پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اپریل میں دوبارہ 400 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں، مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ
- مالی سال 26-2025 کے جولائی تا اپریل کے دوران آئی ٹی برآمدات 3.81 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اپریل میں مسلسل دوسرے ماہ 400 ملین ڈالر سے زائد رہیں، جو ملک کے ٹیکنالوجی شعبے میں مسلسل بہتری اور مضبوط پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق، اپریل میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدی آمدن بڑھ کر 423 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو ملکی تاریخ میں آئی ٹی شعبے کی دوسری بلند ترین برآمدی آمدن ہے۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں آئی ٹی شعبے کی برآمدات نے 437 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح حاصل کی تھی، جبکہ مارچ 2026 میں آئی ٹی برآمدات 413 ملین ڈالر رہی تھیں۔
آئی ٹی برآمد کنندہ ڈاکٹر نعمان سعید نے کہا کہ اپریل میں آئی ٹی برآمدات کا 400 ملین ڈالر سے تجاوز کرنا اس شعبے کی مضبوطی کا ثبوت ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ کے عالمی بحران کے باوجود پائیدار ترقی برقرار رکھی۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور آئی ٹی برآمد کنندگان کو بحران کے دوران پیدا ہونے والے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ٹیکس سہولتوں اور نئی منڈیوں میں برآمدات کے فروغ کے لیے آئی ٹی صنعت کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔
مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل کے عرصے میں آئی ٹی شعبے نے نمایاں ترقی ریکارڈ کی، جہاں برآمدی آمدن بڑھ کر 3.81 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 3.14 ارب ڈالر تھی، یوں سالانہ بنیاد پر 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایک اور آئی ٹی برآمد کنندہ سعد شاہ نے کہا کہ اگر رواں مالی سال کے دوران انٹرنیٹ کی بار بار بندش اور تعطل نہ ہوتا تو آئی ٹی برآمدات اپنے ہدف سے بھی آگے جا سکتی تھیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بڑے شہروں میں آئی ٹی پارکس قائم کر کے آئی ٹی کمپنیوں کو تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کیا جائے، اور ملک میں جلد از جلد 5G اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی راہ ہموار کی جائے۔
آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں فری لانسرز کی آمدن، کال سینٹرز اور ٹیلی کمیونیکیشن شعبے کی برآمدات بھی شامل ہیں۔
تاہم، توقع ہے کہ موجودہ مالی سال میں یہ صنعت 5 ارب ڈالر کے سالانہ ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گی اور برآمدات تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک محدود رہیں گی۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن ( پی اے ایف ایل اے) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی برآمدات بڑھانے میں فری لانسرز کا کردار مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے، اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کے دوران فری لانسرز کی برآمدی آمدن 1 ارب ڈالر کی حد عبور کر جائے گی۔