اختیارات کی منتقلی کا دھوکا
- اٹھارویں ترمیم کے تحت 17 وفاقی وزارتوں کے امور صوبوں کو منتقل کردیئے گئے تھے، تاہم وفاقی انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک برقرار رہا
اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کیے جانے کے 15 سال سے زائد عرصے بعد اب پارلیمان کو بتایا گیا ہے کہ بہت سی وفاقی وزارتیں، جنہیں آئینی طور پر ختم ہوجانا چاہیے تھا، حقیقت میں کبھی ختم ہی نہیں ہوئیں۔ انہوں نے صرف مختلف ناموں کے تحت اپنا کام جاری رکھا۔
ایک ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت کفایت شعاری، حکومت کا حجم کم کرنے اور انتظامی اصلاحات کی بات کر رہی ہے، یہ انکشاف محض بیوروکریسی کی سست روی سے کہیں زیادہ تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی ریاستی مشینری کی تصویر پیش کرتا ہے جو بظاہر اس وقت بھی اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں غیر معمولی طور پر ماہر ہے جب آئین اس کے برعکس حکم دے چکا ہو۔
اعدادوشمار کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت 17 وفاقی وزارتوں کے امور صوبوں کو منتقل کردیئے گئے تھے، تاہم وفاقی انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک برقرار رہا۔ ان وزارتوں میں کام کرنے والے 50,000 سے زائد ملازمین میں سے 6,700 سے بھی کم ملازمین صوبائی حکومتوں کو منتقل کیے گئے، جبکہ 43,000 سے زائد ملازمین وفاق کے پاس ہی رہے۔
یہاں تک کہ تحلیل کیے گئے اداروں کے سینکڑوں ملازمین اور صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کے سیکریٹریٹس میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین بھی وفاقی کنٹرول میں برقرار رہے۔ اس لیے یہ سوال اٹھانا بجا ہے کہ آیا اختیارات کی منتقلی مکمل طور پر نافذ کی گئی یا محض انتظامی طور پر نام تبدیل کرکے معاملہ نمٹا دیا گیا۔
یہ سوال حالیہ حکومتی اقدامات کی روشنی میں مزید اہم ہوجاتا ہے۔ صرف چند روز قبل وزیراعظم نے غیر ضروری عہدوں کے خاتمے اور کارکردگی بہتر بنانے کے ذریعے حکومت کا حجم کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ نے نئے صوبے بنانے کی بحث دوبارہ شروع کردی ہے تاکہ حکمرانی کو عوام کے قریب لایا جاسکے۔ دونوں اقدامات اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ حکومت کا ڈھانچہ مختصر، زیادہ جوابدہ اور انتظامی طور پر مؤثر ہونا چاہیے۔
تاہم نئے انتظامی ڈھانچے بنانے یا مزید اصلاحات کے وعدے کرنے سے پہلے ریاست کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ آئین کی جانب سے لازمی قرار دی گئی اصلاحات خود 15 سال سے زائد عرصے گزرنے کے باوجود اب تک جزوی طور پر ہی کیوں نافذ ہوئی ہیں۔
اس کے اثرات محض انتظامی نظم و ضبط سے کہیں آگے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو ازسرنو متعین کرنا تھا، جس کے تحت ذمہ داریاں عوام کے قریب منتقل کی گئیں۔ کسی نے اس ترمیم کی حمایت کی ہو یا مخالفت، اس کا آئینی مقصد واضح تھا۔ جب ادارے اپنے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوجانے کے باوجود کام کرتے رہیں تو لازمی طور پر اختیارات اور اداروں میں دوہرا پن پیدا ہوتا ہے۔
اس کے نتیجے میں ذمہ داریوں کا باہمی ٹکراؤ، غیر ضروری اخراجات، جوابدہی کا غیر واضح ہونا اور بیوروکریسی میں انتشار بھی پیدا ہوتا ہے۔ حکومتیں اس وقت مؤثر حکمرانی کی بات نہیں کرسکتیں جب وہ ایسے ڈھانچے برقرار رکھیں جن کا اصل آئینی مقصد پہلے ہی کہیں اور منتقل کیا جاچکا ہو۔
اتنا ہی تشویشناک معاملہ یہ ہے کہ بظاہر کسی ادارے نے اس صورتحال کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا مؤقف ہے کہ ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ مکمل کرلی گئی تھی اور اثاثوں کی منتقلی کابینہ ڈویژن کی ذمہ داری تھی۔ دوسری جانب کابینہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ اختیارات کی منتقلی کی کامیابی کا جائزہ لینا اس کے دائرۂ کار میں شامل نہیں اور اس معاملے میں سوالات کونسل آف کامن انٹرسٹس کی جانب بھیجے جانے چاہئیں۔
ہر ادارہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نظر آتا ہے کہ ذمہ داری کسی اور کی ہے۔ بدقسمتی سے حکمرانی اس وقت شاذونادر ہی بہتر ہوتی ہے جب جوابدہی ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک منتقل ہونے والی دوڑ بن جائے۔ پاکستان میں آئینی دفعات، قوانین یا پالیسی اعلانات کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اصل کمی عملدرآمد میں ہے۔ فائلیں آگے بڑھتی ہیں، نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہیں اور کمیشن اپنا کام مکمل کرتے ہیں، لیکن سرکاری طور پر مقرر کردہ مدت گزر جانے کے کافی عرصے بعد بھی مطلوبہ اصلاحات اکثر نامکمل رہتی ہیں۔
ادارے نئے یا تبدیل شدہ ناموں کے تحت برقرار رہتے ہیں، اختیارات اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم رہتی ہیں، اخراجات جاری رہتے ہیں اور حکومتیں بالآخر اس وقت اصلاحات کے ایک اور مرحلے پر بات شروع کردیتی ہیں جب پچھلا مرحلہ ابھی مکمل ہی نہیں ہوا ہوتا۔
اداروں کیلئے یہ طرزِ عمل ایک واضح مالی قیمت رکھتا ہے۔ ایک طرف دوہرے انتظامی ڈھانچے برقرار رکھنا اور دوسری جانب شہریوں سے بار بار کفایت شعاری قبول کرنے کا مطالبہ کرنا بالکل غلط پیغام دیتا ہے۔
ٹیکس دہندگان سے یہ توقع معقول طور پر نہیں کی جاسکتی کہ وہ بڑھتے ہوئے مالی بوجھ برداشت کرتے رہیں جبکہ حکومتیں خود ان انتظامی کفایت شعاری کے اقدامات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہیں جو آئین پہلے ہی لازمی قرار دے چکا ہے۔ انتظامی اصلاحات کا آغاز اس بات کے عملی مظاہرے سے ہوتا ہے کہ ریاست خود کو بھی اصلاح کے لیے تیار ہے۔
لہٰذا حکومت کو اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد کا ایک جامع جائزہ شائع کرنا چاہیے، جس میں واضح کیا جائے کہ کون سی وزارتیں اب بھی موجود ہیں، وہ کس قانونی اختیار کے تحت کام کر رہی ہیں، اس وقت کون سے فرائض انجام دے رہی ہیں اور ان فرائض کو اب بھی وفاقی سطح پر رکھنے کی کیا وجہ ہے۔ اگر آئینی طور پر اختیارات کی منتقلی مکمل ہوچکی ہے تو انتظامی ڈھانچے کو بھی اس حقیقت کی عکاسی کرنی چاہیے۔ اگر یہ عمل مکمل نہیں ہوا تو عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔
آئینی ترامیم محض علامتی مشق بننے کے لیے نہیں ہوتیں۔ ان کا مقصد یہ تبدیل کرنا ہوتا ہے کہ حکومتیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ جب وزارتیں صرف کاغذوں پر ختم ہوں لیکن عملی طور پر اپنا کام جاری رکھیں تو مسئلہ اب آئینی ڈیزائن کا نہیں رہتا۔ مسئلہ اس انتظامی عدم آمادگی کا بن جاتا ہے کہ آئین جو کچھ پہلے ہی لازم قرار دے چکا ہے، اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026