کاروبار اور معیشت

حکومت کی بجلی صارفین سے 34 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی درخواست

  • صنعتی شعبے نے مجوزہ اضافے کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کردیا
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے لیے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کی مد میں ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین سے تقریباً 34 ارب روپے، یا اوسطاً 1.34 روپے فی یونٹ اضافی وصول کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں دائر کر دی ہے، جبکہ صنعتی شعبے نے مجوزہ اضافے کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیپرا میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق ابتدائی طور پر ڈسکوز نے 23.03 ارب روپے کے ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دی تھی، تاہم بعد ازاں اس رقم پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بڑھا کر 33.778 ارب روپے کر دیا گیا۔

درخواست کے مطابق 46.280 ارب روپے کی رقم استعدادی ادائیگیوں ، 4.936 ارب روپے متغیر آپریشن و مینٹیننس (او اینڈ ایم) اخراجات، جبکہ 13.517 ارب روپے یوز آف سسٹم چارجز اور مارکیٹ آپریٹر فیس کی مد میں منفی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ہیں۔

اس کے علاوہ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) پر ٹرانسمیشن اور تقسیم کے نقصانات کے اثرات کی مد میں 3.040 ارب روپے جبکہ اضافی بجلی استعمال پیکج کے تحت 21.175 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ شامل ہے۔ مزید 14.211 ارب روپے اسمال پاور پروڈیوسرز اور کیپٹو پاور پروڈیوسرز کے غیر وصول شدہ اخراجات کی مد میں طلب کیے گئے ہیں۔

بدھ کو ہونے والی عوامی سماعت کے دوران صنعتی شعبے کے نمائندوں ریحان جاوید، عامر شیخ اور تنویر بیری نے مجوزہ اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنعت مزید مالی بوجھ برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے حکام نے نیپرا کو بتایا کہ گھریلو اور تجارتی شعبوں میں طلب کم ہونے کے باعث بجلی کی مجموعی کھپت میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق گھریلو صارفین کی جانب سے شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی بجلی کی طلب کم کی ہے۔

نیپرا کے رکن مقصود انور خان نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی فروخت میں کمی کی بنیادی وجوہات میں لوڈشیڈنگ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں سولرائزیشن نہ ہوتی تو موجودہ حالات میں لوڈشیڈنگ کہیں زیادہ شدید ہوتی، جبکہ شمسی توانائی کے باعث دن کے بجائے رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس سے بجلی کے نظام پر دباؤ کم ہوا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے نمائندے تنویر بیری نے کہا کہ استعدادی ادائیگیوں کا بوجھ پہلی سہ ماہی کے 36 ارب روپے سے بڑھ کر 50 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس سے صارفین پر مجموعی طور پر 86 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا اور بجلی تقریباً 3.50 روپے فی یونٹ مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر نرخوں میں اضافے کو مؤخر کیا جائے تاکہ صنعتی شعبے کی مسابقت مزید متاثر نہ ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026