✕
رائے

برابر مواقع کا میدان

  • سرکاری اثاثوں میں سرمایہ کاری محض جانچ پڑتال سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ ایسی جانچ پڑتال سے ہوتی ہے جس کے دائرہ کار اور نتیجے کی پیش گوئی نہ کی جاسکے
شائع اپ ڈیٹ

پی آئی اے کی نجکاری پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے کیا طے کیا، سرکاری اثاثوں کی قیمت لگانے والوں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری جون 2026 میں مالیاتی اختتام تک پہنچ گئی۔ تجارتی شرائط، خریداری کی قیمت اور معاہدے کی تفصیلات پر آنے والے برسوں تک بحث ہوتی رہے گی۔ تاہم اس پیش رفت کا زیادہ دیرپا پہلو قانونی ہے اور پاکستانی سرکاری اثاثے کے لیے بولی دینے کا ارادہ رکھنے والے ہر شخص کو اسے سمجھنا چاہیے۔ ایسے لین دین کے لیے آئینی اور قانونی بنیاد اب گزشتہ دو دہائیوں کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور قابلِ پیش گوئی ہے۔

خطرہ سمجھے جانے والے چار بنیادی عوامل کیا تھے؟

ذرا تصور کریں کہ پانچ سال قبل کسی غیر ملکی بولی دہندہ کے قانونی مشیر نے پاکستان میں نجکاری کے عمل سے متعلق قانونی جانچ پڑتال کی رپورٹ کس طرح تیار کی ہوتی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت کسی اثاثے کو فروخت بھی کرسکتی ہے، اس کا جواب اعتماد سے دیا جاتا لیکن اس کے حق میں حوالہ دینے کے لیے بہت کم مواد موجود ہوتا۔

اگلا سوال یہ ہوتا کہ عدالت کس معاملے کا جائزہ لے گی اور اس کے لیے کون سا معیار اختیار کیا جائے گا۔ اس کا جواب واقعی غیر یقینی ہوتا۔

تیسرا سوال یہ ہوتا کہ نجکاری کے عمل کے دوران جمع کرائی گئی تجارتی لحاظ سے حساس معلومات کو کیا عدالت عوام کے سامنے لانے کا حکم دے سکتی ہے۔ اس کے جواب میں اُس وقت کے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ پاکستان کے ازخود نوٹس کے اختیارات کے حوالے سے محتاط رہنے کی تنبیہ کی جاتی۔

آخر میں یہ سوال ہوتا کہ لین دین سے براہ راست تعلق نہ رکھنے والے کسی شخص کے لیے اس عمل کو روکنے کے لیے کیا درکار ہوگا۔ جواب ہوتا: زیادہ کچھ نہیں۔ ملکیت کی منتقلی روکنے کے خواہش مند ناراض ملازمین کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواست، اگر اسے مداخلت پسند اور ہمدرد عدالت کی حمایت حاصل ہوجائے، تو حکمِ امتناع کے ذریعے اہم مرحلے پر عمل کو باآسانی روک سکتی تھی۔ یہ چاروں غیر یقینی عوامل ایسے تھے جنہیں بولی دہندہ اپنی پیشکش کی قیمت میں شامل کرتا ہے۔

مجموعی طور پر یہی عوامل ایک سنجیدہ بین الاقوامی مسابقت اور محدود ملکی مسابقت کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں۔ محدود مسابقت کم بولیوں کا باعث بنتی ہے اور پھر یہی کم بولیاں اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں کہ اثاثہ انتہائی کم قیمت پر دے دیا گیا۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس نے ملک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

راولپنڈی بینچ نے کیا طے کیا

لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جون 2025 کے فیصلے (سردار عنبر مقصود بنام وفاق پاکستان و دیگر، PLD 2025 لاہور 827 میں رپورٹ شدہ) نے ان چاروں سوالات کا جواب دیا ہے۔ اس لیے یہ جاننا اہم ہے کہ فیصلے نے کیا اصول طے کیے، نہ کہ صرف یہ کہ عدالت نے زیرِ سماعت درخواست کا فیصلہ کس انداز میں کیا۔

اختیار کے معاملے پر عدالت نے اثاثے سے دستبرداری کے اختیار کو آئین کے آرٹیکل 173 سے منسلک کیا، جو وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو اس کی ملکیت میں موجود کسی بھی جائیداد کی منتقلی، فروخت یا تصرف تک وسعت دیتا ہے۔

2016 میں پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیے جانے کے بعد اس کے تقریباً 96 فیصد حصص وفاق کے پاس تھے، لہٰذا ایسے لین دین میں فروخت کیا جانے والا اثاثہ وفاق کی ملکیت میں موجود جائیداد تصور ہوتا ہے۔

نجکاری کمیشن آرڈیننس وہ قانونی ذریعہ ہے جس کے ذریعے یہ اختیار استعمال کیا جاتا ہے، اس اختیار کا بنیادی ماخذ نہیں۔ بولی دہندہ کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی قانونی سوال اب قابلِ بحث کے بجائے طے شدہ حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

طریقۂ کار کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ آرڈیننس کی دفعات 23 اور 24 میں مشاورت، مقررہ وقفوں سے قومی روزناموں میں اشتہارات کی اشاعت، غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہونے کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر تشہیر، مقررہ طریقے سے مالیت کا تعین اور دیگر لازمی تقاضے شامل ہیں۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لے کر یہ بھی دیکھا کہ آیا ان تقاضوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ یہی اس فیصلے کا اہم پہلو ہے۔

معیار یہ ہے کہ فائل پر قانونی تقاضوں کی تکمیل کا قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہو، نہ کہ صرف تجارتی معاہدے کی عدالتی منظوری۔ جو لین دین مناسب دستاویزات کے ساتھ مکمل کیا جائے، اس کا قانونی دفاع ممکن ہے اور بولی دہندہ اس کا پیشگی جائزہ لے سکتا ہے۔

رازداری کے معاملے میں عدالت نے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مانگے گئے مالیت کے تعین اور اثاثوں سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دینے سے انکار کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 2003 کے رازداری اور دستاویزات کی راز داری سے متعلق ضوابط ایسے مواد کو خفیہ قرار دیتے ہیں اور اسے صرف متعین استثنائی صورتوں میں ظاہر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تجارتی اعتبار سے اس فیصلے کا فوری طور پر سب سے اہم پہلو یہی ہے۔

مسابقتی بولی کا انحصار ڈیٹا روم میں موجود معلومات کی سالمیت پر ہوتا ہے۔ اگر کسی شہری کی درخواست پر بولی کے عمل کے دوران جمع کرایا گیا مواد عوام کے سامنے لانا لازم قرار پائے تو اس سے نجکاری کا عمل زیادہ شفاف نہیں ہوگا بلکہ بولی دینا ہی مشکل ہوجائے گا۔

اور درخواست دائر کرنے کے حق کے معاملے میں عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مفاد کی قانونی کارروائی کو، خواہ اسے کتنی ہی وسیع پیمانے پر قبول کیا جائے، قابلِ اعتماد مواد پر مبنی ہونا چاہیے، جبکہ دستاویزات کے بغیر محض دعویٰ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت سے رجوع کا جواز نہیں بن سکتا۔

اس کا مطلب عدالتوں تک رسائی محدود کرنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی لین دین کو روکنے کی لاگت اب تقریباً صفر نہیں رہی اور اگر بولی کے لیے مقررہ ٹائم لائن کو مؤثر بنانا ہے تو یہ ایک مختلف اور ضروری اصول ہے۔

ایک غیر حل شدہ سوال کا اب جواب مل گیا

آئین کے آرٹیکل 173 کی اس معاملے میں تاریخ عموماً جتنی توجہ حاصل کرتی ہے، اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ جب سپریم کورٹ نے 2006 میں پاکستان اسٹیل ملز کے لین دین کا جائزہ لیا تو وفاقی حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ آرٹیکل وفاق اور صوبوں کو براہِ راست اپنی ملکیت میں موجود اثاثے فروخت یا منتقل کرنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ اٹارنی جنرل نے تجویز دی تھی کہ آرٹیکل 153 اور 154 کے ساتھ اس کی تشریح ایسے مقدمے کے لیے چھوڑ دی جائے جس میں یہ تنازع براہِ راست زیرِ بحث ہو۔

عدالت نے آرٹیکل 153 اور 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کے کردار پر تفصیلی بحث کی، تاہم آرٹیکل 173 تک نہیں پہنچی۔ اگرچہ یہ مؤقف پیش کیا گیا تھا، لیکن مقدمے کا فیصلہ دیگر بنیادوں پر کیا گیا، جس کے باعث اس شق کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جاسکا۔

یہ معاملہ اسی طرح برقرار رہا۔ 19 سال بعد راولپنڈی بینچ نے اسی نکتے سے بات آگے بڑھائی جہاں یہ مؤقف چھوڑا گیا تھا۔ عدالت نے آرٹیکل 173 کو اثاثے سے دستبرداری کے اختیار کا ماخذ قرار دیا جبکہ آرڈیننس کو اس اختیار کے استعمال کا ذریعہ قرار دیا۔ ایک ایسی شق کے لیے جو پورے قومی نجکاری پروگرام کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے، عدالت کی جانب سے اس کی وضاحت کے لیے اتنا طویل عرصہ انتظار کرنا خاصا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی خبر پرانی ہوجانے کے بعد بھی اس فیصلے کا حوالہ دیے جانے کا امکان ہے۔

پیش گوئی کے قابل قانونی صورتحال ہی اصل اثاثہ ہے

سرکاری اثاثوں میں سرمایہ کاری محض جانچ پڑتال سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ ایسی جانچ پڑتال سے متاثر ہوتی ہے جس کے دائرہ کار اور نتیجے کی پیش گوئی نہ کی جاسکے۔ جس قانونی خطرے کا اندازہ لگایا جاسکے، اسے بولی کی قیمت میں شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جس قانونی خطرے کا اندازہ نہ لگایا جاسکے، اس صورت میں یا تو اثاثے کی قیمت میں بھاری رعایت کی جاتی ہے یا سرمایہ کاری سے گریز کیا جاتا ہے۔ پھر یہی رعایت اگلے مرحلے میں اس دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ اثاثے کی قیمت کم لگائی گئی تھی۔

تاخیر سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے لیے کسی کو کوئی فیصلہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک درخواست، عبوری حکم، التوا اور بولی دہندگان میدان سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اس کی کوئی قیمت درخواست گزار کو ادا نہیں کرنا پڑتی۔ یہ قیمت قرض فراہم کرنے والے ادارے، بولی دہندگان اور قومی خزانے کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ قومی خزانے کو فروخت کیے جانے والے ادارے کے مسلسل نقصانات کی صورت میں یہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، ایسا خرچ جو کسی عدالتی فہرست میں اس لیے نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا کوئی مدعی نہیں ہوتا۔

راولپنڈی بینچ نے عدالت کے ابتدائی فیصلے کے لیے غیر معمولی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کا ذکر کیا اور قرار دیا کہ تجارتی معاملات میں عدالتی مداخلت نے ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیل ملز کا تجربہ بھی اہم ہے، اگرچہ عام طور پر اس کی جو وجہ بیان کی جاتی ہے، اس سے مختلف پہلو یہاں زیادہ اہم ہے۔ اس نجکاری کا لین دین 2006 میں اس طریقۂ کار سے متعلق بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا گیا جس کے ذریعے اسے مکمل کیا گیا تھا اور حکومت کو دوبارہ عمل شروع کرنے کی آزادی دے دی گئی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔

اس وقت یہ ایک فعال صنعتی ادارہ تھا جو تقریباً 90 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہا تھا، تاہم 2015 میں پیداوار بند ہوگئی اور دوبارہ شروع نہیں ہوسکی۔ عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی بھی رائے ہو، واقعات کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ کسی ایسے لین دین کے رک جانے اور دوبارہ شروع نہ ہونے سے کتنے بڑے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

یہ فیصلہ کیا نہیں کرتا؟

ان میں سے کوئی بھی بات کسی نجکاری کے لین دین کو قانونی چیلنج سے محفوظ نہیں بناتی۔ فیصلے سے ملنے والی قانونی یقین دہانی اتنی ہی ہے جتنی ریکارڈ اس کی تائید کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم ہے۔ کوئی ایک درخواست گزار اب بھی کسی عمل کو روک سکتا ہے، جبکہ تمام ہائیکورٹس میں عدالتی طرزِ عمل کی یکسانیت کی ضمانت ابھی موجود نہیں۔

لیکن اب وہ چار بنیادی سوالات جن کے جوابات ایک بولی دہندہ درکار سمجھتا ہے، ان کے جوابات موجود ہیں اور ان جوابات کو سرمایہ کاری کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے والی قانونی یادداشت میں قابلِ اعتماد بنیاد کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہی برابر مواقع کا میدان ہے اور یہ ایک اہم وجہ ہے کہ پی آئی اے کا لین دین تکمیل تک پہنچا، جبکہ اس سے پہلے بہت سے معاملات ایسا نہ کرسکے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026