ایسا حادثہ جو روکا جا سکتا تھا
- اسلام آباد-مری ایکسپریس وے پر ایک آتش گیر حادثے میں کم از کم 10 افراد، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں
اسلام آباد-مری ایکسپریس وے پر ایک آتش گیر حادثے میں کم از کم 10 افراد، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں، کی ہولناک ہلاکت پاکستان میں روڈ سیفٹی کی مسلسل کمزوریوں کی ایک اور افسوسناک یاد دہانی ہے۔ متاثرین، جو ملتان سے مری تفریحی سفر کے لیے ایک ہی خاندان کے افراد تھے، خجوت کے قریب اس وقت المناک انجام سے دوچار ہوئے جب ان کی ہائی ایس وین سڑک سے ہٹ گئی، سڑک کنارے دیوار سے ٹکرائی، نالے میں جا گری اور آگ کی لپیٹ مین آگئی۔
متاثرہ خاندان کے بے پناہ غم اور دکھ سے ہٹ کر یہ سانحہ گاڑیوں کے حفاظتی معیار، سڑکوں کی انجینئرنگ، ٹریفک مینجمنٹ اور ایمرجنسی تیاری سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی ایک تیز موڑ کاٹتے ہوئے کنٹرول کھو بیٹھی، دیوار سے ٹکرائی اور پھر آگ پکڑ لی۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بتایا جاتا ہے کہ ٹکر کے باعث گاڑی کے دروازے جام ہو گئے اور مسافر اندر ہی پھنس گئے جبکہ آگ تیزی سے پھیل گئی۔ یہ صورتحال مسافر گاڑیوں میں حفاظتی نظام کی ایک تباہ کن ناکامی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔
اتنی ہی تشویشناک بات اوورلوڈنگ کا مسئلہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بدقسمت وین میں 23 افراد سفر کر رہے تھے۔ اگرچہ اصل حالات کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن گاڑی کی محفوظ گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے کا عام رواج ہمارے سڑکوں پر بدستور جاری ہے۔ اوورلوڈڈ گاڑیاں نہ صرف حادثات کے لیے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں بلکہ ہنگامی حالات میں مسافروں کے بچنے کے امکانات بھی نمایاں طور پر کم کر دیتی ہیں۔
مری ایکسپریس وے کی صورتحال پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ گزشتہ ماہ مری روڈ پر تعمیراتی کام کے باعث گاڑیوں کو متبادل سمت موڑنے کے بعد اس راستے پر غیر معمولی ٹریفک رپورٹ ہوئی تھی۔ ٹریفک کا شدید بہائو، تیز موڑ اور پہاڑی علاقہ زیادہ حفاظتی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، جن میں رفتار کی سخت نگرانی، واضح وارننگ سائنز اور متعلقہ حکام کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔ سڑک کے ڈیزائن، دیکھ بھال یا ٹریفک مینجمنٹ میں کسی بھی قسم کی کمی جس نے اس حادثے میں کردار ادا کیا ہو، اس کی فوری نشاندہی اور اصلاح ضروری ہے۔
یہ سانحہ گاڑیوں کے سخت انسپیکشن نظام کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ بین الاضلاعی روٹس پر چلنے والی مسافر وینز کی باقاعدہ اور جامع حفاظتی جانچ ہونی چاہیے، جس میں دروازے، ایمرجنسی ایگزٹس، فیول سسٹمز اور آگ سے بچاؤ کے آلات شامل ہوں۔ ایسے حفاظتی اقدامات کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پالیسی سازوں، ٹرانسپورٹ ریگولیٹرز اور ہائی وے حکام کے لیے ایک ویک اپ کال ہونا چاہیے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور مالی امداد ضروری ضرور ہے، لیکن یہ کسی بھی صورت مؤثر احتیاطی اقدامات کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ جب تک روڈ سیفٹی کو مضبوط بنانے، ٹرانسپورٹ قوانین کے نفاذ اور محفوظ گاڑیوں و شاہراہوں کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اصلاحات نہیں کی جاتیں، ہم ایسی ہی قابلِ گریز ٹریجڈیز دیکھتے رہیں گے جو خاندانوں کو اجاڑ دیتی ہیں اور معاشروں کو سوگوار چھوڑ جاتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026