پاکستان

بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس، سپریم کورٹ نے مرکزی ملزمان کو بری کر دیا

  • عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چھریا کو دی گئی سزائے موت کالعدم قرار
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 07:23pm

سپریم کورٹ نے 2012 کے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس کے مرکزی ملزموں کو بری کرتے ہوئے عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چھریا کو دی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔

جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دونوں ملزموں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے منسوخ کر دیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان شک کا فائدہ حاصل کرنے کے حق دار ہیں لہٰذا انہیں بری کیا جاتا ہے۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی اس درخواست کو بھی نمٹا دیا جس میں سابقہ عدالتی فیصلوں سے بعض ریمارکس حذف کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ سزائیں ختم ہونے کے بعد وہ ریمارکس قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔

سماعت کے دوران عدالت نے متاثرین کے اہلِ خانہ کو فریق بنانے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اضافی فریق شامل کرنے سے مقدمہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو جائے گا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق زبیر عرف چھریا کا اعترافی بیان موجود تھا، جبکہ عبدالرحمٰن عرف بھولا کے خلاف ایسا کوئی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی پاکستان کے بدترین صنعتی سانحات میں شمار ہوتی ہے، جس میں 11 ستمبر 2012 کو کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے سے 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر اس واقعے کو صنعتی حادثہ سمجھا گیا، تاہم بعد ازاں تحقیقات میں الزام سامنے آیا کہ آگ بھتہ خوری کے تنازع کے باعث جان بوجھ کر لگائی گئی، جس کے بعد متعدد افراد پر دہشت گردی سے متعلق مقدمات قائم کیے گئے۔

یہ مقدمہ کئی برس تک زیرِ سماعت رہا۔ 2020 میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عبدالرحمن عرف بھولا اور زبیر عرف چھریا کو سزائے موت سنائی تھی جسے بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا، تاہم بدھ کو سپریم کورٹ نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔