سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن (سیسی) نے اپنے تمام اسپتالوں میں ایچ آئی وی اسکریننگ کا عمل تیز کردیا ہے جب کہ حکام نئے سامنے آنے والے کیسز کی تحقیقات کررہے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا ان میں سے کوئی انفیکشن طبی علاج کے دوران منتقل ہوا ہے یا نہیں۔
کمشنر ہادی بخش کلہوڑو نے ایک بیان میں کہا کہ سیسی کے تمام اسپتالوں میں اب ایچ آئی وی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔
کمشنر کے مطابق لانڈھی اسپتال اور اس کے اطراف میں کیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کے دوران 2 ہزار افراد میں سے 10 افراد میں ایچ آئی وی مثبت پایا گیا جبکہ سیسی کے ولیکا اسپتال اور اس کے گرد و نواح میں 10 ہزار افراد کی اسکریننگ کے دوران 120 بچوں اور بالغ افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔
کلہوڑو نے کہا کہ صوبے بھر میں اسکریننگ مہم سرکاری اسپتالوں میں بھی جاری ہے تاکہ انفیکشنز کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کی جا سکے اور بیماری کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سیسی ہر ایچ آئی وی مثبت بچے اور ان کے اہل خانہ کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کررہا ہے تاکہ انہیں مناسب طبی علاج، فالو اَپ نگہداشت اور فلاحی معاونت فراہم کی جا سکے۔
کمشنر نے کہا کہ حکام جنوری 2025 سے سیسی اسپتالوں میں علاج کروانے والے تمام آؤٹ پیشنٹس اور زیرِ علاج مریضوں کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر اس عرصے کے دوران علاج حاصل کرنے والا کوئی مریض ایچ آئی وی مثبت پایا گیا تو اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی تاکہ انفیکشن کے ممکنہ ذریعے کا تعین کیا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں کسی غفلت یا طبی بدعنوانی کا عمل دخل تو نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ سیسی کے تمام اسپتال اور ڈسپنسریاں معمول کے مطابق طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں جبکہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے انفیکشن کنٹرول اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور ایچ آئی وی اسکریننگ کا دائرہ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026