غفلت کی المناک داستان
- کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، جس میں کم از کم 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، جس میں کم از کم 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد دیگر زخمی ہوئے، محض ایک افسوسناک حادثہ نہیں۔ یہ سرکاری غفلت، کمزور ریگولیٹری عملدرآمد اور ریاست کی جانب سے تمام بچوں کو محفوظ، قابلِ رسائی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے میں مسلسل ناکامی پر ایک تباہ کن فردِ جرم ہے۔
اگرچہ ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں سے معمول کے مطابق افسوس اور تعزیت کے اظہار مناسب ہیں، لیکن وہ نہ تو جوابدہی کا متبادل بن سکتے ہیں اور نہ ہی بامعنی اصلاحات کا۔ جب تک ایسے سانحات کے پس پردہ موجود ساختی وجوہات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، قابلِ تدارک آفات کے بعد تعزیت کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
سب سے فوری اور تشویش ناک سوال یہ ہے کہ بچوں کو ایسی عمارت میں تعلیم کیوں دی جا رہی تھی جہاں تعمیراتی کام ابھی جاری تھا۔ اگر ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھت گرنے کے وقت عمارت میں مزدور کام کر رہے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ ذمہ دار افراد نے کمسن جانوں کے تحفظ کے حوالے سے حیران کن حد تک بے حسی اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔
اتنی ہی تشویش ناک بات یہ ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس قدر خطرناک صورتِ حال کا نہ تو بروقت سراغ لگا سکے اور نہ ہی اسے روک سکے۔ تعمیراتی ضوابط کسی وجہ سے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد غیر مستقل، کمزور یا بعض اوقات مکمل طور پر غائب رہتا ہے، جس کے باعث غیر محفوظ عمارتیں اس وقت تک زیر استعمال رہتی ہیں جب تک کوئی سانحہ رونما نہ ہو جائے۔
یہ سانحہ گورننس کے ایک وسیع تر بحران کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ خصوصاً مون سون کے موسم میں چھتوں کا گر جانا پاکستان کی خبروں میں بار بار دہرایا جانے والا حصہ بن چکا ہے۔ ایسے واقعات بارہا ناقص تعمیراتی معیار، ناکافی معائنوں اور اس رویے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں جس میں قوانین کو لازمی تقاضا سمجھنے کے بجائے اختیاری ہدایت تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے میں مجرمانہ غفلت ثابت ہو جاتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلااستثنا قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکام کو پورے صوبے میں رہائشی عمارتوں میں قائم نجی اسکولوں، ٹیوشن سینٹروں اور دیگر تعلیمی اداروں کا جامع آڈٹ کرنا چاہیے۔
تعمیراتی تحفظ سے متعلق سوالات سے آگے ایک اور تلخ حقیقت بھی موجود ہے، جو ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق ہے۔ اس سانحے کا شکار ہونے والے بچے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے تھے، جن کے والدین نے محدود مالی وسائل کے باوجود انہیں اضافی تعلیم دلانے کی کوشش کی۔
ان کا یہ عزم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اب بھی تعلیم کو بہتر مستقبل کی راہ سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ لاکھوں والدین آج بھی وہ ذمہ داریاں خود اٹھا رہے ہیں جو آئین واضح طور پر ریاست پر عائد کرتا ہے۔
آئین کا آرٹیکل 25-اے پانچ سے 16 سال کی عمر کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن غیر رسمی ٹیوشن سینٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، جو اکثر غیر موزوں عمارتوں میں قائم ہیں، بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کے معیار اور رسائی میں سنگین خلا موجود ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف آئین اسکولی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتِ پنجاب نے ہزاروں سرکاری اسکولوں کے انتظامی امور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، نجی آپریٹرز اور تعلیمی فاؤنڈیشنز کے سپرد کر دیے ہیں۔
اگرچہ شراکت داری اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن ذمہ داری کی منتقلی ریاستی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ تعلیم محض ایک ایسی خدمت نہیں جسے کسی دوسرے کے سپرد کر دیا جائے؛ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مسلسل سرکاری سرمایہ کاری، مؤثر ضابطہ بندی اور غیر متزلزل نگرانی ناگزیر ہے۔
کاہنہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے بچوں کو چھت گرنے سے بہت پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا تھا۔ انہیں غیر محفوظ تعمیراتی طریقوں، کمزور عملدرآمد، اور ایسے تعلیمی نظام نے ناکام بنایا جس نے ان کے خاندانوں کے پاس قابلِ عمل متبادل تقریباً ختم کر دیے تھے۔ ان بچوں کی اموات کو ایسی اصلاحات کا نقطۂ آغاز بننا چاہیے جو بچوں کے تحفظ اور معیاری تعلیم کے ان کے بنیادی حق کو انتظامی سہولت اور سرکاری بے حسی پر ہمیشہ ترجیح دیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026