کاروبار اور معیشت

وزیراعظم اپنا گھر پروگرام: جانیں کون اہل ہے اور درخواست کیسے دی جائے

  • یہ ایک سبسڈی پر مبنی ملک گیر ہاؤسنگ فنانس اسکیم ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں رہائشی مکانات کی شدید قلت سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام (پی ایم-اے جی پی) متعارف کرا دیا ہے، جس کا باضابطہ نام ”وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا“ ہے۔

یہ ایک سبسڈی پر مبنی ملک گیر ہاؤسنگ فنانس اسکیم ہے، جس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو اپنا گھر حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے، جبکہ ساتھ ہی تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے ذریعے قومی معیشت کو بھی فروغ دینا ہے۔

ذیل میں پروگرام کے طریقہ کار، اہلیت، اور درخواست دینے کے مکمل طریقے کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔

اپنا گھر پروگرام کیا ہے؟

وزیراعظم اپنا گھر پروگرام حکومت کی سرپرستی میں چلنے والا ایک منصوبہ ہے، جس کے تحت ایسے شہریوں کو طویل المدتی اور کم لاگت ہاؤسنگ فنانس فراہم کیا جائے گا جو اس وقت اپنے نام پر کوئی رہائشی مکان نہیں رکھتے۔

اس اسکیم کے تحت مالیاتی اداروں کے ذریعے سبسڈی شدہ قرضے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ ملک بھر میں پہلی مرتبہ گھر خریدنے والے افراد، بشمول بیرون ملک مقیم پاکستانی، اپنا گھر حاصل کر سکیں۔

یہ پروگرام ہاؤسنگ سیکٹر سے وابستہ دیگر صنعتوں کو بھی فروغ دے گا، جس سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

کون درخواست دینے کا اہل ہے؟

اس اسکیم کی اہلیت کے معیار کو مختلف آمدنی رکھنے والے افراد، خصوصاً غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔

تمام پاکستانی شہری، جن کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہو، درخواست دے سکتے ہیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانی (این آر پیز) جن کے پاس نائی کاپ یا پی او سی ہو اور جن کی عمر 65 سال تک ہو بھی اہل ہیں۔

درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی مکان نہیں ہونا چاہیے۔

کسی بھی پیشے پر پابندی نہیں۔ وکلا، صحافی، ججز، پولیس اہلکار، اور مسلح افواج کے اہلکار بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

باقاعدہ تنخواہ لینے والے اور پے سلپ نہ رکھنے والے دونوں افراد اہل ہیں، غیر رسمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی آمدنی کے ثبوت کے طور پر بینک اسٹیٹمنٹس، یوٹیلیٹی بلز، اور موبائل ری چارج ریکارڈ پیش کر سکتے ہیں۔

مشترکہ درخواست بھی دی جا سکتی ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ چار افراد اپنی آمدنی یکجا کرکے قرض کی اہلیت حاصل کر سکتے ہیں۔

ماہانہ قرض کی قسط درخواست گزار کی مجموعی آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔

کن مقاصد کے لیے قرض حاصل کیا جا سکتا ہے؟

یہ اسکیم مختلف رہائشی ضروریات کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ جائیداد مقررہ سائز کے معیار پر پوری اترتی ہو۔

قرض ان مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے،تیار شدہ گھر یا اپارٹمنٹ خریدنے کے لیے۔موجودہ پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے کے لیے۔پلاٹ خرید کر اس پر گھر بنانے کے لیے۔پہلے سے موجود گھر کی مرمت یا تزئین و آرائش کے لیے۔

اس اسکیم کے تحت 250 مربع گز تک کے مکانات اور 1,500 مربع فٹ تک کے اپارٹمنٹس کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

قرض کی اہم خصوصیات، مارک اپ اور سبسڈی

حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے تاکہ قرض پر مارک اپ کی شرح کم رکھی جا سکے اور قرض فراہم کرنے والے مالیاتی اداروں کے خطرات میں کمی لائی جا سکے۔

کمرشل اور اسلامی بینکوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 1 کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکتا ہے۔مائیکروفنانس کمپنیوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے تک قرض دستیاب ہوگا۔

پہلے 10 سال تک 5 فیصد کی مقررہ اور سبسڈی شدہ مارک اپ شرح لاگو ہوگی۔اس کے بعد باقی مدت کے لیے مارکیٹ کے مطابق مارک اپ وصول کیا جائے گا۔قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال ہوگی۔

درخواست گزار کو کم از کم 10 فیصد رقم بطور ڈاؤن پیمنٹ ادا کرنا ہوگی، جبکہ باقی 90 فیصد مالیاتی ادارہ فراہم کرے گا۔

قرض کی درخواست پر کوئی پروسیسنگ فیس نہیں ہوگی۔اگر قرض لینے والا مقررہ مدت سے پہلے قرض ادا کر دے تو اس پر قبل از وقت ادائیگی کی کوئی اضافی فیس یا جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔

رسک گارنٹی،بینکوں کو قرض فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے وفاقی حکومت بقایا قرضوں کے مجموعی پورٹ فولیو پر 10 فیصد فرسٹ لاس رسک کور فراہم کرے گی۔

درخواست کہاں جمع کرائی جا سکتی ہے؟

درخواستیں درج ذیل طریقوں سے جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ پروگرام کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے،کمرشل بینکوں،اسلامی بینکوں،مائیکروفنانس بینکوں، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل) اور اہل نان بینکنگ فنانشل کمپنیوں کے ذریعے درخواستیں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام شریک مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مکمل کریڈٹ درخواست موصول ہونے کے بعد 15 ورکنگ ڈیز کے اندر اس پر فیصلہ کیا جائے۔

صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضلعی سطح پر فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کریں تاکہ درخواست گزار زمین کی ملکیت سے متعلق ضروری دستاویزات حاصل کرنے میں آسانی محسوس کریں۔اسی دوران وزارتِ ہاؤسنگ اور اسٹیٹ بینک قرض کی درخواست کے فارم کو مزید آسان بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

عوامی رہنمائی، سوالات کے جواب اور ہاؤسنگ فنانس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے جلد ہی ایک خصوصی ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی۔


نوٹ: یہ مضمون بصیر احمد، ہیڈ آف پولیٹکس ڈیسک، بزنس ریکارڈر (ڈیجیٹل) کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔