اداریہ

زندہ مویشی یا ویلیو ایڈیشن

  • پنجاب کی جانب سے زندہ مویشیوں کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے نے پاکستان کی برآمدی حکمت عملی کی سمت کے حوالے سے ایک اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پنجاب کی جانب سے زندہ مویشیوں کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے نے پاکستان کی برآمدی حکمت عملی کی سمت کے حوالے سے ایک اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ زرمبادلہ کمانا بلا شبہ قومی ترجیح ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب بیرونی مالی معاونت اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلسل توقعات سے کم رہی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا زندہ مویشی برآمد کرنا اس مقصد کو اتنے ہی مؤثر انداز میں پورا کرتا ہے جتنا کہ انہی جانوروں کو ملک کے اندر پراسیس کرکے کہیں زیادہ ویلیو ایڈڈ (قدر میں اضافے والی) مصنوعات کی صورت میں برآمد کرنا۔

گوشت برآمد کرنے والوں اور کاروباری رہنماؤں کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں، کیونکہ یہ معاملہ محض ایک صنعت کے مفادات تک محدود نہیں۔ پاکستان خطے میں مویشیوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور ملک میں گوشت کی پروسیسنگ کی ایک ایسی صنعت بھی ترقی کر چکی ہے جس کا مؤقف ہے کہ زندہ جانوروں کی برآمد ان سرمایہ کاریوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو پہلے ہی برآمدات پر مبنی گوشت پراسیسنگ کی تنصیبات میں کی جا چکی ہیں۔

اقتصادی اعتبار سے یہ فرق نہایت اہم ہے۔ ایک زندہ جانور صرف ایک مرتبہ زرمبادلہ کما کر دیتا ہے، جبکہ اسی جانور کو پراسیس کرنے سے وہ بین الاقوامی منڈی تک پہنچنے سے پہلے ملک کے اندر پوری ایک ویلیو چین کو متحرک کرتا ہے۔ گوشت کی پروسیسنگ ذبح خانوں، پیکجنگ، ٹرانسپورٹ، کولڈ اسٹوریج، ویٹرنری خدمات، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں روزگار پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح کھالیں اور چمڑا، لیدر انڈسٹری کے لیے خام مال فراہم کرتے ہیں، جبکہ اوجھڑی، ہڈیاں اور دیگر ضمنی مصنوعات کئی دوسرے شعبوں میں اضافی تجارتی سرگرمیوں کا باعث بنتی ہیں۔ ملکی سطح پر پروسیسنگ کا ہر مرحلہ آمدنی، روزگار اور ٹیکس محصولات پیدا کرتا ہے، جبکہ جانور کو زندہ برآمد کر دینے کی صورت میں یہ تمام معاشی فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ وہ ممالک جو اپنی برآمدات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، عموماً خام مصنوعات برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پاکستان بھی برسوں سے اس ضرورت پر زور دیتا آیا ہے کہ خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے انہیں پراسیس کرکے برآمد کیا جائے، اور زرعی اجناس کو خام حالت میں بھیجنے کے بجائے برانڈڈ غذائی مصنوعات کی شکل میں عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے۔ یہی اصول مویشیوں کے شعبے پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ عملی پہلو بھی ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر زندہ مویشیوں کی برآمد پر کوئی مؤثر ضابطہ نہ ہوا تو اس سے ملکی گوشت پراسیسنگ صنعت کے لیے معیاری مویشیوں کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے قائم کیے گئے جدید پراسیسنگ پلانٹس اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام کرنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ مویشیوں کی رسد میں کمی سے ملک کے اندر گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافے کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ پہلے ہی مہنگائی کا شکار صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔

اس تمام بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زندہ مویشیوں کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ مویشی پال کسان بھی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے حق دار ہیں، جبکہ خطے میں موجود طلب ان کے لیے آمدنی کے قیمتی مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اصل چیلنج ایسی پالیسی تشکیل دینا ہے جو ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم کرے، نہ کہ ایک شعبے کے مفاد کو دوسرے کے نقصان کا سبب بننے دے۔

اس مقصد کے لیے صرف برآمدات کی اجازت دینے یا ان پر پابندی عائد کرنے سے کہیں زیادہ جامع اور دانشمندانہ برآمدی حکمت عملی درکار ہے۔ ملک میں گوشت پراسیسنگ کی استعداد کو واضح حکومتی پالیسی کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔ پراسیس شدہ حلال گوشت کی برآمدات کے لیے مراعات، جدید پراسیسنگ پلانٹس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کہ مقامی صنعت کو مناسب مقدار میں مویشی دستیاب رہیں، ایسے تمام اقدامات ہیں جو اس شعبے سے حاصل ہونے والی مجموعی معاشی قدر میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی حقیقی مسابقتی برتری صرف مویشی پالنے میں نہیں بلکہ عالمی معیار کی ایک مسابقتی حلال گوشت کی صنعت قائم کرنے میں ہے۔ دنیا بھر میں مستند حلال غذائی مصنوعات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جو ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جو زندہ جانوروں کی ایک بار کی فروخت سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ جو ممالک آج ان عالمی منڈیوں پر غلبہ رکھتے ہیں، انہوں نے یہ مقام صرف خام مال برآمد کرکے حاصل نہیں کیا بلکہ برانڈنگ، معیار کی یقین دہانی، جدید پراسیسنگ کے معیارات اور مربوط سپلائی چینز کے ذریعے حاصل کیا ہے۔

اسی لیے پنجاب حکومت کی اس پالیسی پر نظرثانی کی جانی چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ ایک مستقل مثال بن جائے۔ مقصد صرف آج زرمبادلہ کمانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرتے ہوئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، مقامی صنعت کو مضبوط بنانا اور طویل مدت میں پاکستان کی برآمدی مسابقت کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

پاکستان متعدد مواقع پر اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب معیشت ویلیو چین میں بہتری کی جانب پیش رفت کرے۔ مویشیوں کا شعبہ اس اصول کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

ایک زندہ جانور فروخت کرنے سے فوری آمدنی تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اسی جانور کو ملک کے اندر پراسیس کرنے سے صرف آمدنی نہیں بلکہ ایک پوری صنعت جنم لیتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026