معاشی استحکام یا شماریاتی اطمینان؟
- پاکستان کا مستقبل اس فیصلے پر منحصر ہے کہ اس کے رہنما خود انحصاری، اصلاحات اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ایسی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں جو انحصار اور عدم مساوات کو مزید گہرا کرتی ہیں
تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر اور پارلیمان میں ہنگامہ آرائی کے بعد، جہاں اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی، بجٹ دستاویزات کی نقول پھاڑ ڈالیں اور مالی منصوبے کو عوام دشمن قرار دیا، بالآخر 12 جون کو وفاقی بجٹ 27-2026 قوم کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ایوان کے اندر برپا ہونے والا یہ شور شرابہ محض سیاسی ڈرامائی پن کا مظہر نہیں تھا، بلکہ یہ اُن لاکھوں پاکستانیوں کی بے چینی، مایوسی اور اضطراب کی عکاسی بھی کر رہا تھا جو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیریقینی کے کچل دینے والے بوجھ تلے اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنے پر مجبور ہیں۔
حسبِ توقع وزیرِ خزانہ نے بجٹ کو نہایت شستہ زبان، دلکش اعداد و شمار، تخمینوں، شرحوں اور مالیاتی اصطلاحات کی بھرپور نمائش کے ساتھ پیش کیا۔ تاہم عوام کی بھاری اکثریت کے لیے بجٹ کا معیارِ جانچ نہ پُراثر تقاریر ہوتی ہیں اور نہ ہی شماریاتی خاکے۔ عام لوگ نہ اسپریڈ شیٹس میں زندگی گزارتے ہیں اور نہ معاشی اصطلاحات پر اپنا گزارا کرتے ہیں۔ وہ بجٹ کو ایک نہایت سادہ پیمانے پر پرکھتے ہیں: اس کے اثرات ان کے چولہے، قوتِ خرید، یوٹیلٹی بلوں، بچوں کی تعلیم اور باوقار زندگی گزارنے کی صلاحیت پر کیا مرتب ہوتے ہیں۔
اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو مالی سال 27-2026 کا بجٹ شدید مایوس کن دکھائی دیتا ہے۔
اس بجٹ میں ایک عوام دوست معاشی روڈ میپ کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے زیرِ اثر تیار کیے گئے مالیاتی مشق کی تمام نمایاں خصوصیات موجود ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مالیاتی اہداف اور قرض دہندگان کو مطمئن کرنا دکھائی دیتا ہے، جبکہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کا اصل بوجھ اٹھانے والے عوام کے حصے میں معمولی نوعیت کا ریلیف آیا ہے۔ اعلان کردہ ریلیف اقدامات مہنگائی کی بلند سطح، سکڑتی ہوئی آمدنی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات کے تناظر میں نہایت محدود اور ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔
خاص طور پر تنخواہوں اور پنشن میں محض 7 فیصد اضافے نے شدید مایوسی کو جنم دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اشیائے خورونوش کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، ادویات، بجلی کے بل اور تعلیمی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہوں، یہ اضافہ حقیقی ریلیف کے بجائے محض علامتی اقدام محسوس ہوتا ہے۔ پنشنرز، جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال عوامی خدمت کے لیے وقف کیے، اور وہ تنخواہ دار طبقہ جو اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے، ان کے لیے یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ یہ نہ ان کی مشکلات کا مداوا کرتا ہے اور نہ ہی مہنگائی کی رفتار کا ساتھ دیتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جب سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو حکومتیں اکثر مالی وسائل کی کمی کا جواز پیش کرتی ہیں، لیکن جیسے ہی قانون سازوں کی اپنی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات میں اضافے کا معاملہ سامنے آتا ہے، سیاسی اختلافات پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور غیر معمولی اتفاقِ رائے جنم لے لیتا ہے۔ ایسے میں قومی خزانے پر بوجھ، کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کی تمام بحثیں یکسر غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ تضادات ترجیحات اور انصاف کے تقاضوں کے حوالے سے بجا سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مشکل معاشی حالات اسے فراخ دلانہ ریلیف دینے کی گنجائش نہیں دیتے۔ اس دعوے میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے، لیکن اصل مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ انہیں پیدا کرنے کے لیے بامعنی اصلاحات کا فقدان بھی ہے۔ موجودہ ٹیکس دہندگان اور عام صارفین پر بار بار بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو محصولات بڑھانے کے لیے قابلِ عمل اور پائیدار متبادل راستے تلاش کرنا ہوں گے۔
حکومتی ڈھانچے کے حجم کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ریاستی نظام میں فضول اخراجات اور غیر ضروری آسائشوں کا خاتمہ ناگزیر ہے، جبکہ قومی وسائل کو مسلسل چاٹنے والے خسارے میں چلنے والے اداروں کی فوری اور مؤثر تنظیمِ نو کی جانی چاہیے۔ بالخصوص معاشرے کے بااثر اور طاقتور طبقات کی جانب سے ٹیکس چوری کے سدباب کے لیے سنجیدہ اور دوٹوک اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا کہ ٹیکس کا بوجھ مسلسل انہی افراد پر ڈالا جاتا رہے جو پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ ہیں اور اپنے مالی فرائض باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔
اسی قدر اہم ضرورت معیشت کے پیداواری شعبوں کی بحالی کی ہے۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، مگر کسان آج بھی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، پانی کی قلت، غیر تسلی بخش امدادی قیمتوں اور غیر یقینی منڈیوں جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ اسی طرح صنعتی ترقی کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات توانائی کی بلند لاگت اور پالیسیوں میں عدم تسلسل ہیں۔ کوئی بھی قوم محض قرضوں اور ٹیکسوں کے سہارے، جبکہ پیداواری سرگرمیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، پائیدار معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔
حکومت کو چاہیے کہ کسانوں، چھوٹے تاجروں، کاروباری افراد اور صنعت کاروں کو اقتصادی ترقی کے محرکات میں تبدیل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی جائے، جبکہ غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور معیشت کی مزاحمتی قوت کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔ معاشی بحالی کی عمارت صرف کھپت اور قرضوں کی بنیاد پر استوار نہیں کی جا سکتی؛ اس کی حقیقی بنیاد پیداوار، جدت اور خود انحصاری ہونی چاہیے۔
بدقسمتی سے سالانہ بجٹ کی یہ مشق رفتہ رفتہ عام شہریوں کی زندگی کی تلخ حقیقتوں سے کٹتی جا رہی ہے۔ پورے سال کے دوران منی بجٹ اور اضافی ٹیکسوں کے اقدامات عوام پر کسی بمباری کی طرح نازل ہوتے رہتے ہیں، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار گھرانوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ سالانہ بجٹ، جو ریلیف اور امید کا پیغام ہونا چاہیے، اکثر بے یقینی، اضطراب اور نئے خدشات کی ایک اور تہہ کا اضافہ کر دیتا ہے۔
پارلیمان کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ایسے عوام کا بجٹ زیرِ بحث لا رہی ہے جن میں لاکھوں افراد ہر صبح اس غیر یقینی کے ساتھ بیدار ہوتے ہیں کہ انہیں اگلا نوالہ کہاں سے میسر آئے گا۔ سرکاری پریزنٹیشنز میں معاشی استحکام کی تصویر خواہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ دکھائی دے، بازاروں اور منڈیوں میں نظر آنے والی حقیقت اس سے یکسر مختلف کہانی سناتی ہے۔ ملک بھر میں لوگ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بے بسی سے مول تول کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اکثر بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی خریدے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں۔
حکومت معاشی بحالی اور استحکام کی بات کرتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ بحالی آخر کس کے لیے ہے؟
کیا کوئی ملک اس وقت معاشی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے جب اس کی تقریباً نصف آبادی خطِ غربت سے نیچے یا اس کے آس پاس زندگی گزارنے پر مجبور ہو؟ کیا اسے حقیقی استحکام کہا جا سکتا ہے جب لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ، محرومی اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہوں؟ اور کیا اسے معاشی بحالی قرار دیا جا سکتا ہے جب ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہوں، اور غربت کے ہاتھوں مجبور والدین انہیں خاندان کی آمدن میں ہاتھ بٹانے کے لیے تعلیم سے محروم کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہوں؟
کیا معاشی کامیابی کا پیمانہ صرف شماریاتی اشاریے ہو سکتے ہیں، جبکہ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو اور روزگار کے مواقع نایاب ہوتے جا رہے ہوں؟
ہر سال لاکھوں نوجوان پاکستانی پہلے ہی دباؤ کا شکار روزگار کی منڈی میں قدم رکھتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے اپنے مستقبل کی تعمیر اپنے وطن میں نہیں، بلکہ بیرونِ ملک ایسی مواقع کی تلاش میں دیکھتے ہیں جو انہیں اپنے ہی ملک میں میسر نہیں۔ دوسرے مایوسی، بے بسی اور ناامیدی کے گرداب میں پھنسے رہ جاتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات جرائم، منشیات کے استعمال اور ذہنی اذیت جیسے سماجی مسائل کو جنم دیتی ہیں، اور بعض افسوس ناک واقعات میں یہ حالات خودکشی جیسے المیوں تک جا پہنچتے ہیں۔
ان تلخ حقائق کو دلکش گرافوں اور خوش کن معاشی پیش گوئیوں کے پردے میں زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔
پارلیمان عوامی حاکمیت کی آواز ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ سرکاری بیانیے کی محض توثیق کرنے کے بجائے ان کڑوی حقیقتوں کی ترجمانی کرے۔ ان دنوں جب قانون ساز بجٹ پر بحث کر رہے ہیں، انہیں چند مشکل مگر ناگزیر سوالات اٹھانے چاہییں: آخر آزادی کے اٹھہتر برس بعد بھی اتنے زیادہ پاکستانی محرومی اور بنیادی ضروریات سے محروم زندگی گزارنے پر کیوں مجبور ہیں؟ زرخیز زمینوں، دریاؤں، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور توانا افرادی قوت جیسی نعمتوں سے مالا مال یہ ملک بدستور دائمی معاشی کمزوریوں کا شکار کیوں ہے؟
ان سوالات کے جواب محض سیاسی نعرے بازی اور جماعتی بیان بازی سے نہیں مل سکتے۔ اس کے لیے بصیرت، جرأت اور طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔
ہمارے قانون سازوں کو اُن ننگے پاؤں بچوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو گرد آلود دیہات کی پگڈنڈیوں پر بھٹک رہے ہیں، اُن ماؤں کے بارے میں جو غذائی قلت کا شکار شیر خوار بچوں کو اپنی آغوش میں اٹھائے پھرتی ہیں، اُن معمر پنشنرز کے بارے میں جو دواؤں اور خوراک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں، اور اُن کسانوں کے بارے میں جو محض زندہ رہنے کی خاطر دن رات مشقت کرتے ہیں۔ یہ لوگ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ پاکستان کا انسانی چہرہ ہیں۔
قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی کوئی قوم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتی۔ ہر قرض اپنے ساتھ شرائط، سمجھوتے اور قومی فیصلوں پر بعض پابندیاں لے کر آتا ہے۔ اس لیے پارلیمان کو ٹیکسوں اور اخراجات پر سالانہ بحث سے آگے بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ میں کمی اور معاشی خود انحصاری کے حصول کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور قابلِ عمل روڈ میپ پیش کرنا ہوگا۔
وقت کا تقاضا مسلسل قرض گیری نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے؛ انحصار نہیں بلکہ خود انحصاری ہے؛ قومی اثاثوں کی فروخت نہیں بلکہ ان کی مضبوطی اور مؤثر استعمال ہے۔ پاکستان بے پناہ اور ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اہل اور مؤثر طرزِ حکمرانی، دانشمندانہ منصوبہ بندی، مضبوط ادارے اور قومی ترقی کے لیے غیر متزلزل عزم کو اپنا شعار بنایا جائے۔
مضبوط عوامی ادارے کامیاب قوموں کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہیں کمزور کرنے کے بجائے مزید مستحکم بنایا جانا چاہیے۔ اسی طرح شفاف، غیر جانب دار اور بلاامتیاز احتساب بھی ناگزیر ہے۔ بدعنوانی اب بھی قومی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، طرزِ حکمرانی کو کمزور کر رہی ہے اور عوامی اعتماد کو مجروح کر رہی ہے۔ اس کا مقابلہ ثابت قدمی، تسلسل اور کسی خوف یا رعایت کے بغیر کیا جانا چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں محض وسائل کی فراوانی سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ بااصول قیادت، دانشمندانہ حکمرانی اور اجتماعی مقصد کے شعور سے عروج پاتی ہیں۔ حقیقی پیش رفت اُس وقت ممکن ہوتی ہے جب رہنما ذاتی مراعات اور سیاسی مصلحتوں پر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
مالی سال 27-2026 کے بجٹ کا جائزہ لیتے ہوئے پارلیمان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنی آئینی ذمہ داری کو تدبر، بصیرت اور دوراندیشی کے ساتھ ادا کرے۔ قوم کو تقاریر اور نعروں سے بڑھ کر کچھ درکار ہے۔ وہ بامعنی ترامیم، قابلِ عمل حل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی عزم کی منتظر ہے۔
پاکستان کو ایک ایسے ”زندہ بجٹ“ کی ضرورت ہے جو غربت میں کمی لائے، روزگار کے مواقع پیدا کرے، تعلیم کے نظام کو مضبوط بنائے، زراعت اور صنعت کو دوبارہ فعال کرے، برآمدات میں اضافہ کرے، کمزور طبقات کا تحفظ یقینی بنائے اور انسانی فلاح کو قومی ترجیحات کے مرکز میں رکھے۔
سب سے بڑھ کر قانون سازوں کو وہی یکجہتی دکھانی ہوگی جو وہ اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے معاملے میں ظاہر کرتے ہیں، مگر اب وقت ہے کہ یہی اتحاد قومی مسائل کے حل کے لیے بھی نظر آئے۔ عوام معجزات کے طلبگار نہیں، وہ صرف انصاف، احتساب، وژن اور امید چاہتے ہیں۔
پاکستان کا مستقبل اس فیصلے پر منحصر ہے کہ اس کے رہنما خود انحصاری، اصلاحات اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ایسی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں جو انحصار اور عدم مساوات کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ وقت گزر چکا ہے کہ صرف خوبصورت وعدوں پر اکتفا کیا جائے۔ آج ملک کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ جرأت، عملی اقدامات اور ایک مشترکہ عزم ہے—تاکہ ایک مضبوط، منصفانہ اور خوشحال پاکستان تعمیر کیا جا سکے جو سب کے لیے ہو۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026