رائے

مالی اخراج کی پیداواری لاگت

  • ممالک اس وقت زیادہ خوشحال ہوتے ہیں جب ان کے کارکن زیادہ پیداوار دیتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

معاشی مباحث میں اکثر اس بات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے کہ حکومتیں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں۔ پالیسی ساز ٹیکس اصلاحات، صنعتی پالیسی، غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات، انفرااسٹرکچر، توانائی کی قیمتوں اور معاشی استحکام پر بحث کرتے ہیں۔ یہ سب یقیناً اہم امور ہیں، تاہم ان مباحث کے دوران اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل ایک انتہائی اہم رکاوٹ کو حیرت انگیز طور پر کم توجہ ملتی ہے: لاکھوں پیداواری افراد اور کاروباری ادارے اب بھی اس سرمائے تک رسائی سے محروم ہیں جس کی مدد سے وہ اپنی معاشی صلاحیت کو بھرپور طور پر بروئے کار لا سکتے ہیں۔

اس ناکامی کے نتائج کو نظرانداز کرنا آسان ہے کیونکہ یہ بڑی حد تک نظر نہیں آتے۔ جو فیکٹری کبھی توسیع نہیں کرتی، وہ معاشی اعدادوشمار میں ضائع ہونے والے ایک موقع کے طور پر نظر نہیں آتی۔ جو کسان بہتر زرعی مداخل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس کا ذکر خبروں کی سرخیوں میں نہیں آتا۔ جو چھوٹا کاروبار مالی معاونت دستیاب نہ ہونے کے باعث ملازمین کی بھرتی مؤخر کردیتا ہے، اس کے فیصلے کا بھی کوئی واضح نشان نہیں ملتا۔ اسی طرح سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نوجوان کاروباری اپنی امید افزا تجویز ترک کردے تو اسے ناکام سرمایہ کاریوں میں شمار نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہ سرمایہ کاری سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ تاہم، اجتماعی طور پر یہ محقق نہ ہونے والے مواقع معاشی ترقی کی رفتار پر نمایاں منفی اثر ڈالتے ہیں۔

یہی مالی اخراج کی پوشیدہ لاگت ہے۔ یہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت کا مسئلہ بھی ہے۔

بنیادی طور پر معاشی ترقی کی کہانی پیداواری صلاحیت میں اضافے کی کہانی ہے۔ ممالک اس وقت زیادہ خوشحال ہوتے ہیں جب کارکن زیادہ پیداوار دیتے ہیں، کاروبار زیادہ مؤثر ہوجاتے ہیں، زرعی پیداوار بڑھتی ہے اور سرمایہ ان شعبوں کی طرف منتقل ہوتا ہے جہاں اس کا سب سے زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہو۔ اس عمل میں مالیاتی نظام کا کردار بیک وقت سادہ بھی ہے اور نہایت اہم بھی۔ یہ وسائل مختص کرتا ہے، پیداواری مواقع کی نشاندہی کرتا ہے اور سرمایہ ان مواقع تک پہنچاتا ہے۔ جب یہ عمل مؤثر انداز میں کام کرتا ہے تو معیشت ترقی کرتی ہے، اور جب یہ ناقص ہو تو معاشی صلاحیت محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔

مالیات اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق گزشتہ کئی دہائیوں کی معاشی تحقیق میں بڑے پیمانے پر ثابت ہوچکا ہے۔ مالیاتی نظام خود سے خوشحالی پیدا نہیں کرتا، تاہم یہ ایک اہم معاون کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے پیداواری افراد اور کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری، توسیع، جدت اور مسابقت کے لیے درکار وسائل تک رسائی ملتی ہے۔ مالیاتی سہولیات تک رسائی کاروباری اداروں کو مشینری اور آلات خریدنے، کسانوں کو بہتر ٹیکنالوجی اپنانے، گھرانوں کو اثاثے بنانے اور کاروباری افراد کو اپنے خیالات کو عملی کاروبار میں تبدیل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ہر صورت میں سرمایہ انسانی محنت کے اثر کو کئی گنا بڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ مالیاتی سہولیات تک رسائی بالخصوص ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یکساں نہیں۔ پاکستان اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتے ہیں، برآمدات میں ان کا حصہ ایک چوتھائی ہے اور وہ ملک کی افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود رسمی قرضوں تک ان کی رسائی ان کی معاشی اہمیت اور عالمی معیارات دونوں کے مقابلے میں کم ہے۔

لاکھوں کاروباری ادارے اب بھی غیر رسمی مالیاتی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں، جو اکثر مہنگے، غیر قابلِ اعتماد یا ترقی پر مبنی سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فنانسنگ گیپ کو محض بینکاری کے اعدادوشمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بنیادی طور پر یہ پیداواری صلاحیت کا خلا ہے۔

ہر ایسا قابلِ عمل کاروبار جو ترقی کے لیے درکار سرمائے تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا، ممکنہ پیداوار سے محرومی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر ایسا صنعت کار جو مشینری کو جدید بنانے سے قاصر رہتا ہے، دراصل ممکنہ کارکردگی سے محروم ہوتا ہے۔ ہر ایسا ریٹیلر جو انوینٹری بڑھانے سے قاصر ہو، ممکنہ آمدنی سے محروم رہتا ہے۔ اور ہر ایسا کاروباری شخص جو اپنے کاروبار کا حجم بڑھانے سے قاصر ہو، ممکنہ روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر پاتا۔ یہ رکاوٹیں صرف انفرادی کاروباری اداروں کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ معیشت کی مجموعی پیداواری صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

زراعت اس کی ایک اور واضح مثال ہے۔ چھوٹے کسان اکثر اپنی پیداواری صلاحیت سے کم پیداوار حاصل کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ان میں علم یا محنت کی کمی ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ انہیں بروقت مالی معاونت دستیاب نہیں ہوتی۔ بہتر بیج، کھاد، آبپاشی کے نظام، زرعی مشینری، ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور جدید زرعی طریقوں، سب کے لیے سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ جہاں مالی وسائل دستیاب نہ ہوں وہاں پیداواری صلاحیت میں اضافے کے مواقع یا تو مؤخر ہوجاتے ہیں یا مکمل طور پر ترک کردیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حقیقی اور ممکنہ پیداوار کے درمیان پیدا ہونے والا فرق ایسی معاشی لاگت بن جاتا ہے جس کا بوجھ پیداوار کرنے والوں، صارفین اور حکومتوں سب کو اٹھانا پڑتا ہے۔

ہاؤسنگ فنانس بھی اس کی ایک ایسی ہی مگر اکثر نظرانداز کی جانے والی مثال ہے۔ رہائش کے بارے میں بحث عموماً اپنا گھر رکھنے کو ایک سماجی مقصد کے طور پر دیکھتی ہے، تاہم اس کا معاشی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر تعمیرات، اسٹیل، سیمنٹ، ٹرانسپورٹ، ریٹیل، پیشہ ورانہ خدمات اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرگرمی کو فروغ دیتا ہے۔ چنانچہ ایک مؤثر ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ نہ صرف اثاثے بنانے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ وسیع تر معاشی سرگرمی کے لیے محرک کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ جب ہاؤسنگ فنانس تک رسائی محدود رہتی ہے تو اس کے اثرات انفرادی گھرانوں سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔

یہی اصول خواتین کی ملکیت والے کاروباروں، پہلی بار کاروبار شروع کرنے والوں، دیہی کاروباری اداروں اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہر معاملے میں مالی اخراج سرمایہ کاری کو محدود کرتا ہے، کم سرمایہ کاری کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت گھٹتی ہے اور بالآخر کم پیداواری صلاحیت معاشی ترقی کی کم رفتار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

تاریخی طور پر مالیاتی سہولیات تک رسائی بڑھانا مشکل رہا ہے کیونکہ چھوٹے صارفین کو خدمات فراہم کرنا اکثر مہنگا پڑتا ہے۔ روایتی قرضہ جاتی نظام بڑی حد تک فزیکل برانچز، دستی جانچ پڑتال، وسیع دستاویزی تقاضوں اور زیادہ افرادی قوت درکار رکھنے والے سروسنگ نظام پر انحصار کرتے ہیں۔ بہت سے مالیاتی اداروں کے لیے کم مالیت کی مالی ضروریات یا محدود مالیاتی تاریخ رکھنے والے صارفین کو خدمات فراہم کرنا معاشی طور پر موزوں نہیں تھا۔ نتیجتاً معیشت کے بڑے حصے معاشی سرگرمیوں میں فعال ہونے کے باوجود رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہے۔

ٹیکنالوجی اب اس صورتحال کو تبدیل کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل آن بورڈنگ، متبادل ڈیٹا کی بنیاد پر قرضوں کی جانچ، خودکار رسک اسیسمنٹ، مربوط ادائیگی کے نظام اور مکمل ڈیجیٹل سروسنگ ماڈلز ان صارفین کی نشاندہی، جانچ اور خدمات کی لاگت کم کر رہے ہیں جو پہلے مالیاتی سہولیات سے محروم تھے۔ جو مارکیٹیں کبھی تجارتی لحاظ سے ناقابلِ عمل سمجھی جاتی تھیں، اب بتدریج قابلِ رسائی بن رہی ہیں۔ جو صارفین پہلے مالیاتی نظام کے لیے نظر نہ آنے والے تھے، اب ان کی پیمائش ممکن ہوگئی ہے، جبکہ جن خطرات کا پہلے اندازہ لگانا مشکل تھا، اب انہیں قابلِ پیمائش بنایا جا رہا ہے۔

یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ پائیدار مالی شمولیت کا مقصد محض بینک اکاؤنٹس کی تعداد بڑھانا نہیں۔ اصل مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ کسی مالیاتی نظام کی کارکردگی کا سب سے اہم پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کتنے صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سرمائے کو پیداواری سرگرمیوں کی جانب کتنی مؤثر انداز میں منتقل کرتا ہے۔

بینک آف پنجاب جیسے اداروں نے یہ دکھایا ہے کہ ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والے قرضہ جاتی ماڈلز بڑے پیمانے پر اس چیلنج سے نمٹنے میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل زرعی فنانس، ایس ایم ای فنانسنگ، ہاؤسنگ اسکیموں اور متبادل ڈیٹا کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کے طریقہ کار کے ذریعے ان طبقات تک رسائی ممکن ہوگئی ہے جو تاریخی طور پر مالی سہولیات سے محروم رہے ہیں، جبکہ تجارتی اصول و ضوابط بھی برقرار رکھے جاسکتے ہیں۔ ان کوششوں کی اہمیت انفرادی قرض لینے والوں سے کہیں آگے ہے۔ ان کا وسیع تر کردار معاشی سرگرمیوں میں لوگوں کی شمولیت بڑھانے اور ان شعبوں میں پیداواری سرمایہ کاری ممکن بنانے میں ہے جہاں پہلے یہ محدود تھی۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ مالی شمولیت کو اکثر انصاف کے مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ انصاف کا معاملہ بھی ہے، لیکن صرف انصاف کی بنیاد پر اس کی معاشی اہمیت پوری طرح واضح نہیں ہوتی۔ مالی شمولیت کے حق میں سب سے مضبوط دلیل اخلاقی نہیں بلکہ معاشی ہے۔

سرمائے تک رسائی رکھنے والا کاروباری شخص روزگار پیدا کرتا ہے۔ مالی معاونت حاصل کرنے والا کسان پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔ ورکنگ کیپیٹل دستیاب ہونے پر چھوٹا کاروبار اپنی پیداوار بڑھاتا ہے۔ ہاؤسنگ فنانس تک رسائی رکھنے والا خاندان اثاثے بناتا اور معاشی سرگرمی میں حصہ ڈالتا ہے۔ جب یہ نتائج بڑے پیمانے پر سامنے آتے ہیں تو یہی معاشی ترقی کی کہانی بن جاتے ہیں۔

لہٰذا مالی اخراج کی سب سے بڑی لاگت صرف ان لوگوں کو برداشت نہیں کرنا پڑتی جو مالیاتی نظام سے باہر رہ جاتے ہیں، بلکہ اس کا بوجھ پوری معیشت اٹھاتی ہے۔ توسیع کے لیے سرمائے سے محروم ہر منصوبہ، مؤخر ہونے والی ہر سرمایہ کاری، ناکافی سرمائے کے ساتھ چلنے والا ہر کاروبار اور ضائع ہونے والا ہر موقع ایسی معاشی خسارے میں حصہ ڈالتا ہے جو سرکاری اعدادوشمار میں شاذونادر ہی نظر آتا ہے، لیکن اس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ممالک صرف صلاحیت، وسائل یا کاروباری جذبہ رکھنے سے خوشحال نہیں ہوجاتے۔ وہ اس وقت خوشحالی حاصل کرتے ہیں جب سرمایہ جہاں بھی پیداواری مواقع موجود ہوں، وہاں پہنچ کر انہیں سہارا دے۔ آنے والی دہائیوں میں وہی معیشتیں کامیاب ہوں گی جو محض پیداواری صلاحیت کو ناپنے کے بجائے اس کی مالی معاونت کرنے میں بہتر ثابت ہوں گی۔

کسی بھی ملک کی سب سے اہم بیلنس شیٹ اس کے بینکوں کے پاس نہیں بلکہ اس کے عوام کے پاس ہوتی ہے۔ معاشی ترقی کا بنیادی چیلنج یہی ہے کہ عوام کی یہ صلاحیت بے کار نہ پڑی رہے۔