کاروبار اور معیشت

پی ٹی سی ایل نے پاکستان میں ای اینڈ کی سرمایہ کاری سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا

  • 'غیر تصدیق شدہ معلومات‘ مارکیٹ میں غیر ضروری قیاس آرائیوں کا باعث بن سکتی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے جمعرات کو ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات اپنے پاکستان ٹیلی کام سیکٹر میں موجودگی کا ”جائزہ لے رہی ہے“، جس کے نتیجے میں اس کے پی ٹی سی ایل سے اخراج کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

پی ٹی سی ایل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی خبروں کو مسترد کرتا ہے اور ان ذرائع سے لاعلم ہے جن کا حوالہ ان رپورٹس میں دیا گیا ہے۔ کمپنی نے بطور ایک عوامی فہرست شدہ ادارہ اس بات پر زور دیا کہ درست اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ انتہائی اہم ہے، کیونکہ غیر تصدیق شدہ معلومات مارکیٹ میں غیر ضروری قیاس آرائیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کے شیئر ہولڈرز کمپنی کی طویل المدتی حکمتِ عملی اور ترقیاتی سمت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ اس عزم کی عکاسی اہم اسٹریٹجک اقدامات میں ہوتی ہے، جن میں ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز کا حصول، یوفون کی فائیو جی اسپیکٹرم کی خریداری، اور ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی مسلسل توسیع شامل ہے۔

واضح رہے کہ 2006 میں پاکستان نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کرتے ہوئے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول اتصالات انٹرنیشنل پاکستان کو 2.6 ارب ڈالر میں فروخت کیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک اہم اصلاحاتی قدم قرار دیا گیا، تاہم یہ معاہدہ اثاثوں کی منتقلی کے معاملے پر طویل تنازع کا شکار رہا، جس کے تحت تقریباً 799 ملین ڈالر کی رقم اب بھی اتصالات کے پاس رکی ہوئی ہے۔

جنوری 2026 میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دبئی میں اتصالات انتظامیہ سے ملاقات کی، جس کا مقصد اس دیرینہ تنازع کے حل کی کوشش تھا۔ پاکستان نے اس معاملے کے فوری حل کی کوشش کی۔

اس ماہ کے آغاز میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم کے معاون برائے نجکاری محمد علی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت دیں کہ اتصالات سے واجب الادا رقوم کی وصولی یقینی بنائی جائے۔