✕
کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 400 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

  • بینچ مارک انڈیکس 177,370.70 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو ایک اور اتار چڑھاؤ بھرا کاروباری سیشن دیکھا گیا، جہاں کاروبار کے آخری حصے میں خریداری کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 400 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

کاروبار کا آغاز مضبوط رہا اور مارکیٹ کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 177,775.70 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم سیشن کے وسط میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث انڈیکس ابتدائی سہ پہر میں دن کی کم ترین سطح 176,577.14 پوائنٹس تک گر گیا۔

بعد ازاں بینچ مارک انڈیکس نے نچلی سطح سے بتدریج بحالی کی اور دوبارہ مثبت زون میں داخل ہوگیا، جبکہ کاروبار کے اختتام پر یہ دن کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 404.02 پوائنٹس یا 0.23 فیصد اضافے سے 177,370.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے بعد کی اپنی رپورٹ میں کہا کہ کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا، تاہم اہم شعبوں میں چیدہ چیدہ (منتخب) خریداری کی بدولت انڈیکس ابتدائی مندی سے سنبھلنے میں کامیاب رہا۔

رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں نے محتاط انداز اپنایا، جبکہ خریداری کا رجحان کچھ منتخب بلیو چپ اور سائیکلیکل اسٹاکس تک ہی محدود رہا۔ وسیع تر مارکیٹ کو 1,78,000 کی سطح کے قریب مزاحمت کا سامنا رہا، جس کے باعث نزدیک مدت کا منظرنامہ ایک محدود دائرے (رینج باؤنڈ) میں قید رہا۔

ٹاپ لائن کے مطابق مثبت پہلو یہ رہا کہ یو بی ایل، ایم ای بی ایل، ایف ایف سی، ایچ بی ایل اور لک نمایاں تعاون کرنے والوں میں شامل رہے، جنہوں نے مشترکہ طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 667 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے برعکس او جی ڈی سی، اینگرو ایچ اور ایس وائی ایس انڈیکس کو نیچے دھکیلنے والے بڑے شیئرز میں شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے تقریباً 201 پوائنٹس کم کیے۔

ایک اہم پیش رفت میں موڈیز نے حکومتِ پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی میں جاری کنندہ اور سینئر غیر ضمانتی قرضوں کی ریٹنگ سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی تھری کر دی۔

پیر کو کاروباری سیشن کے اختتام پر منافع حاصل کرنے کے رجحان نے پی ایس ایکس کے ابتدائی بیشتر فوائد ختم کر دیے جس کے نتیجے میں ایک اتار چڑھاؤ بھرے سیشن کے دوران 100 انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ تاہم آئل اینڈ گیس اور سیمنٹ کے حصص میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا اور اسے مزید گراوٹ سے بچائے رکھا۔

گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 199.84 پوائنٹس یا 0.11 فیصد کمی سے 176,966.69 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص میں کمی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں مزید گراوٹ ہوئی کیونکہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی دھمکیوں پر مشتمل اقتصادی ڈی ڈے کا انتباہ آخرکار بے اثر ثابت ہوا۔

امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں جس کی وجہ ایک رپورٹ تھی کہ امریکی محکمۂ خزانہ قرضوں کی دوبارہ خریداری میں اضافے کے لیے اپنے نقدی اکاؤنٹ سے رقم استعمال کرسکتا ہے جس سے قلیل مدتی ٹریژری بلز کی اضافی فروخت کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کا شعبہ بدھ کو این ویڈیا کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہے، سرمایہ کار اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس چِپ ساز کمپنی کے لیے بلند توقعات پر پورا اترنا کتنا مشکل ہوگا۔

تجزیہ کار عمومی طور پر توقع کر رہے ہیں کہ سہ ماہی آمدنی تقریباً دگنی ہو کر 92 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جائے گی جبکہ پورے سال کی آمدنی سے متعلق رہنمائی 103 ارب ڈالر سے 105 ارب ڈالر کی حد میں رہنے کی توقع ہے۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.5 فیصد نیچے رہا جبکہ جاپان کا نکئی 0.9 فیصد اور جنوبی کوریا کا کاپسی 2.7 فیصد گر گیا۔

ٹیکنالوجی کے شعبے کے سرمایہ کاروں کے جذبات پر علی بابا کی جانب سے اپنے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے 10.2 ارب ڈالر کے حصص کی فروخت کے اعلان نے بھی دباؤ ڈالا جو نمایاں رعایتی قیمت پر کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سام سنگ کے شیئر ہولڈرز کو منافع کی واپسی کے منصوبے پر مایوسی نے بھی ٹیکنالوجی اسٹاکس کے لیے منفی جذبات کو تقویت دی۔

علاوہ ازیں منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے میں معمولی استحکام کا سلسلہ جاری رہا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کی برتری کے ساتھ 277.52 روپے پر بند ہوئی۔

آل شیئرز انڈیکس پر شیئرز کی خرید و فروخت کا حجم (والیم) پچھلے سیشن کے 933.52 ملین کے مقابلے میں کم ہو کر 644.84 ملین شیئرز رہ گیا۔

گزشتہ سیشن کے 44.10 ارب روپے کے مقابلے میں شیئرز کی مالیاتی قدر بھی کم ہو کر 31.36 ارب روپے پر آ گئی۔سینرجیکو پی کے 177.90 ملین شیئرز کی تجارت کے ساتھ والیوم لیڈر رہی، جس کے بعد فرسٹ نیشنل ایکویٹیز79.30 ملین شیئرز اور پاکستان ریفائنری 43.03 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔

منگل کو کل 499 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا، جن میں سے 223 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 229 میں کمی جبکہ 47 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم (بغیر کسی تبدیلی کے) رہیں۔