فیفا ورلڈ کپ میں ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان سنسی خیز مقابلہ 2-2 سے برابر ہوگیا۔
لاس اینجلس میں کھیلے گئے میچ میں فٹبال کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات بھی توجہ کا مرکز رہے کیونکہ ایران کی ٹیم ایک ایسے ماحول میں میدان میں اتری جہاں اس کی شرکت مختلف تنازعات اور مشکلات کے باعث مسلسل خبروں میں رہی ہے۔
میچ سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی 7 اجلاس کے موقع پر ایک امن معاہدے پر دستخط ہونے کا دعویٰ کیا جس کے باعث ایران سے متعلق سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی۔ اس پس منظر میں یہ سوال بھی اٹھتا رہا کہ ایرانی کھلاڑی کس ذہنی کیفیت کے ساتھ میدان میں اترے ہوں گے۔ تاہم ایران کے ہیڈ کوچ امیر غلنوئی نے پہلے ہی کہا تھا کہ ان کی ٹیم اپنی پوری توجہ صرف فٹبال پر رکھے گی اور میچ کے دوران ایسا ہی نظر آیا۔
ایران کی جانب سے محمد محبی اور رامین رضائیان نے گول اسکور کیے جبکہ نیوزی لینڈ کے لیے ایلی جسٹ نے دو گول کر کے اپنی ٹیم کو دو مرتبہ برتری دلائی۔
میچ کے بعد ایرانی کپتان مہدی طارمی نے کہا کہ شائقین کی بھرپور حمایت نے ٹیم کو وہ خوشی دی جس کی انہیں گزشتہ چند مہینوں سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔
میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر مجموعی ماحول نسبتاً پُرسکون رہا اور ایرانی ٹیم کو اپنے حامیوں کی جانب سے بھرپور حمایت ملی۔
نیوزی لینڈ نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور ساتویں منٹ میں کرس ووڈ اور ایلی جسٹ کی مشترکہ کوشش سے برتری حاصل کی۔ ایران نے 32 ویں منٹ میں رامین رضائیان کے گول سے مقابلہ برابر کر دیا۔
دوسرے ہاف میں جسٹ نے دوبارہ نیوزی لینڈ کو برتری دلا دی لیکن محمد محبی کے ہیڈر نے ایران کو ایک بار پھر خسارے سے نکال دیا۔
میچ کے دوران دونوں ٹیموں کو متعدد مواقع ملے۔ نیوزی لینڈ کے کرس ووڈ ایک اور گول کے قریب پہنچے لیکن ایرانی کھلاڑی شہریار مغانلو نے اہم دفاعی مداخلت کرتے ہوئے خطرہ ٹال دیا۔ دوسری جانب مہدی طارمی کی ایک طاقتور کوشش گول پوسٹ سے ٹکرا گئی۔
ایران نے دو مرتبہ نقصان سے بچتے ہوئے اپنے ورلڈ کپ سفر کا آغاز ایک ڈرا کے ساتھ کیا جبکہ میچ نے میدان کے اندر دلچسپ فٹبال اور میدان کے باہر سیاسی بحث دونوں پہلوؤں کو نمایاں رکھا۔