سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس
- پی ٹی آئی کے سلمان اکرم راجا کا عمران خان کو فوری شفا اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے والی نظرثانی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کردی ہے۔ آج نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ درخواست میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس نے نشاندہی کی کہ درخواست کے ساتھ مطلوبہ پیپر بکس اور مکمل قانونی دستاویزات منسلک نہیں تھیں، جس کے باعث نظرثانی درخواست کو موجودہ حالت میں قابلِ سماعت قرار نہیں دیا جا سکا۔
ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور ان کی قانونی ٹیم رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات دور کرنے میں مصروف ہے۔ ضروری دستاویزات اور پیپر بکس میں موجود تکنیکی خامیاں دور کرنے کے بعد درخواست دوبارہ سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔
اس پیش رفت پر پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے سخت ردعمل دیا۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کی فائلنگ برانچ کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد ریاست نے نظرثانی درخواست واپس لے لی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں، عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔
یہ معاملہ عمران خان کو طبی علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق قانونی اور انتظامی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔
73 سالہ سابق وزیراعظم اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں سزا کے باعث قید ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے رہے ہیں۔ اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد سے وہ متعدد عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی بانی کو دو روز کے اندر نجی اسپتال منتقل کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے بعد ازاں اسلام آباد انتظامیہ کے ذریعے چیف کمشنر اور ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے اس حکم کو چیلنج کیا۔
نظرثانی درخواست میں 18 اگست کے حکم پر دوبارہ غور یا اسے واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور حکم جاری کرنے سے قبل چیف کمشنر کو باضابطہ نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ ہوتا رہا ہے اور سرکاری میڈیکل بورڈز متعدد مواقع پر ان کا معائنہ اور علاج کرچکے ہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ نے مؤقف اپنایا کہ قیدیوں کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق قواعد و ضوابط کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ اس کے مطابق کسی قیدی کی منتقلی کا فیصلہ طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے جبکہ قانون کے تحت قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کی صورت میں پولیس کی نگرانی بھی لازمی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس سے قبل حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکام اور قانونی ٹیم نے تفصیلی مشاورت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ سرکاری اسپتال میں کرایا جائے اور عدالتی حکم کے بعض پہلوؤں میں مناسب ترمیم کی جائے، تاکہ ابہام دور کیا جا سکے۔
وزیر قانون کے مطابق قانون کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو پہلے سرکاری اسپتال منتقل کیا جاتا ہے اور نجی اسپتال میں منتقلی اسی صورت ممکن ہے جب یہ ثابت ہو کہ مطلوبہ علاج سرکاری اسپتال میں دستیاب نہیں۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد جیل انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی اور ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو ان کے طبی معائنے کے دوران موجود رہنے کی بھی اجازت دی تھی۔
اس کے علاوہ عدالت نے عمران خان کو ہفتے میں ایک خاندانی ملاقات اور اپنے بچوں سے ہفتے میں دو مرتبہ فون پر بات کرنے کی اجازت دینے کی ہدایت بھی کی تھی۔
تاہم عدالتی حکم میں دی گئی دو روزہ مدت گزرنے کے باوجود عمران خان کو تاحال شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔