مارکٹس

پنجاب میں گندم کی نقل و حمل پر پابندی سے آزاد منڈی متاثر، بین الصوبائی اسمگلنگ کو فروغ ملا، پی ایف ایم اے

  • پی ایف ایم اے کا دعویٰ، پابندی کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹا مہنگا، سندھ میں 10 روز میں بحران کا خدشہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے بدھ کو کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کو دوسرے صوبوں میں منتقل کرنے پر پابندی کے باعث ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پی ایف ایم اے کے مطابق پنجاب حکومت نے مسلسل دوسرے سال بھی صوبے سے باہر گندم کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے، حالانکہ صوبہ ضرورت سے زائد گندم پیدا کرتا ہے اور پاکستان کی مجموعی گندم پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس پابندی نے پنجاب سے دوسرے صوبوں کو گندم کی غیر قانونی ترسیل کو فروغ دیا، جس کے باعث سپلائی تو جاری رہی، تاہم چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر رشوت کی ادائیگی کے سبب اس کی لاگت اور قیمت دونوں میں اضافہ ہو گیا۔

پی ایف ایم اے کے مرکزی چیئرمین بدر الدین کاکڑ نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا، ”یہ پابندی غیر قانونی ہے۔ اس سے ملک میں غذائی عدم تحفظ پیدا ہوا ہے۔ گندم کی نقل و حمل پر پابندی پاکستان میں گندم کو آزاد منڈی کی شے بنانے سے متعلق وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے بھی خلاف ہے۔“

پی ایف ایم اے نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں گندم اور آٹے کے مبینہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس کارروائی کے باعث سندھ کی فلور ملوں کو گندم کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے۔

پی ایف ایم اے کے سابق مرکزی چیئرمین چودھری محمد یوسف نے کہا، ”فلور ملوں کو گندم کی ترسیل مکمل طور پر رک چکی ہے۔ اگر آئندہ ایک دو روز میں ملوں کو گندم کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو کراچی اور بالائی سندھ کے بعض علاقوں میں دس روز کے اندر آٹا دستیاب نہیں ہوگا۔ ہم اس صورتحال کے حل کے لیے متعلقہ صوبائی حکام سے ملاقات کریں گے۔“

بدر الدین کاکڑ نے کہا کہ موجودہ بحران طلب اور رسد کے عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پنجاب سالانہ 2 کروڑ 20 لاکھ ٹن گندم پیدا کرتا ہے، جبکہ صوبے کی اپنی سالانہ ضرورت 1 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہے۔

انہوں نے کہا، ”اس کا مطلب ہے کہ پنجاب کے پاس ہر سال تقریباً 70 لاکھ ٹن اضافی گندم موجود ہوتی ہے، اس کے باوجود گزشتہ دو برس سے صوبے سے دوسرے صوبوں کو گندم کی ترسیل پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔“

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ملک بھر میں گندم کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنائیں۔

کاکڑ نے کہا، ”غذائی تحفظ صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ پورے ملک کا معاملہ ہے، لہٰذا قومی سطح پر تمام صوبوں کے لیے غذائی تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔“

ان کے مطابق خیبر پختونخوا کو سالانہ 55 لاکھ ٹن گندم درکار ہوتی ہے، جبکہ مقامی پیداوار صرف 15 لاکھ ٹن ہے۔ یوں تقریباً 40 لاکھ ٹن گندم کی کمی پنجاب سے خرید کر پوری کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”پنجاب سے خیبر پختونخوا گندم کی ترسیل بند نہیں ہوئی، لیکن اب یہ ضرورت بین الصوبائی اسمگلنگ کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ چیک پوسٹوں پر بھاری رشوت دے کر گندم پہنچائی جاتی ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ملک بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسرے صوبوں کو پنجاب سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔“

کاکڑ نے بتایا کہ پنجاب میں نمبر 2.5 آٹا 11,500 سے 11,800 روپے فی 100 کلوگرام بوری میں دستیاب ہے، جبکہ یہی آٹا خیبر پختونخوا میں 13 ہزار روپے، اور سندھ و بلوچستان میں 12 ہزار 500 روپے فی بوری فروخت ہو رہا ہے۔

پی ایف ایم اے خیبر پختونخوا زون کے چیئرمین محمد نعیم بٹ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں قائم چیک پوسٹوں پر گندم سے بھرے ہر ٹرک کے لیے 3 لاکھ سے 4 لاکھ روپے تک رشوت دینا پڑتی ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔