اقوام متحدہ کی بھارت پر تنقید
- بھارت کا آئین ایک ایسی سیکولر اور کثیرالجہتی جمہوریہ کا تصور پیش کرتا ہے جہاں مذہب، ذات یا نسل کے بجائے شہریت حقوق اور وقار کا تعین کرتی ہے
اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (سی ای آر ڈی) کے نتائج ہر اس شخص کے لیے باعث تشویش ہونے چاہئیں جو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کا آئینی مساوات کا وعدہ محض ایک رسمی اعلان سے بڑھ کر ہے۔ کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے نسلی اور نسلی و مذہبی گروہوں اور غیر شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کی جانے والی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کا حوالہ دیا ہے۔
ان خلاف ورزیوں میں نسلی تعصب پر مبنی تشدد، ماورائے عدالت قتل، قانونی کارروائی کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر من مانی اور طویل حراست، تشدد اور قبائلی عوام، دلتوں، بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف جنسی تشدد شامل ہیں، جو سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئینی اصولوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔
بھارت کا آئین ایک ایسی سیکولر اور کثیرالجہتی جمہوریہ کا تصور پیش کرتا ہے جہاں مذہب، ذات یا نسل کے بجائے شہریت حقوق اور وقار کا تعین کرتی ہے۔ تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دور حکومت میں بھارت کا سیاسی مرکزی دھارا تیزی سے ہندوتوا سے تشکیل پاتا گیا ہے، جو ایک ایسا نظریہ ہے جس میں قومی منصوبے کے مرکز میں ہندو شناخت کو رکھا جاتا ہے۔ اس نظریاتی تبدیلی کو بھارت کے اس آئینی تصور کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے جس میں تمام شہری، خواہ ان کا مذہب یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو، قانون کے یکساں تحفظ سے مستفید ہوں۔
مسئلہ محض نظریاتی نہیں ہے۔ جب سیاسی قیادت بار بار اقلیتوں، تارکین وطن اور دیگر کمزور برادریوں کو مذہبی یا نسلی شناخت کے زاویے سے پیش کرتی ہے تو یہ امتیازی سلوک کو جواز فراہم کرتی ہے اور ریاستی حکام کی جانب سے زیادتیوں کے لیے گنجائش پیدا کرتی ہے۔ بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا کے بارے میں سی ای آر ڈی کے تحفظات اسی لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ شناخت کی جانچ، نسلی بنیاد پر پروفائلنگ، من مانی حراست اور جبری واپسی محض انتظامی معاملات نہیں ہیں، جب یہ پہلے سے کمزور گروہوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بناتے ہیں تو یہ اس وسیع تر طرز عمل کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں مذہب، شہریت اور کسی ملک سے تعلق کو اقلیتوں کے خلاف امتیاز کے لیے تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سی ای آر ڈی کے نتائج مسلمانوں کو حاشیے پر دھکیلنے، اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی کو معمول بنانے اور اختلاف رائے رکھنے والوں، سول سوسائٹی کے گروہوں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے متعلق تشویش کو خاصا بین الاقوامی وزن فراہم کرتے ہیں۔
اقلیتوں اور محروم برادریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اس وقت بے معنی ہوجاتے ہیں جب قانون نافذ کرنے والے ادارے بے خوف ہوکر کارروائی کرسکیں۔ ماورائے عدالت قتل، تشدد اور من مانی حراست کی رپورٹس تردید یا معاملہ دوسری جانب موڑنے کے بجائے آزادانہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ اسی طرح، نفرت پر مبنی جرائم کا مؤثر طور پر مقابلہ اس وقت نہیں کیا جاسکتا جب اشتعال انگیز سیاسی بیان بازی کو برداشت کیا جائے یا ان افراد کو ہی دھمکایا جائے جو زیادتیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
بھارت کی جمہوری حیثیت کا انحصار بالآخر اس بات پر ہے کہ اس کے ادارے ایسے وقت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں یا نہیں جب ایسا کرنا سیاسی طور پر مشکل ہو۔ ہندوتوا بی جے پی کا وہ سیاسی نظریہ ہوسکتا ہے جو اسے انتخابی کامیابی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم بھارتی جمہوریت کی ساکھ کا انحصار اکثریتی سیاست کی طاقت پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ آیا وہ اپنی تمام کثیر النسلی اور کثیر مذہبی برادریوں کے لیے مساوی حقوق برقرار رکھ سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026