فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات، ڈالر کی قدر میں اضافہ
- ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی بلند ترین سطح 101.8 تک پہنچنے کے بعد ایشیائی سیشن میں 101.6 کے قریب مستحکم رہا
عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے کئی بڑی کرنسیوں کو دباؤ میں ڈال دیا اور سونے سمیت دیگر عالمی اثاثوں پر بھی اثر ڈالا۔
ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی بلند ترین سطح 101.8 تک پہنچنے کے بعد ایشیائی سیشن میں 101.6 کے قریب مستحکم رہا۔ یورو کے مقابلے میں ڈالر نے 1.14 کی اہم حد عبور کی اور 1.1325 تک جا پہنچا، جبکہ جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر 161.73 کی سطح پر رہا، جو کئی دہائیوں کی کمزور ترین ین پوزیشن کے قریب ہے۔
ڈالر کی مضبوطی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی، جو گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح بٹ کوائن بھی مختصر وقت کے لیے 60,000 ڈالر سے نیچے چلا گیا۔
مارکیٹ میں امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود بلند رہنے کی توقعات ڈالر کی تیزی کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔ ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کو بھی کم کر دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب ممکنہ طور پر اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بھی قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی دو سالہ ٹریژری ییلڈز میں 27 بیسز پوائنٹس اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ میں اسی مدت کے بانڈ ییلڈز میں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے شرح سود کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مضبوط امریکی پیداواری شرح اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک ترقی سرمایہ کاری کو امریکا کی طرف راغب کر رہی ہے، جو ڈالر کو مزید تقویت دے رہی ہے۔
اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی افراطِ زر کے اہم پیمانے کور پی سی ای کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو آئندہ مالیاتی پالیسی کے لیے اہم اشارے فراہم کریں گے۔