رائے

پاکستان کا آئی سی ٹی سیکٹر ترقی کی نئی بلندیوں پر

  • پاکستان کا آئی سی ٹی شعبہ معاشی ترقی کا اہم ستون بن چکا، سی پیک 2.0 کے تحت ٹیکنالوجی تعاون معیشت کو جدت کی جانب لے جا سکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت ملک کی بڑی معاشی کامیابیوں میں سے ایک بنتی جا رہی ہے، جہاں روایتی شعبے بنیادی مسائل سے دوچار ہیں وہیں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے نے مضبوط کارکردگی، مسابقت اور برآمدات میں مسلسل اضافہ دکھایا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ٹیکنالوجی اب صرف معاون شعبہ نہیں رہی بلکہ اقتصادی تنوع، برآمدی ترقی، روزگار کے مواقع اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔پاکستان جب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے تو ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ پیش رفت ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے کہ چین کے ساتھ تعاون کو روایتی انفرااسٹرکچر منصوبوں سے آگے بڑھا کر جدت اور علم پر مبنی ترقی کی جانب لے جایا جائے۔اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کے آئی سی ٹی شعبے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ جولائی سے مارچ کے دوران آئی ٹی برآمدات کی آمدنی 19.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کا تجارتی سرپلس 2.911 ارب ڈالر رہا۔ ڈیجیٹل معیشت میں بھی تیزی سے وسعت آ رہی ہے۔ صرف فری لانسرز نے برآمدات سے 856.3 ملین ڈالر کمائے، جو عالمی ڈیجیٹل سروسز مارکیٹ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ بھی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے بڑھتے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈیجیٹل رابطوں کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ مارچ 2026 تک پاکستان میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 207.2 ملین جبکہ براڈ بینڈ صارفین 161 ملین تک پہنچ گئے اور براڈ بینڈ کی رسائی آبادی کے 64 فیصد سے زائد حصے تک ہو چکی ہے۔ ٹیلی کام شعبے نے 837 ارب روپے آمدنی حاصل کی اور قومی خزانے میں بھی نمایاں حصہ ڈالا۔ بہتر رابطوں نے ای کامرس، ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل حکومتی خدمات کے فروغ میں مدد دی، جس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں پیداواریت بڑھی۔ اب ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر بھی قومی مسابقت کے لیے سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی منصوبوں جتنا اہم بنتا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل ترقی کے فوائد صرف آئی ٹی صنعت تک محدود نہیں بلکہ معیشت کے دیگر شعبے بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی زراعت، صنعت، لاجسٹکس، صحت، تعلیم، مالیات اور حکومتی نظام میں کارکردگی بہتر بناتی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیاں لین دین کے اخراجات کم کرتی اور مالی شمولیت میں اضافہ کرتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کاروباری اداروں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسمارٹ مینوفیکچرنگ صنعتی پیداوار بڑھاتی ہے جبکہ ڈیجیٹل سپلائی چینز برآمدات کو زیادہ مسابقتی بناتی ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری پوری معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے، وسائل کے بہتر استعمال اور جدت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

یہ رجحانات سی پیک 2.0 کی سمت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پہلے مرحلے میں زیادہ توجہ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تھی جبکہ سی پیک 2.0 میں صنعتی تعاون، تکنیکی جدت، ڈیجیٹل رابطوں، ماحول دوست ترقی اور گہرے معاشی انضمام پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی رہنما بننے میں چین کی کامیابی پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ قریبی تعاون کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرے۔سی پیک 2.0 کے تحت ٹیکنالوجی تعاون پاکستان کی پیداواریت میں کئی شعبوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ صنعتی شعبے میں چین کی آٹومیشن، روبوٹکس، اسمارٹ فیکٹریز اور ڈیجیٹل معیار کنٹرول کی مہارت اسپیشل اکنامک زونز کو جدید بنانے اور صنعتی مسابقت بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔زراعت کے شعبے میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جدید کاشت کاری، ڈرون نگرانی، اسمارٹ آبپاشی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فصلوں کے انتظام سے پیداوار میں اضافہ، وسائل کا بہتر استعمال اور غذائی تحفظ مضبوط ہو سکتا ہے۔ لاجسٹکس کے شعبے میں اسمارٹ ٹرانسپورٹ نظام، ڈیجیٹل کسٹمز پلیٹ فارمز، بلاک چین پر مبنی تجارتی نظام اور اسمارٹ بندرگاہیں تجارتی اخراجات کم کرکے علاقائی رابطوں کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

توانائی کا شعبہ بھی تعاون کے لیے اہم مواقع رکھتا ہے، جہاں چین کا اسمارٹ گرڈ، قابل تجدید توانائی کے انتظام، بیٹری اسٹوریج اور ڈیجیٹل توانائی نگرانی کا تجربہ پاکستان کو توانائی کے بہتر استعمال اور پائیدار ترقی کی طرف بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن، مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیص، ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز اور بائیوٹیک تحقیق کے ذریعے بالخصوص دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں بہتر بنائی جا سکتی ہیں۔پاکستان میں سافٹ ویئر انجینئرز، ٹیکنالوجی کاروباری افراد اور فری لانسرز کی بڑھتی تعداد گہرے تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ چین کی جانب سے تحقیقی مراکز، ٹیکنالوجی پارکس، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریز، کلاؤڈ سہولیات اور جامعات کے ساتھ شراکت داری پاکستان کو اپنی تکنیکی صلاحیتیں بڑھانے اور اعلیٰ قدر کے روزگار پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے چند اہم چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے، جن میں مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کا فرق، مسلسل مہارتوں میں بہتری کی ضرورت، سائبر سیکیورٹی کے کمزور نظام اور تحقیق و ترقی میں محدود سرمایہ کاری شامل ہیں۔ پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک سے آگے بڑھ کر جدید ڈیجیٹل حل تیار کرنے والا ملک بننے کے لیے ان خلا کو دور کرنا ہوگا۔

سی پیک 2.0 سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو ایسی مربوط پالیسی اپنانا ہوگی جس میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی توسیع، سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کا فروغ، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر تحقیق میں سرمایہ کاری، سائبر سیکیورٹی کی بہتری اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون شامل ہو۔پاکستان اور چین کے مشترکہ جدت مراکز، تحقیقی پروگرامز، ٹیکنالوجی انکیوبیٹرز اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے مراعات، ٹیکنالوجی منتقلی کو تیز کر سکتے ہیں اور نئے خیالات کو عملی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔پاکستان کے آئی سی ٹی شعبے کی مضبوط کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی اب معیشت کا معمولی حصہ نہیں رہی بلکہ برآمدات، پیداوار اور معاشی مضبوطی کے لیے ایک اہم اثاثہ بن چکی ہے۔ اگر اسے سی پیک 2.0 میں مؤثر انداز سے شامل کیا جائے تو چین کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون پاکستان کے معاشی مستقبل کو نئی شکل دے سکتا ہے اور ملک کو انفرااسٹرکچر پر مبنی معیشت سے جدت پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے، جو عالمی علم پر مبنی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔