سگریٹ کی غیر قانونی تجارت سے پاکستان کو سالانہ 350 ارب روپے نقصان
- وفاقی وزیرِ تجارت کو فلپ مورس انٹرنیشنل کے صدر کی بریفنگ
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے فلپ مورس انٹرنیشنل کے صدر (سی آئی ایس اور وسطی ایشیا) مارکو ماریوٹی کی سربراہی میں آئے ہوئے وفد سے ملاقات کی جس میں پاکستان کے تمباکو شعبے کو درپیش اہم چیلنجز بشمول غیر قانونی تجارت، ریگولیٹری خامیوں اور برآمدی صلاحیتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر کو پاکستان میں سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ کا بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 350 ارب روپے (تقریباً 1.25 ارب ڈالر) کے ریونیو کا نقصان ہورہا ہے۔
ملاقات کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ تقریباً 45 سے 47 ارب سگریٹ ٹیکسوں کی ادائیگی کے بغیر فروخت کیے جا رہے ہیں جس سے باضابطہ (فارمل) شعبے کے لیے غیر منصفانہ مسابقت کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔
گفتگو میں تمباکو کی سپلائی چین کے ڈھانچہ جاتی مسائل، بالخصوص تمباکو کے پتوں کی خریداری، پیداوار کی انڈر رپورٹنگ اور ٹریس ایبلٹی کے کمزور طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ وفد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ رجسٹرڈ کمپنیاں سخت ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرتی ہیں لیکن غیر دستاویزی پیداوار اور معاہدوں کا غلط استعمال غیر رسمی پلیئرز کو خام مال تک رسائی اور غیر قانونی مینوفیکچرنگ پھیلانے میں مدد دیتا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ محض ٹیکسوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات غیر دستاویزی آمدنی، منی لانڈرنگ اور وسیع تر معاشی بگاڑ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
وزیرِ تجارت کو آگاہ کیا گیا کہ غیر دستاویزی شعبے سے صرف چند مخصوص عناصر ہی غیر متناسب فائدہ اٹھارہے ہیں جبکہ قانونی طور پر کام کرنے والے کاروبار کو مسلسل ریگولیٹری تعمیل اور بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کا سامنا ہے۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ قوانین، ٹیکس اسٹیمپ سسٹم اور ضوابط پہلے سے موجود ہیں لیکن ان کا نفاذ غیر مستقل رہا ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام سمیت متعدد اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ (پی ٹی بی) کے کردار پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اگرچہ بورڈ فصل کے تخمینے اور قیمتوں کے تعین جیسے امور انجام دیتا ہے تاہم اس کی نافذ کرنے والی صلاحیتیں محدود ہیں۔ شرکاء نے تجویز دی کہ بورڈ کو مزید فعال بنانے اور اس کی نگرانی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ دستاویز سازی کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے۔
اجلاس کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت پاکستان کے وعدوں سے پیدا ہونے والے پالیسی چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا، بالخصوص درآمدی پابندیوں کے بتدریج خاتمے اور تجارتی و صنعتی درآمد کنندگان کے ساتھ یکساں سلوک کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اگرچہ ان اصلاحات کا مقصد تجارت کو آزاد بنانا ہے، تاہم اسٹیک ہولڈرز نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ اقدامات سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے اہم خام مال کی فراہمی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بناسکتے ہیں۔
جام کمال نے اس مسئلے کی پیچیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ایک کثیر الجہتی چیلنج قرار دیا جس کے لیےایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل مسئلہ پالیسی کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کی کمزوری ہے۔
وفاقی وزیر نے وفاقی اور صوبائی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو کی کاشت اور مقامی منڈیوں کی مؤثر ریگولیشن کے لیے ایف بی آر اور ایف آئی اے جیسے وفاقی اداروں کے ساتھ صوبائی حکومتوں کی فعال شمولیت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے باضابطہ (فارمل) شعبے کی مدد کرنے، برآمدات کے فروغ اور ایک منصفانہ اور شفاف کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو قابلِ عمل سفارشات کی صورت میں یکجا کیا جائے جن میں نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے، ٹریس ایبلٹی کو بہتر بنانے اور غیر رسمی معیشت کے حجم کو بتدریج کم کرنے پر توجہ دی جائے۔