اداریہ

تعلیم کا نہ ختم ہونے والا بحران

  • اسکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں
شائع اپ ڈیٹ

سول سروسز اکیڈمی کے تازہ ترین جائزے کے مطابق قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے دو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان میں اب بھی اسکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

تشخیص، پالیسی فریم ورک یا سرکاری اعلانات کی کوئی کمی نہیں ہے کہ ملک اس مقام تک کیسے پہنچا۔

اصل المیہ یہ ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتوں نے کئی دہائیوں تک اس بحران کو تسلیم تو کیا، لیکن اسے روکنے کے بجائے مزید گہرا ہونے دیا، یہاں تک کہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک بن گیا۔ یہ اب محض تعلیم کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی ترقی کا بحران بن چکا ہے۔

آج پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ کئی برسوں سے پالیسی ساز اس بڑی اور نوجوان آبادی کو ایک ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ، یعنی ایسی آبادیاتی برتری، میں تبدیل کرنے کی بات کرتے آئے ہیں جو معاشی ترقی کو مہمیز دے سکے۔ مگر اس خواہش کی بنیاد ایک ہی بنیادی شرط پر قائم ہے: نوجوانوں کو ایسی تعلیم ملنی چاہیے جو انہیں علم اور مہارتوں سے آراستہ کرے تاکہ وہ معیشت میں مؤثر اور پیداواری کردار ادا کر سکیں۔ جب ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کو تعلیمی نظام سے باہر چھوڑ دیا جائے تو جو چیز معاشی فائدہ بن سکتی تھی، وہ آبادیاتی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

سول سروسز اکیڈمی کے جامع جائزے نے درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کا بحران اب پالیسی سازی کا نہیں بلکہ عمل درآمد کا ہے۔ یہ مشاہدہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ کئی دہائیوں سے تعلیم قومی منصوبوں، آئینی ضمانتوں اور بارہا کیے گئے پالیسی وعدوں کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25-اے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ قومی ایکشن پلان تیار کیے گئے، تعلیمی ایمرجنسیوں کا اعلان ہوا، مگر ہر چند سال بعد ایک نئی رپورٹ سامنے آ جاتی ہے جو انہی ناکامیوں کو پہلے سے زیادہ بڑے اعداد و شمار اور زیادہ سنگین انداز میں دہراتی ہے۔

صوبائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کس قدر گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ صرف پنجاب میں 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ میں یہ تعداد تقریباً 74 لاکھ ہے، جن میں سے 41 لاکھ کے قریب لڑکیاں ہیں۔ خیبر پختونخوا کو سکیورٹی مسائل، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بلوچستان اب بھی بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی، غیر فعال اسکولوں اور تعلیم تک رسائی میں غیر معمولی رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ اگرچہ ہر صوبے کے مسائل مختلف ہیں، لیکن سب ایک ہی انجام تک پہنچتے ہیں: لاکھوں بچے اس تعلیم سے محروم ہیں جس کی ضمانت انہیں آئین دیتا ہے۔

رپورٹ ایک اور تلخ حقیقت بھی بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی بحران اس کے باوجود برقرار ہے کہ ملک بخوبی جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ بہتر طرز حکمرانی، زیادہ مضبوط احتساب، بہتر ڈیٹا انضمام، زیادہ سرمایہ کاری، مزید کلاس رومز، اضافی اساتذہ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی—یہ تمام سفارشات بارہا دی جا چکی ہیں۔ پاکستان کو آئیڈیاز کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ سیاسی عزم کی کمی درپیش ہے۔

اس ناکامی کے نتائج صرف شرح خواندگی تک محدود نہیں رہتے۔ جو بچے آج اسکول سے باہر ہیں، ان کے غربت میں پھنسے رہنے، کم مہارت والے غیر رسمی روزگار اختیار کرنے، خراب صحت کے نتائج کا سامنا کرنے اور پوری زندگی محدود معاشی مواقع سے دوچار رہنے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ قومی سطح پر کمزور تعلیمی معیار براہِ راست کم پیداواری صلاحیت، مسابقت میں کمی اور طویل المدتی معاشی ترقی کی سست رفتاری کا سبب بنتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو پائیدار ترقی کا خواہاں ہو، وہ اپنی مستقبل کی افرادی قوت کے اتنے بڑے حصے کو کلاس روم سے باہر رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مالیاتی دلیل بھی اتنی ہی مضبوط ہے۔ پاکستان اب بھی اپنی قومی آمدنی کا نسبتاً کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے، جبکہ اس اخراجات کا بڑا حصہ تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے بجائے تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ ہر گزرتا سال اس بحران پر قابو پانے کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے، کیونکہ آبادی میں اضافہ تعلیمی استعداد سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔

ایک اور ستم ظریفی بھی توجہ کی مستحق ہے۔ سیاسی رہنما اکثر پاکستان کی نوجوان آبادی کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہیں۔ لیکن ایسی طاقت جو تعلیم یافتہ نہ ہو، ہمیشہ طاقت نہیں رہ سکتی۔ ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ صرف آبادی بڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس آبادی پر تعلیم، صحت اور مہارتوں کی ترقی کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ان سرمایہ کاریوں کے بغیر آبادی میں اضافہ بالآخر روزگار، عوامی خدمات، سماجی استحکام اور معاشی وسائل پر مزید دباؤ ڈال دیتا ہے۔

لہٰذا سول سروسز اکیڈمی کی اس رپورٹ کو محض ایک اور پالیسی جائزہ سمجھ کر سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے جہاں کئی دہائیوں کی غفلت کا ازالہ کرنا بتدریج مشکل تر ہوتا جائے گا۔ آج جو ہر بچہ اسکول سے باہر ہے، وہ کل نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے ملک کے لیے ایک کھویا ہوا موقع ہے۔

پاکستان تعلیمی ایمرجنسیوں کا اعلان بہت کر چکا۔ اب اصل ایمرجنسی عمل درآمد کی ہے۔ جب تک حکومتیں ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کو دیگر تمام قومی اسٹرٹیجک اہداف کے برابر اہم قومی ترجیح نہیں بناتیں، اس وقت تک ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے بچے ایک ایک کرکے اس کے ہاتھوں سے پھسلتے رہیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026