ہائبرڈ سکوک آخر ہے کیا؟
- ایک ہائبرڈ سکوک ایک ہی سرمایہ کاری کے اندر منافع کے مختلف ڈھانچے کو یکجا کرتا ہے
پاکستان نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہائبرڈ سکوک کی نیلامی کے ذریعے 239.3 ارب روپے حاصل کرلیے ہیں۔
سننے میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ صرف بینکرز کی دلچسپی کی چیز ہو، ہے نا؟
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس کا اصل مطلب کیا ہے۔
سب سے پہلے: سکوک کیا ہے؟
سکوک بنیادی طور پر حکومت کے بانڈز کی اسلامی شکل ہے۔
عام طور پر جب حکومتوں کو رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بانڈز جاری کرکے قرض حاصل کرتی ہیں۔ سرمایہ کار حکومت کو رقم فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں انہیں منافع (سود) ملتا ہے۔
لیکن اسلامی مالیات میں سود کی وصولی یا ادائیگی کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لیے سکوک کو حقیقی اثاثوں کی بنیاد پر ترتیب دیا جاتا ہے جو آمدنی پیدا کرتے ہیں، جیسے کرایہ، تاکہ سرمایہ کار شریعت کے مطابق منافع حاصل کر سکیں۔
تو پھر اس میں ہائبرڈ کیا ہے؟
اسے ایسے سمجھیں جیسے آپ ایک ایسا پیزا منگوائیں جس کا آدھا حصہ پیپرونی اور آدھا حصہ سبزیوں والا ہو۔
یہ ہے تو ایک ہی پیزا لیکن آپ کو اس میں دو مختلف ذائقے مل رہے ہیں۔
ہائبرڈ سکوک بھی اسی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں صرف ایک قسم کے منافع کی پیشکش کرنے کے بجائے ایک ہی سرمایہ کاری میں منافع کے دو مختلف ڈھانچوں کو یکجا کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی پہلی ہائبرڈ سکوک نیلامی میں سرمایہ کاروں کو تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کی مدت والے قلیل مدتی ڈسکاؤنٹڈ سکوک کے ساتھ 10 سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ (وی آر آر) سکوک خریدنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
کم مدت والے سکوک ڈسکاؤنٹ پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سرمایہ کار آج 95 روپے ادا کر سکتا ہے اور جب سکوک کی مدت پوری ہو گی تو 100 روپے وصول کرے گا۔ دونوں کے درمیان کا یہ فرق ہی ان کا منافع ہے۔
دس سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ سکوک مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس میں کرائے کی ادائیگیاں ایک بینچ مارک سے منسلک ہوتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ کے حالات کے مطابق اس کا منافع کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔
یہ اہم کیوں ہے؟
کیونکہ ہر سرمایہ کار کی ترجیحات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
کچھ لوگ ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جو مختصر مدت کی اور قابلِ پیشگوئی ہو جبکہ دیگر افراد طویل عرصے تک سرمایہ کاری اپنے پاس رکھنے میں راحت محسوس کرتے ہیں اگر اس کا منافع مارکیٹ کے مطابق تبدیل ہوتا رہے۔
ہائبرڈ سکوک ان دونوں قسم کے سرمایہ کاروں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔
یہ حکومت کے لیے بھی اچھی خبر ہے، جتنے زیادہ سرمایہ کار اس کے قرضی آلات خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، حکومت کے لیے عوامی اخراجات پورے کرنے کے لیے رقم کا حصول اتنا ہی آسان ہو جاتا ہے۔
بدھ کی نیلامی پر زبردست ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں اس کی زبردست مانگ موجود ہے۔ اگرچہ حکومت کا ہدف 239.3 ارب روپے اکٹھا کرنا تھا لیکن سرمایہ کاروں نے 770 ارب روپے سے زائد کی بولیاں جمع کروائیں جو پاکستان کے اس جدید ترین اسلامی مالیاتی آلے کے لیے شدید رجحان اور مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔
ہائبرڈ سکوک سننے میں ایک پیچیدہ مالیاتی اصطلاح لگ سکتا ہے، لیکن اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ اسلامی سرمایہ کاری کو پیش کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے بالکل ایسے جیسے صرف ایک ٹاپنگ پر اکتفا کرنے کے بجائے آدھے آدھے فلیور والا پیزا آرڈر کیا جائے۔