✕
کاروبار اور معیشت

ٹیکس مراعات کے خاتمے کے اثرات برقرار، جولائی میں چین کی سولر برآمدات 21.4 فیصد گرگئیں

  • گزشتہ ماہ 8 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن سولر سیلز اور پینلز برآمد کیے گئے
شائع اپ ڈیٹ

جولائی کے دوران چین کی سولر برآمدات سالانہ 21.4 فیصد کم ہوئیں جو مسلسل تیسرا ماہ ہے کہ برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برآمدی ٹیکس ریبیٹ کے خاتمے کے باعث شپمنٹس متاثر ہوئیں۔

تفصیلات یہ ہیں:

کسٹم کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں سولر مصنوعات بنانے والے سب سے بڑے ملک چین نے جولائی میں 8 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن سولر سیلز اور پینلز برآمد کیے جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 21.4 فیصد کم ہیں۔

جون کے 9 لاکھ 80 ہزار ٹن کے مقابلے میں جولائی میں سولر مصنوعات کی برآمدات بھی کم رہیں۔

اس کے مقابلے میں مارچ میں سولر مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ 1.75 ملین ٹن تک پہنچ گئی تھیں جب برآمد کنندگان نے باقی ماندہ برآمدی ٹیکس ریبیٹ کی مدت سے فائدہ اٹھانے کیلئے بڑی مقدار میں پہلے ہی شپمنٹس روانہ کردی تھیں۔

جولائی میں چین کی سولر برآمدات کی مالیت 2.13 ارب ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق چین نے فی یونٹ بنیاد پر گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 40.4 فیصد کم سولر سیلز اور پینلز بیرونِ ملک بھیجے اور ان کی تعداد کم ہو کر 658.73 ملین رہ گئی۔

حالیہ مہینوں میں جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور افریقہ کو سولر مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ چین کی سب سے بڑی خریدار منڈی یورپ کو برآمدات میں کمی آئی ہے۔

کسٹمز انتظامیہ جمعرات کو جولائی کے برآمدات کے تفصیلی اعداد و شمار جاری کرے گی۔