ایل پی جی کی بڑھتی قیمتیں، کراچی کے چائے کیفے دوبارہ کوئلے پر منتقل
- پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کراچی بھر میں چائے کیفے کو دوبارہ کوئلے کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کررہی ہیں، کیونکہ کاروباری ادارے بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات اور سخت مسابقت سے نبرد آزما ہیں، جو انہیں قیمتیں بڑھانے کی محدود گنجائش فراہم کرتی ہے۔
بزنس ریکارڈر کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی بھر میں درجنوں چائے کیفے، جن میں گلستانِ جوہر، نارتھ کراچی اور فیڈرل بی ایریا کے کیفے بھی شامل ہیں، تیزی سے مہنگی ہوتی ایل پی جی کے مقابلے میں سستے متبادل کے طور پر کوئلے پر منتقل ہوگئے ہیں۔
گلشنِ اقبال میں ایک کیفے کے مالک عبدالرحیم نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کاروبار کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے، جس کے باعث انہوں نے سستے متبادل ایندھن کے طور پر کوئلے کا استعمال شروع کردیا ہے۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران امریکا تنازع نے پہلے سے اتار چڑھاؤ کا شکار مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی اور شپنگ میں رکاوٹوں نے علاقائی توانائی کی لاگت بڑھا دی ہے، جس کے اثرات پاکستان کی ایل پی جی مارکیٹ تک پہنچے اور اس ایندھن پر زیادہ انحصار کرنے والے چھوٹے کاروباروں کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوگیا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں 12.89 روپے فی کلوگرام اضافہ کردیا، جس کے بعد 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 152.01 روپے اضافہ ہوا۔ یہ قیمت یکم اگست سے نافذ العمل ہوئی۔ اگست کے لیے ایل پی جی کی صارف قیمت 254,315.35 روپے فی ٹن یا 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کے لیے 3,000.92 روپے مقرر کی گئی، جبکہ جولائی میں یہ قیمت 241,432.84 روپے فی ٹن اور فی سلنڈر 2,848.91 روپے تھی۔
عبدالرحیم نے کہا کہ کوئلہ نہ صرف زیادہ سستا ہے بلکہ صارفین نے کوئلے پر تیار کی جانے والی چائے کے ذائقے کو بھی مثبت انداز میں قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے کوئلے پر تیار کی جانے والی چائے کی طلب بہت زیادہ تھی، لیکن اب ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث یہ ضرورت بن گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 40 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر 14,000 روپے میں ملتا ہے اور تقریباً پانچ دن چلتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اتنی ہی مقدار کا کوئلہ تقریباً 5,000 روپے میں مل جاتا ہے، جس سے ایندھن کے اخراجات میں ماہانہ تقریباً 54,000 روپے کی بچت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایل پی جی کی قیمتیں انتہائی غیر مستحکم ہیں، جبکہ اس کی دستیابی بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
بفر زون کے علاقے میں ایک اور چائے کیفے کے مالک رحمت اللہ نے کہا کہ سخت مسابقت نے کاروباری اداروں کے لیے قیمتیں بڑھانا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لہٰذا منافع بہتر بنانے کا واحد طریقہ اخراجات کم کرنا ہے، اور کوئلے پر منتقل ہونے سے ہمیں یہ مقصد حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں دیگر تمام خام مال کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اتار چڑھاؤ آیا ہے۔
توانائی کے ماہر اسامہ خان نے کہا کہ ایندھن کی لاگت تنور، ڈھابوں اور چھوٹی بیکریوں کے لیے ایک اہم متغیر لاگت ہے، جو مینو کی قیمتوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث چھوٹے فوڈ کاروباروں کے پاس اس جھٹکے کو برداشت کرنے کی بہت کم گنجائش رہ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیجنگ کی صلاحیت نہ ہونے اور محدود ورکنگ کیپیٹل کے باعث بہت سے کاروباری افراد کم منافع پر کام کرکے، کھانے کی مقدار کم کرکے اور بعض صورتوں میں خاموشی سے عملے کی تعداد کم کرکے صورتحال سے نمٹ رہے ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کے علاوہ، صنعت سے وابستہ افراد نے کوئلے کی طرف منتقلی کی دیگر وجوہات بھی بیان کی ہیں، جن میں پورے شہر میں ایل پی جی فلنگ اسٹیشنز کی محدود دستیابی بھی شامل ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایران امریکا تنازع کی وجہ سے نہیں ہے۔ ان کے مطابق بلیک مارکیٹنگ، مناسب ایل پی جی فلنگ اسٹیشنز کی کمی اور 2018 میں متعارف کرایا گیا ناقص ایل پی جی پرائسنگ فارمولا بھی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایل پی جی پرائسنگ فارمولا پر نظرثانی کی جائے، ان کا دعویٰ تھا کہ ایل پی جی مختلف نرخوں پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہے۔
پرائسنگ فارمولا کے حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے اسامہ خان نے کہا کہ ایل پی جی پرائسنگ فارمولا سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس سے منسلک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے حوالے سے بدستور انتہائی کمزور ہے، کیونکہ اس کی بنیادی توانائی کی ضروریات کا 40 فیصد سے زیادہ درآمدات کے ذریعے پورا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر اضافے سے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اندازاً 1.5 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی میں 0.5 سے 0.6 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوتا ہے۔
توانائی کے شعبے کی بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں کمزوری کم کرنے کے لیے ماہر نے معیشت کا درآمدات پر انحصار کم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے درآمدی کوئلے کی جگہ تھر کے لگنائٹ کو تیزی سے استعمال کرنے کی تجویز دی اور دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔