپس بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد سے میں مسلسل ٹیکس نظام کا حصہ ہوں۔

ایک معمولی ریفنڈ کو دو دہائیوں پر محیط ٹیکس تعمیل کی واحد وجہ قرار دینا مبالغہ ہوگا۔ تاہم ایسے تجربات اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ لوگ اداروں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ٹیکس مورال صرف اپیلوں، جرمانوں، آڈٹ یا قانونی کارروائی سے نہیں بنتا؛ یہ عملی تجربات سے پروان چڑھتا ہے۔

ازخود ریفنڈ ایڈجسٹ کرنے کا تنازع

ہماری ٹیکس تاریخ اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ ٹیکس دہندگان بعض اوقات گزشتہ برسوں کے ریفنڈ کو بعد کے ریٹرن میں واجب الادا ٹیکس کے مقابل ایڈجسٹ کرتے رہے ہیں۔ حکام نے اس عمل پر اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ریٹرن میں ظاہر کردہ ریفنڈ کو ایڈجسٹ کرنے سے پہلے مقررہ طریقہ کار کے تحت اس کی باضابطہ طور پر تصدیق اور تعین ضروری ہے۔

ٹیکس دہندگان کا مؤقف ہے کہ جہاں ریفنڈ متنازع نہ ہو، وہاں حکومت کے پاس گزشتہ ریفنڈ کی رقم موجود ہونے کے باوجود دوبارہ ادائیگی کا تقاضا کرنا عملی طور پر زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

اس معاملے پر مقدمات بھی ہوئے ہیں اور ان کے نتائج مختلف رہے ہیں۔ میں یہاں اس تنازع کو دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہتا، تاہم اس سے دفعہ 7 ای کے معاملے میں ایک ممکنہ حل ضرور سامنے آتا ہے: ٹیکس دہندگان کو ازخود ایڈجسٹمنٹ کرنے اور نئے تنازعات کو جنم دینے پر مجبور کرنے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ خود تصدیق شدہ رقوم ان کے لیے دستیاب کیوں نہیں کرسکتی؟

ستمبر ایک موقع فراہم کرتا ہے

وقت بھی اہم ہے۔ افراد 30 ستمبر کو ٹیکس سال 2026 کے ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی ٹیکس واجبیت کا حساب لگا کر واجب الادا رقم ادا کریں گے، جبکہ بعض کے پاس اب بھی وہ رقم ریاست کے پاس موجود ہوسکتی ہے جو انہوں نے دفعہ 7 ای کے تحت ادا کی تھی، جسے اب ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دیا جاچکا ہے۔

دونوں کو باہم منسلک کیوں نہ کیا جائے؟

ایف بی آر کے پاس پہلے ہی ضروری معلومات کا بڑا حصہ موجود ہے: کس شخص نے دفعہ 7 ای کے تحت ٹیکس واجبیت ظاہر کی، کتنی رقم ظاہر کی اور، زیادہ تر معاملات میں، آیا یہ رقم ادا بھی کی گئی یا نہیں۔

ہر ٹیکس دہندہ کو ریٹرن میں ترمیم، ریفنڈ کی درخواست اور اس کے بعد پیروی کے مراحل سے گزارنے کے بجائے ایف بی آر ایک خصوصی طریقہ کار وضع کرسکتا ہے۔ سادہ اور تصدیق شدہ معاملات میں وہ رقم کا تعین کرکے اسے ٹیکس دہندہ کے آن لائن اکاؤنٹ میں کریڈٹ کے طور پر ظاہر کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ٹیکس دہندہ موجودہ ریٹرن کے ساتھ واجب الادا ٹیکس کے مقابل اس تسلیم شدہ کریڈٹ کو استعمال کرسکے گا۔

یہ ازخود کیا جانے والا دعویٰ نہیں ہوگا، بلکہ ریاست خود اس رقم کی تصدیق اور اسے تسلیم کرچکی ہوگی۔

اس سے ریاست کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے

یہ حکومت کے لیے بھی عملی اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔ دفعہ 7 ای کے تحت ادا کی گئی تمام رقوم نقد واپس کرنے سے سرکاری نقد بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے۔ تاہم جہاں یہی ٹیکس دہندہ موجودہ سال کا ٹیکس ادا کرنے کا بھی پابند ہو، وہاں دفعہ 7 ای کے تحت تصدیق شدہ کریڈٹ کو موجودہ واجبیت کے مقابل ایڈجسٹ کرنا فوری ریفنڈ چیک جاری کیے بغیر تقریباً وہی نتیجہ حاصل کرسکتا ہے۔

مثلاً اگر کسی ٹیکس دہندہ نے دفعہ 7 ای کے تحت 200,000 روپے ادا کیے تھے اور اب اس پر 500,000 روپے ٹیکس واجب الادا ہے تو ایف بی آر سابقہ 200,000 روپے کو تسلیم کرکے باقی 300,000 روپے وصول کرسکتا ہے۔

اس طرح نہ ازخود ایڈجسٹمنٹ پر کوئی تنازع ہوگا اور نہ ہی فوری نقد ریفنڈ کی ضرورت پڑے گی۔ سابقہ رقم کا تصفیہ ہوجائے گا، موجودہ ٹیکس واجبیت وصول ہوجائے گی اور، سب سے اہم بات، ٹیکس دہندہ کو ایسا نظام نظر آئے گا جو دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی کو بھی دونوں سمتوں میں کام کرنا چاہیے

یہ بات ٹیکس انتظامیہ میں ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال کے بارے میں ایک سوال بھی اٹھاتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کو عموماً نفاذ اور نگرانی کے ایک ذریعے کے طور پر زیر بحث لایا جاتا ہے: یہ تضادات کی نشاندہی، اثاثوں کا سراغ لگانے، لین دین کا تقابل کرنے، ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کا پتا چلانے اور نوٹس جاری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

لیکن اگر ٹیکنالوجی اس رقم کی نشاندہی کرسکتی ہے جو ٹیکس دہندہ نے ریاست کو دینی ہے تو اسے اس رقم کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے جو ریاست نے ٹیکس دہندہ کو دینی ہے۔ جو نظام ڈیمانڈ پیدا کرسکتا ہے، اسے کریڈٹ بھی پیدا کرنا چاہیے۔

ایف بی آر کے ڈیٹا کو صرف ذمہ داریاں نافذ کرنے کے لیے نہیں بلکہ حقوق کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

ہر معاملہ سادہ نہیں ہوگا

ہر معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوگا۔ بعض ٹیکس دہندگان پر بقایا مطالبات ہوسکتے ہیں، بعض کے معاملات میں ترمیم شدہ اسیسمنٹس یا زیر التوا کارروائیاں ہوسکتی ہیں، جبکہ کچھ معاملات میں ادائیگی کی تصدیق کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔

ایسے معاملات معمول کے طریقہ کار کے تحت نمٹائے جاسکتے ہیں۔ لیکن بعض معاملات کی پیچیدگی تمام معاملات کو پیچیدہ بنانے کا جواز نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں سادہ معاملات کی الیکٹرانک طور پر نشاندہی ممکن ہو، انہیں تیزی سے نمٹایا جانا چاہیے۔

طریقہ کار، اہلیت کی شرائط اور کریڈٹس یا ریفنڈز کے طریقہ کار پر ایف بی آر کا واضح سرکلر بھی غیر یقینی صورتحال کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اصل معاملہ طریقہ کار میں مساوات کا ہے

ٹیکس انصاف کی بحث عموماً اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ کون کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے، آیا مساوی آمدنی پر مساوی ٹیکس عائد ہونا چاہیے یا زیادہ استطاعت رکھنے والوں سے متناسب طور پر زیادہ ٹیکس لیا جانا چاہیے۔

تاہم طریقہ کار میں انصاف بھی اتنا ہی اہم ہے۔ لوگ کسی ناموافق نتیجے کو اس وقت زیادہ آسانی سے قبول کرسکتے ہیں جب انہیں طریقہ کار منصفانہ محسوس ہو۔ اس کے برعکس قانونی طور پر درست ٹیکس نظام بھی اپنی ساکھ کھو دیتا ہے اگر اس کے طریقہ کار مسلسل اسے چلانے والے ادارے کے حق میں جھکے ہوئے محسوس ہوں۔

اگر ریاست کے حق میں فیصلہ فوری وصولی کا باعث بنتا ہے جبکہ ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ محض ایک اور طویل عمل کا آغاز کرتا ہے تو تعلق غیر مساوی محسوس ہوتا ہے۔ قانون اس فرق کی وضاحت کرسکتا ہے، لیکن ٹیکس مورال اس عملی تجربے سے متاثر ہوتا ہے۔

معاشیات بھی دونوں سمتوں میں کام کرتی ہے

یہاں ایک معاشی اصول بھی کارفرما ہے۔ جب ٹیکس دہندہ حکومت کو واجب الادا رقم اپنے پاس رکھتا ہے تو ٹیکس قانون تاخیر کو مہنگا قرار دیتا ہے؛ یہی ایک وجہ ہے کہ ڈیفالٹ سرچارج عائد کیا جاتا ہے۔ رقم کی اپنی وقتی قدر ہوتی ہے۔

لیکن جب معاملہ الٹ ہو تو رقم اپنی قدر نہیں کھوتی۔ جس ٹیکس دہندہ نے ایسی رقم ادا کی جو قانوناً واجب ہی نہیں تھی، اس سے بھی اس رقم کے استعمال کا حق چھن گیا۔

کوئی کاروبار اسے اپنے ورکنگ کیپیٹل کے طور پر استعمال کرسکتا تھا، جبکہ کوئی فرد اسے سرمایہ کاری یا گھریلو اخراجات کے لیے استعمال کرسکتا تھا۔ قانون الگ سے یہ طے کرسکتا ہے کہ معاوضہ کب واجب ہوگا اور اس کی شرح کیا ہوگی۔ تاہم بنیادی نکتہ سادہ ہے: کسی دوسرے کی رقم اپنے پاس رکھنے کی لاگت صرف اس وقت اہم نہیں ہوسکتی جب ٹیکس دہندہ کے پاس حکومت کی رقم ہو۔

ہم کس قسم کا ٹیکس تعلق چاہتے ہیں؟

پاکستان کو ٹیکس آمدنی کی ضرورت ہے اور اس کی مالی مشکلات سنگین ہیں۔ ایک پائیدار نظام ان افراد کو، جن پر قانونی طور پر ٹیکس واجب ہے، محض اپنی مرضی سے ٹیکس سے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا؛ ٹیکس وصولی کے لیے مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔

لیکن عمل درآمد اور اعتماد ایک دوسرے کے متبادل نہیں۔ ایک بالغ ٹیکس نظام کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ ایف بی آر خود اس کی دفعہ 7 ای کے تحت سابقہ ادائیگی کو موجودہ ٹیکس واجبیت کے مقابل تسلیم کرسکتا ہے تو اس کا فوری جواب تھا:

’’اگر وہ خود یہ کام کردیں تو واقعی اچھا محسوس ہوگا۔‘‘

یہ الفاظ ٹیکس اصلاحات کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرتے ہیں جسے اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ حکومتیں لوگوں کو ٹیکس کی پابندی پر آمادہ کرنے کے لیے خاصی کوشش کرتی ہیں؛ انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ لوگوں کو ٹیکس کی پابندی جاری رکھنے پر کیا چیز آمادہ کرتی ہے۔

میرا 2003 کا ریفنڈ معمولی رقم کا تھا، لیکن دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بھی مجھے یاد ہے۔ دفعہ 7 ای اب ایف بی آر کو بڑے پیمانے پر اسی نوعیت کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ ٹیکس دہندگان کو معمول کے ریفنڈ کے دعووں کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔

قانونی طور پر شاید یہ کافی ہو۔ یا پھر اس غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایک وفاقی ٹیکس کئی برسوں تک وصول کیا گیا اور بعد ازاں اسے ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دے دیا گیا، ایف بی آر ایک واضح طریقہ کار جاری کرسکتا ہے، تصدیق شدہ ادائیگیوں کی نشاندہی کرسکتا ہے، موجودہ ٹیکس واجبیت کے مقابل مناسب ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دے سکتا ہے اور جہاں ایڈجسٹمنٹ ممکن نہ ہو وہاں نقد ریفنڈ کا عمل تیز کرسکتا ہے۔

اگر رقم قانوناً کبھی واجب ہی نہیں تھی تو اسے واپس کرنا کوئی رعایت نہیں۔ تاہم اسے واپس کرنے کا طریقہ ایک اہم پیغام دے سکتا ہے: ٹیکس دہندہ اور ریاست کا تعلق اس یک طرفہ جائیداد کے معاہدے جیسا نہیں ہونا چاہیے۔

ٹیکس دہندے کو معاہدے کے اپنے حصے کی پاسداری کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اپنے حصے کی۔ بعض اوقات رقم واپس کرنے سے اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز حاصل کی جاسکتی ہے: اعتماد۔