ایم سی بی کے ڈپازٹس بینک کی کارکردگی کو سہارا دینے لگے
- ٹیکس کے بعد منافع سالانہ 3 فیصد کم ہوکر 26.5 ارب روپے رہ گیا
ایم سی بی کے ششماہی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ بینکنگ فرنچائز مجموعی طور پر معقول حد تک مضبوطی سے قائم ہے، تاہم سرخیوں میں نظر آنے والی یہ مضبوطی اس کے اندر رونما ہونے والی ایک زیادہ دلچسپ تبدیلی کو چھپا دیتی ہے۔
ٹیکس کے بعد منافع سالانہ 3 فیصد کم ہوکر 26.5 ارب روپے رہ گیا، حالانکہ مجموعی آمدنی میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ آپریٹنگ اخراجات میں 9 فیصد اضافہ ہے، جبکہ فنڈنگ لاگت میں کمی سے حاصل ہونے والا فائدہ دیگر اخراجات اور عوامل کی وجہ سے جزوی طور پر جذب ہوگیا۔
اس کے باوجود بنیادی آمدنی کی تصویر حوصلہ افزا ہے۔ خالص مارک اپ آمدنی 6 فیصد اضافے کے ساتھ 75.3 ارب روپے ہوگئی، اور یہ اضافہ اوسط شرح سود میں کمی کے ماحول کے باوجود ہوا۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بینک کا لائیبلیٹی فرنچائز اب بھی آمدنی اور کارکردگی کو سہارا دینے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈپازٹس مضبوط ہیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹس کا تناسب 2025 کے اختتام پر 54 فیصد سے بہتر ہوکر 55 فیصد ہوگیا ہے۔ اس بہتری کے اثرات ملکی سطح پر ڈپازٹس کی لاگت میں بھی واضح ہیں، جو 25 کی پہلی ششماہی کے 5.23 فیصد سے کم ہوکر 4.43 فیصد رہ گئی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہے جب بینک ایک ساختی طور پر کم شرح سود والے ماحول میں کام کر رہے ہیں۔ کم لاگت والے ڈپازٹس کی مضبوط بنیاد ایم سی بی کو اثاثوں پر حاصل ہونے والی شرح منافع میں کمی کے دباؤ سے کچھ تحفظ فراہم کرتی ہے اور بینک کو مہنگے ڈپازٹس حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر اپنے اسپریڈز برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔
تاہم اثاثوں کے معاملے میں ایم سی بی جارحانہ انداز میں قرضوں کا حجم بڑھانے کے بجائے لیکویڈیٹی اور حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتا نظر آتا ہے۔ مجموعی ایڈوانسز میں 9 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ایڈوانسز ٹو ڈپازٹس(اے ڈی آر) ریشو 30 فیصد سے نیچے آگیا ہے۔ یہ کوئی نیا رجحان نہیں۔ 2.07 ٹریلین روپے کا سرمایہ کاری پورٹ فولیو قرضوں کے حجم سے اب بھی دو گنا سے زیادہ ہے اور اس عرصے کے دوران مزید بڑھا ہے۔
حکومتی سیکیورٹیز بدستور بینکاری شعبے میں اضافی لیکویڈیٹی رکھنے کے لیے ترجیحی مقام کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ نجی شعبے کی جانب سے قرض لینے کی محدود طلب اور حکومتی سیکیورٹیز میں دستیاب پرکشش رسک ایڈجسٹڈ منافع دونوں ہیں۔
لہٰذا 30 فیصد سے کم اے ڈی آر کو بیلنس شیٹ کی کمزوری کی علامت سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ بینکاری شعبے کو درپیش وسیع تر مالی ثالثی کے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ بینکوں کے پاس وافر لیکویڈیٹی اور سرمایہ موجود ہے، لیکن نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں ابھی تک اتنی تیزی نہیں آئی کہ ڈپازٹس کے ذریعے جمع ہونے والی لیکویڈیٹی کو جذب کرسکے۔ ایم سی بی کا 19.65 فیصد سی اے آر اور 14.93 فیصد سی ای ٹی ون ریشو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب معاشی سائیکل کا رخ تبدیل ہوگا اور قرضوں کی طلب میں اضافہ ہوگا تو بینک کے پاس اسے پورا کرنے کے لیے خاطر خواہ گنجائش موجود ہے۔
اثاثوں کے معیار سے بھی کچھ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ نان پرفارمنگ لونز قابلِ انتظام سطح پر ہیں اور ان کی کوریج میں بہتری آئی ہے، جبکہ پورے بینکاری شعبے میں نسبتاً بہتر اور صاف قرضہ جاتی کتابیں معاشی حالات میں کسی بھی بگاڑ سے فوری آمدنی پر پڑنے والے منفی اثرات کو محدود کرسکتی ہیں۔ تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب بینک اپنی بیلنس شیٹس کا ایک بڑا حصہ حکومتی سیکیورٹیز سے نکال کر نجی شعبے کو قرض دینے کی جانب منتقل کرنا شروع کریں گے۔
فی الحال شرح سود کا سائیکل بنیادی فیصلہ کن عنصر ہے۔ شرح سود میں کسی بھی نئے کمی کے دور کا آغاز اب بھی کم از کم ایک سہ ماہی دور ہوسکتا ہے، جس سے بینکوں کو کچھ وقت مل جاتا ہے کہ وہ کم فنڈنگ لاگت سے فائدہ اٹھاتے رہیں، جبکہ حکومتی سیکیورٹیز سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی راستہ بنی رہیں۔اگر شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہتی ہے تو ایم سی بی کا مضبوط ڈپازٹ فرنچائز اور حکومتی سیکیورٹیز پر مشتمل اثاثہ جاتی ڈھانچہ اسے نسبتاً آرام دہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم اگر شرح سود میں بالآخر نمایاں کمی آتی ہے تو یہی حکومتی سیکیورٹیز پر زیادہ انحصار کرنے والی بیلنس شیٹ کم پرکشش ہوسکتی ہے، کیونکہ دوبارہ سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والی ییلڈز کم ہوجائیں گی۔
وسیع تر بینکاری شعبہ اس مرحلے میں خاصی مضبوط پوزیشن کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ سرمائے کے بفرز صحت مند ہیں، لیکویڈیٹی وافر ہے اور اثاثوں کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ یہ تمام عوامل قلیل مدتی دباؤ کے خلاف مؤثر حفاظتی حصار فراہم کرتے ہیں، اگرچہ بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ بینک اپنی مضبوط ڈپازٹ فرنچائزز اور اضافی لیکویڈیٹی کو نجی شعبے کے لیے بامعنی قرضوں کی ترقی میں کس حد تک تبدیل کر سکتے ہیں۔ایم سی بی کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک کی بیلنس شیٹ اس کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس مساوات میں قرضوں کی طلب کا پہلو اب بھی پیچھے ہے۔