بچوں کا تحفظ والدین کے سمجھوتے سے بڑھ کر ہے
- والدین کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے سے قطع نظر، بچے کے بہترین مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے
بچے کے نان و نفقہ سے متعلق ایک مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ ایک ایسے اصول کی توثیق کرتا ہے جس پر کبھی بھی سودے بازی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے: بچے کے حقوق والدین کی باہمی رضامندی یا سمجھوتے کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیے جا سکتے۔ یہ قرار دے کر کہ والدین کی رضامندی کسی ایسے انتظام کو قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتی جو نابالغ بچے کی فلاح و بہبود کے منافی ہو، عدالت نے نہ صرف بچوں کے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے بلکہ اس ذمہ داری کی بھی توثیق کی ہے کہ فیملی کورٹس بچوں کے مفادات کی محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔
یہ فیصلہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ والدین کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے سے قطع نظر، بچے کے بہترین مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔
اس مقدمے کے حقائق نہایت تشویش ناک ہیں۔ ایک باپ اور ماں نے باہمی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ماں نے یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ اپنی نابالغ بیٹی کے لیے مستقبل میں نان و نفقے کا کوئی دعویٰ نہیں کرے گی، اور مزید یہ بھی تسلیم کیا کہ بچی اپنے والد کی جائیداد میں وراثت کا حق بھی طلب نہیں کرے گی۔
اس نوعیت کا معاہدہ درحقیقت بچے کو ایسے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش تھا جو صرف اور صرف بچے کے اپنے حقوق ہیں اور جنہیں قانون اور اسلامی اصول دونوں مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا، ماں اپنے بچے کی جانب سے نان و نفقے کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے، لیکن وہ کسی ایسے حق سے مستقل طور پر دستبردار نہیں ہو سکتی جو اس کا اپنا حق ہی نہیں کہ وہ اسے معاف یا ترک کر سکے۔
اسی طرح اسلامی قانون کے تحت مقرر کردہ وراثت کے حقوق لازمی اور قطعی نوعیت کے حامل ہیں اور والدین کے درمیان نجی معاہدوں کے ذریعے انہیں کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسے سمجھوتوں کی اجازت دے دی جائے تو اس سے نہایت خطرناک نظائر قائم ہوں گے، جن کے نتیجے میں بے شمار بچے مالی اعتبار سے غیر محفوظ اور سماجی طور پر محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اتنی ہی اہم عدالت کی جانب سے فیملی کورٹس کے کردار کی وضاحت بھی ہے۔ اکثر خاندانی تنازعات میں مصالحت کو تنازع ختم کرنے کا تیز ترین ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ تاہم جہاں نابالغ بچوں کے مفادات وابستہ ہوں، وہاں عدالتیں محض معاہدوں کو ریکارڈ کرنے والے اداروں کا کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ قانون کے تحت ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر یہ جائزہ لیں کہ آیا کوئی بھی سمجھوتہ واقعی بچے کی فلاح و بہبود کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔
عدالت کی یہ ہدایت کہ ایسا کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا جائے جو بچے کے نان و نفقے یا وراثت کے حق سے مستقل دستبرداری پر مبنی ہو، اور یہ کہ جج ہر ایسے سمجھوتے کی منظوری دیتے وقت واضح اور مخصوص وجوہات ریکارڈ کریں جن سے یہ ثابت ہو کہ یہ مفاہمت نابالغ کے مفاد میں ہے، عدالتی جوابدہی کا ایک نہایت ضروری معیار متعارف کراتی ہے۔ یہ فیصلہ آئینی فریم ورک، فیملی کورٹس ایکٹ، گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ اور بچوں سے متعلق معاملات میں نافذ شدہ اس مسلمہ اصولِ فلاح و بہبود کو بھی مزید مضبوط کرتا ہے، جس کے مطابق ہر فیصلے کا بنیادی معیار بچے کا بہترین مفاد ہونا چاہیے۔
یہ فیصلہ عوامی شعور میں اضافے کا بھی باعث بننا چاہیے۔ بہت سے والدین شاید اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے کہ کسی خاندانی تنازعے کے آسان یا فوری تصفیے کی خاطر بچے کے قانونی حقوق کو سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح وکلا اور ثالثوں پر بھی ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے تمام معاہدے قانون کی حدود کے اندر ہوں اور کمزور و بے بس بچوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کریں۔
والدین کی سہولت یا باہمی رضامندی پر بچے کی فلاح و بہبود کو فوقیت دے کر لاہور ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کی ہے کہ خاندانی معاملات میں انصاف کا معیار یہ نہیں کہ سمجھوتہ کتنی جلدی ہو گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان افراد کو کتنا مؤثر تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنی حفاظت خود کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026