امریکی سفری پابندیوں پر ایرانی فٹبال کوچ کی شدید تنقید
ایرانی فٹبال ٹیم کے کوچ امیر قلعہ نوئی نے جمعہ کو ورلڈ کپ میں مصر کے خلاف 1-1 سے ڈرا میچ کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے ٹیم پر عائد سفری پابندیوں پر تنقید کی۔
اگرچہ ایران کی ٹیم کو اپنے گروپ کے تینوں میچ کھیلنے کے لیے میکسیکو سے امریکہ آنا پڑا، پھر بھی وہ میچ میں اس امید کے ساتھ اتری کہ شاید وہ گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لے، اگرچہ اس کے امکانات بہت کم تھے۔
امریکہ نے جمعہ کے میچ کے لیے اسکواڈ پر عائد سفری پابندیوں میں معمولی نرمی کی جس کی بدولت وہ سیٹل کے علاقے میں دو دن پہلے پہنچنے میں کامیاب رہے۔
میچ کے بعد رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے قلعہ نوئی نے کہا کہ میزبان ملک نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی۔ ان کے مطابق اگر میزبان ملک ہمیں دو ہفتے پہلے آنے کی اجازت دیتا تاکہ ہم بہتر تیاری کرسکتے تو ٹیم فزیکل اور ذہنی طور پر زیادہ بہتر حالت میں ہوتی، تاہم انہیں اس سہولت سے محروم رکھا گیا۔
یہ پابندیاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کے بعد پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔
مارچ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگرچہ ایران کا ٹورنامنٹ میں حصہ لینا خوش آئند ہے لیکن ان کا ماننا ہے کہ میچوں کے درمیان ان کا وہاں قیام ان کی اپنی زندگی اور حفاظت کے لیے مناسب نہیں ہے۔
ایران کو اس وقت ناک آؤٹ مرحلے میں براہ راست جگہ ملتی دکھائی دی جب شجاع خلیل زادہ نے انجری ٹائم میں ایک لوز بال کو نیٹ میں پہنچا دیا۔
اسٹیڈیم میں موجود ایرانی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے لیکن وی اے آر ریویو کے بعد گول کو آف سائیڈ قرار دے کر منسوخ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں پہلے سمجھتا تھا کہ ہم واقعی ایک مظلوم ٹیم ہیں لیکن ان تین میچوں کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ہم بدقسمت بھی ہیں۔
میں فیفا سے اپیل کرتا ہوں مستقبل کے ورلڈ کپ میں میزبان ممالک کو کھلاڑیوں اور ٹیموں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرنے دیں۔
قلعہ نوعی نے بتایا کہ میچ کے بعد ایران کو واپس میکسیکو کے لیے پرواز کرنی پڑی جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کی ریکوری متاثر ہوئی۔
میکسیکو جو امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر ٹورنامنٹ کی میزبانی کررہا ہے، وہاں ٹیم اس بات کا انتظار کرے گی کہ آیا وہ پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر پاتی ہے یا نہیں۔