کھیل

بہتری کی جانب گامزن اسپین نے آسٹریا کو 0-3 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے میں باآسانی جگہ بنا لی

  • اگرچہ اسپین کے حملہ آور شعبے، خصوصاً کم عمر فارورڈ لامین یامال، سب کی توجہ کا مرکز ہیں، تاہم ٹیم کا دفاعی شعبہ بھی مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

اسپین نے جمعرات کو آسٹریا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 0-3 سے شکست دے کر اپنے حریفوں کو واضح پیغام دے دیا اور آخری 16 مرحلے میں جگہ بنا لی۔ اس کامیابی میں میکل اویارسابال کے دو گول اور دفاعی شعبے کی ایک اور شاندار کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ٹورنامنٹ سے قبل فیورٹ ٹیموں میں شمار ہونے والی اسپین، جس نے اب تک ایک بھی گول نہیں کھایا، نے اگرچہ اپنے پہلے میچ میں کیپ ورڈے کے خلاف ڈرا کے ساتھ سست آغاز کیا تھا، تاہم جنوبی کیلیفورنیا میں تیز دھوپ میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریا کے پاس اسپین کے مسلسل حملوں اور ناقابلِ تسخیر دفاع کا کوئی جواب نہیں تھا۔

اگرچہ اسپین کے حملہ آور شعبے، خصوصاً نوجوان فارورڈ لامین یامال، زیادہ تر توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں، تاہم ٹیم کا دفاعی شعبہ بھی مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

اسپین نے آسٹریا کو پورے میچ میں گول کی سمت ایک بھی شاٹ لگانے کا موقع نہیں دیا۔ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں 2014 کے فائنل میں جرمنی کی ارجنٹینا کے خلاف کامیابی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے اپنے حریف کو گول کی سمت ایک بھی شاٹ نہیں لگانے دیا۔

اسپین کو کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اب پرتگال یا کروشیا میں سے کسی ایک کا سامنا کرنا ہوگا۔

اویارسابال نے کہا، ”میری کوئی ترجیح نہیں کہ کس ٹیم کے خلاف کھیلنا بہتر ہوگا، میں نے کسی مخصوص ٹیم کے حساب سے منصوبہ بندی نہیں کی۔ جو بھی سامنے آئے، ہم تیار ہیں۔“

اسپین کا مسلسل دباؤ

اسپین نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا، جہاں لامین یامال نے بار بار آسٹریا کے دفاع کو مشکلات سے دوچار کیا جبکہ لا روخا ابتدا ہی میں برتری حاصل کرنے کے لیے مسلسل دباؤ بڑھاتا رہا۔

اسپین نے سمجھا کہ مارک کوکوریلا کے قریبی فاصلے سے کیے گئے شاٹ پر اسے برتری مل گئی ہے، تاہم گول کیپر الیگزینڈر شلاگر کے خلاف فاؤل کے باعث یہ گول مسترد کر دیا گیا۔

تاہم مسلسل دباؤ بالآخر رنگ لے آیا۔ کوکوریلا نے پنالٹی ایریا میں نہایت عمدہ کراس دیا، جسے اویارسابال نے گیند کو نیچے والے کونے میں پہنچا کر گول میں تبدیل کر دیا، جس پر اسٹیڈیم میں موجود اسپین کے حامیوں کی بڑی تعداد خوشی سے جھوم اٹھی۔

وقفے سے قبل شلاگر نے شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگاتار دو اہم بچاؤ کیے۔ پہلے انہوں نے فری کک روکی اور پھر اس کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں بھی گول نہ ہونے دیا، جس کی بدولت آسٹریا وقفے تک صرف ایک گول کے خسارے میں رہا۔

دوسرے ہاف میں آسٹریا کو برابری کا بہترین موقع اس وقت ملا جب پنالٹی ایریا میں ایک عمدہ کراس پر ساشا کالاجدزچ نے ہیڈر لگایا، تاہم گیند بے ضرر انداز میں گول کے اوپر جا گری۔

الجیریا کے خلاف آخری لمحات میں گول کر کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے والی آسٹریا کی ٹیم، اسپین کے منظم دفاع اور گیند پر پراعتماد کنٹرول کے سامنے واضح مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی، جبکہ اسپین نے مسلسل کلین شیٹ برقرار رکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

میچ کے 66ویں منٹ میں پیڈرو پورو نے ہیڈر کے ذریعے اسپین کی برتری دگنی کر دی۔ یہ گول کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں کیا گیا، جہاں ہسپانوی اداکارہ پینیلوپے کروز اور اداکار خاویئر باردیم بھی موجود تھے۔

میچ کے 89ویں منٹ میں اویارسابال نے آسٹریا کے دفاع کی ایک بڑی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹورنامنٹ میں اپنا چوتھا گول اسکور کیا، جبکہ آسٹریا کے کھلاڑی اس موقع پر واضح طور پر مایوس دکھائی دے رہے تھے۔

لامین کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب

2010 میں ورلڈ کپ جیتنے والی اسپین کی ٹیم نے آسٹریا کے خلاف پورے اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ ٹیم کو 18 سالہ لامین یامال کی کارکردگی سے بھی بھرپور حوصلہ ملا، جنہوں نے ایسا تاثر دیا کہ وہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں ہیم اسٹرنگ انجری کے باعث پیش آنے والی مشکلات سے پوری طرح نکل چکے ہیں۔

نوجوان فارورڈ نے کہا کہ وہ بتدریج اپنی بہترین فارم دوبارہ حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”آہستہ آہستہ مجھے دوبارہ محسوس ہونے لگا ہے کہ میں اپنی اصل فارم میں واپس آ رہا ہوں۔ وہی دوڑیں، وہی ڈربلنگ، سب کچھ دوبارہ بہتر ہو رہا ہے۔“

آخری 16 مرحلے کے میچ کے لیے اسپین کی ٹیم اب ڈلاس روانہ ہوگی۔ لامین نے کہا کہ اب کسی بھی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا، ”اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ اگر چاہیں تو گھر جا سکتے ہیں، لیکن ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا، کوئی ہسپانوی ایسا نہیں چاہتا۔ ہم اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کھیلیں گے۔ فی الحال آرام کریں گے اور اگلے میچ پر توجہ دیں گے۔“

لامین نے کہا کہ کسی بھی فٹبالر کے لیے ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا کھیل کی معراج ہے، اور اب ان کی پوری توجہ اسپین کو ٹورنامنٹ جتوانے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا، ”جب کوئی بچہ فٹبال کھیلنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی اور ورلڈ کپ میں کھیلنے کا خواب بھی دیکھتا ہے۔ اب میں یہاں ہوں۔ میری پوری توجہ مزید آگے بڑھنے اور اسپین کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے کا اپنا خواب پورا کرنے پر ہے۔“