کھیل

انگلینڈ کے کپتان اسٹوکس نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

  • اسٹوکس کی غیر موجودگی میں سابق کپتان جو روٹ اوول میں ٹیم کی قیادت کریں گے
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 09:06pm

انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے باعث نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا ہے، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے بدھ کو اس بات کی تصدیق کی ہے۔

اسٹوکس کی غیر موجودگی میں سابق کپتان جو روٹ اوول میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔

ای سی بی نے کہا ہے کہ ”جاری تحقیقات کے پیش نظر بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن کو نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں رکھا گیا، جو بدھ 17 جون کو کِیا اوول میں شروع ہوگا۔“

رپورٹس کے مطابق اسٹوکس اور فاسٹ بولر اٹکنسن نے پیر کی علی الصبح ٹیم کا مڈنائٹ کرفیو توڑا، اور اس وقت وہاں موجود تھے جب انگلینڈ کے سیکیورٹی اسٹاف کے ایک رکن کا ایک سارا سینز رگبی کھلاڑی کے ساتھ جھگڑا ہوا۔

یہ واقعہ انگلینڈ ٹیم سے جڑے حالیہ تنازع کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل نائب کپتان ہیری بروک کو اکتوبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ میچ سے قبل ویلنگٹن میں نائٹ کلب کے باہر ایک باؤنسر نے مکا مارا تھا۔

ایشیز سیریز کے دوران بھی سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں انگلینڈ کے کھلاڑی ساحلی شہر نوسا میں ایک مختصر وقفے کے دوران نشے میں دکھائی دیے تھے۔

شراب نوشی کی ”کلچر“ سے متعلق الزامات کو انگلینڈ کے مینزجر آف کرکٹ راب کی نے کم اہم قرار دیا تھا، تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے سخت مڈنائٹ کرفیو نافذ کر دیا۔

35 سالہ بین اسٹوکس کے لیے یہ پہلا موقع نہیں کہ وہ میدان سے باہر تنازعات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔ 2017 میں وہ برسٹل کے ایک نائٹ کلب کے باہر جھگڑے میں ملوث رہے تھے، جس کے بعد ان پر فوجداری مقدمہ بھی چلا، تاہم بعد ازاں عدالت نے انہیں بدامنی کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

وہ 2017-18 کی ایشیز سیریز سے بھی محروم رہے، تاہم اگلے سال انہیں کلیئر کر دیا گیا۔

یہ تازہ واقعہ انگلینڈ کے لیے ایک اور دھچکا ہے، جو آسٹریلیا کے ہاتھوں 4-1 کی ایشیز شکست کے بعد ٹیم کی ڈسپلن کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔

اس صورتحال نے ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم پر بھی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جنہیں مارچ میں ای سی بی کی نظرثانی کے باوجود تمام فارمیٹس میں برقرار رکھا گیا تھا، اگرچہ ٹیم کلچر پر تحفظات بدستور موجود ہیں۔

جو روٹ اب ٹیم کی قیادت کریں گے، وہ پہلے بھی 2017 سے 2022 کے درمیان ریکارڈ 64 ٹیسٹ میچز میں کپتانی کر چکے ہیں۔

35 سالہ جو روٹ، جو انگلینڈ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں، ایک ایسے مرحلے پر کپتانی سے دستبردار ہوئے تھے جب ٹیم کو 17 ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک فتح ملی تھی، جس کے بعد اسٹوکس نے قیادت سنبھالی۔

تیز گیند باز جوفرا آرچر اور بلے باز جارڈن کاکس کو بھی اس اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے جس نے لارڈز میں پہلا ٹیسٹ 115 رنز سے جیتا تھا۔