صابن سازی کی صنعت شدید دباؤ کا شکار، مینوفیکچررز کا فوری ریلیف کا مطالبہ
- بھاری کسٹم ڈیوٹی، سیلز و انکم ٹیکس اور دیگر محصولات کےباعث متعدد کارخانے بند ہوچکے ہیں، طارق زکریا
پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ مقامی صنعتوں کو درپیش سنگین مسائل کےحل کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ بھاری کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر محصولات کےباعث صابن سازی کی صنعت شدید دبائو کا شکار ہے جب کہ متعدد کارخانے بند ہوچکے ہیں اور کئی دیگر بقاءکی جنگ لڑرہے ہیں۔
یہ مطالبات پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک اہم اجلاس میں سامنے آئے جو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں نائب چیئرمین طارق زکریا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ کے لیے تجاویز سمیت صابن صنعت کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن 1968ء میں قائم ہونے والی ایک قدیم اور فعال تجارتی تنظیم ہے جس کے ارکان میں ملک کی بڑی ایف ایم سی جی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ صنعت ہزاروں افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی خزانے میں اربوں روپے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں جمع کراتی ہے۔
نائب چیئرمین طارق زکریا نے کہا کہ بجٹ تجاویز میں حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ آر بی ڈی پام اسٹیرین پر سوپ اور اولیو کیمیکل صنعتوں کے لیے الگ الگ ڈیوٹی اسٹرکچر نافذ ہے حالانکہ دونوں صنعتوں میں اس خام مال کا استعمال صابن کی تیاری کے لیے کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں صنعتوں کے لیے ڈیوٹی کی شرح یکساں کی جائے تاکہ صابن سازی کی صنعت مسابقتی ماحول میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے متعدد ارکان نے صابن اور اولیو کیمیکل شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے عالمی معیار کے پیداواری یونٹس قائم کیے ہیں جنہوں نے درآمدات کا متبادل فراہم کرنے کے ساتھ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا ہےتاہم گیس کی مسلسل قلت اور خام مال کی دستیابی میں مشکلات کے باعث صنعتکار اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پارہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعتوں کی بحالی، روزگار کے تحفظ اور نئی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کم از کم دو سال تک بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی سروسز کے نرخ منجمد کیے جائیں تاکہ صنعتی شعبہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔