پنجاب میں ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز
- گزشتہ 15 روز کے دوران 7 لاکھ 53 ہزار سے زائد معائنے کیے گئے، ڈاکٹر کرن خورشید
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مقررہ نرخ سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ سیکریٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے جمعرات کو بتایا کہ گزشتہ 15 روز کے دوران 7 لاکھ 53 ہزار سے زائد معائنے کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے پنجاب کی مختلف مارکیٹوں میں 7 لاکھ 53 ہزار سے زائد معائنے کیے۔ قوانین کی خلاف ورزی، زائد قیمت وصول کرنے اور سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے پر 99 لاکھ 60 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران 238 مقدمات درج کیے گئے اور 865 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ناجائز منافع خوروں اور دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کی 53 دکانیں بھی سیل کردی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ روٹی کی سرکاری طور پر مقررہ قیمت پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے 1 لاکھ 58 ہزار 931 معائنے کیے گئے۔ ان معائنوں کے دوران زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف 86 مقدمات درج کیے گئے، 254 افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ 15 لاکھ 37 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
مرغی کے گوشت کی قیمتوں کے حوالے سے 38 ہزار 673 معائنے کیے گئے، اس دوران 3 ہزار 284 مقامات پر زائد قیمت وصول کرنے کی شکایات سامنے آئیں۔ زائد نرخ پر مرغی فروخت کرنے پر 12 مقدمات درج، 61 افراد گرفتار اور 10 لاکھ 55 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
ڈاکٹر کرن خورشید نے بتایا کہ آٹے کی بلا تعطل فراہمی اور سرکاری نرخ پر فروخت یقینی بنانے کے لیے 32 ہزار 918 معائنے کیے گئے۔ 1 ہزار 661 مقامات پر زائد قیمت وصول کرنے کی شکایات سامنے آئیں جس پر 16 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ باسمتی چاول کی قیمتوں کی جانچ کے لیے 31 ہزار 208 معائنے کیے گئے۔ ناجائز منافع خوری پر 32 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 4 لاکھ 8 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
چینی کی زائد قیمت وصول کرنے پر 5 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 18 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ چنے کی دال کی قیمتوں کی جانچ کے دوران 4 مقدمات درج کیے گئے اور 22 افراد کو گرفتار کیا گیا۔سیکریٹری نے بتایا کہ کوکنگ آئل اور گھی کی زائد قیمت وصول کرنے پر 24 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2 لاکھ 10 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
انڈوں کی ناجائز منافع خوری اور زائد قیمت وصول کرنے کے خلاف کارروائی کے دوران 13 مقدمات درج کیے گئے، 38 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2 لاکھ 73 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ ٹماٹر زائد نرخ پر فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی جس کے تحت 6 مقدمات درج اور 16 افراد گرفتار کیے گئے۔
ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ صارفین کو اشیائے خورونوش مقررہ معیار کے مطابق اور مناسب قیمتوں پر دستیاب رکھنے کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر معائنے جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔