لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ثالث (میڈی ایٹر) کے بیان یا فیصلے کی بنیاد پر دیا گیا حکم کسی بھی فریق کی جانب سے اپیل میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ اس میں دھوکہ دہی یا غلط بیانی ثابت نہ ہو۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ثالثی (میڈی ایشن) تنازعات کے حل کا ایک جدید، لچکدار اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے، خصوصاً تجارتی اور کارپوریٹ معاملات میں، جس کا مقصد وقت، اخراجات اور عدالتی وسائل کی بچت ہے۔

یہ فیصلہ محمد رزاق کی درخواست پر سنایا گیا، جس میں انہوں نے ایک ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس نے جائیداد کے تنازعے کو ریفری کے فیصلے کے مطابق نمٹا دیا تھا۔ درخواست گزار نے اپیلیٹ کورٹ کے اس حکم کو بھی چیلنج کیا جس میں کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیج کر شواہد ریکارڈ کرنے اور نئے سرے سے فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

عدالت نے کہا کہ فریقین نے اپنی آزاد مرضی، باہمی رضامندی اور شعوری طور پر اپنے تنازعے کو ثالث کے ذریعے حل کرنے کا انتخاب کیا تھا، اور جب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا تو وہ اس کے نتیجے کے پابند تھے، بشرطیکہ اس کی تصدیق ہو۔ موجودہ کیس میں ثالث نے خود ٹرائل کورٹ کے سامنے اس فیصلے کی تصدیق کی تھی۔

عدالت نے مزید کہا کہ ثالث کی جانب سے کی گئی تصدیق نے اس فیصلے کو مکمل طور پر قابلِ اعتماد بنا دیا، جس کے بعد یہ فریقین کے درمیان تنازعے کا حتمی اور قابلِ قبول حل بن گیا۔

عدالت کے مطابق اپیلیٹ کورٹ نے فریقین کے باہمی رضامندی سے اختیار کیے گئے طریقہ کار اور ثالث کے تصدیق شدہ فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دیا، جو نہ قانونی طور پر درست ہے اور نہ ہی حقائق کے مطابق۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر کوئی فریق پہلے سے طے شدہ طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کے بعد اس سے انحراف کی کوشش کرے تو اسے قانونی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا، اور ایسے فیصلے کے خلاف اپیل بھی قابلِ سماعت نہیں ہوتی۔

اس لیے عدالت نے اپیلیٹ کورٹ کے حکم کو غیر قانونی اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ثالث کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے بالکل درست فیصلہ کیا تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026