کمزور ڈالر اور قدر میں کمی کے خدشات، بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر کی سطح سے اوپر
- بٹ کوائن کی قیمت اب تک 28 فیصد بڑھ چکی ہے
بٹ کوائن منگل کو 80 ہزار ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے بانڈ مارکیٹ کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے بعد امریکی ڈالر کی کمزوری نے کرپٹو مارکیٹ میں ایک بار پھر تیزی پیدا کردی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کانگریس پر زور دیا کہ وہ ایسا قانون منظور کرے جس کے ذریعے تیزی سے فروغ پانے والے کرپٹو کرنسی شعبے کے لیے واضح قانونی حدود اور تعریفیں متعین کی جا سکیں۔
اس کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں 16 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ایشیائی اوقات کے دوران یہ آخری بار 80,323.24 ڈالر پر تھا جبکہ اس سے قبل یہ مئی کے وسط کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح 81,237.94 ڈالر کو چھو چکا تھا۔
بٹ کوائن کی قیمت اگست میں اب تک 28 فیصد بڑھ چکی ہے اور نومبر 2024 کے بعد ماہانہ بنیاد پر سب سے بڑے اضافے کے لیے تیار ہے۔
کرپٹو کرنسیز کو بھی اس وقت خاصا فروغ ملا جب امریکی محکمۂ خزانہ نے گزشتہ ہفتے طویل مدتی بانڈز کی مزید خریداری کے منصوبوں کا اعلان کیا جس کا مقصد طویل مدتی بانڈز کی ییلڈز میں اضافے کو محدود کرنا ہے۔
ہیش کی گروپ کے سینئر محقق ٹم سن نے کہا کہ بیسنٹ کے بیانات سے مارکیٹ کا یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ کم از کم وسط مدتی انتخابات تک، امریکی پالیسی ساز طویل مدتی بانڈز کی ییلڈز میں مزید اضافے کو برداشت کرنے کے لیے کم آمادہ ہوسکتے ہیں۔
سن نے کہا اس سے بٹ کوائن اور سونے جیسے اثاثوں کے لیے نسبتاً سازگار معاشی ماحول پیدا ہوگا۔
ڈالر کی کمزوری سے سونے کو بھی فائدہ پہنچا ہے اور اس کی قیمت تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ میں ڈیجیٹل اثاثوں کی تحقیق کے عالمی سربراہ جیوف کینڈریک نے گزشتہ ہفتے ایک نوٹ میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ کا یہ اعلان بالکل اسی نوعیت کا اقدام ہے جسے بٹ کوائن پسند کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بٹ کوائن اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ سرمایہ کاروں کو اس قسم کی مداخلت سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کیا جا سکے۔