رائے

ٹیکسٹائل صنعت کا وجود برقرار رکھنے کی جدوجہد

  • صرف اخراجات میں کمی نہیں، معیار اور جدت ہی ٹیکسٹائل کی صنعت کو بچا سکتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

یہ پیرس کی گلیوں میں تیار ہونے والا ایک ہینڈ بیگ لاکھوں روپے میں کیوں بکتا ہے جبکہ فیصل آباد اور کراچی کی جدید ملوں میں تیار ہونے والا بہترین کپڑا محض چند ڈالرز میں خام مال کے طور پر برآمد کر دیا جاتا ہے؟۔ معاشی تاریخ واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ قومیں سستی مزدوری سے نہیں بلکہ ویلیو ایڈیشن (مصنوعات کی قدر میں اضافے) سے خوشحال ہوتی ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں اصل سوال سستی بجلی یا حکومتی سبسڈیز کا نہیں بلکہ ایک ایسے پائیدار ماڈل کو اپنانے کا ہے جو ملک کو کم قیمت اشیاء بیچنے والے ملک سے بدل کر عالمی سطح کے بڑے برانڈز بنانے والے ملک میں تبدیل کر سکے۔

عالمی اور ملکی تناظر کا تقابلی جائزہ پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی صنعت میں مزدوری اور ٹیکسوں کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر فرانس اور اٹلی میں گارمنٹس کے شعبے میں مزدوری کی لاگت پاکستان کے مقابلے میں 30 سے 70 گنا زیادہ ہو سکتی ہے، فرانس میں یہ شرح 40 یورو فی گھنٹہ سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں صرف 0.5 سے 1 ڈالر فی گھنٹہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہاں کارپوریٹ ٹیکس بھی نسبتاً زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود اخراجات کم کرنے پر توجہ دینے کے بجائے یہ ممالک جدت، ڈیزائن اور برانڈ کی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی بدولت وہ عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی بھاری قیمت وصول کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

فرانس اور اٹلی جیسے ممالک کو پرتعیش فیشن انڈسٹری کے عالمی مراکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ممالک ہرمیس، لوئی ویٹون، چینل ، کرسچن ڈائر، گیونچی، گوچی، پراڈا، بوٹیگا وینیٹا، ورساچے اور ارمانی جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ برانڈز کا گھر ہیں جو مجموعی طور پر اربوں ڈالر کی صنعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی کی بنیاد کم پیداواری لاگت نہیں بلکہ اعلیٰ معیار، کاریگری، منفرد ڈیزائن، تحقیق و ترقی اور مضبوط برانڈ شناخت ہے، جو انہیں اپنی مصنوعات انتہائی بلند قیمتوں پر فروخت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس عالمی پس منظر کے مقابلے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کے اصل محرکات سستی مزدوری یا سبسڈیز نہیں بلکہ معیار، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ہیں۔ 26-2025 کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں سپننگ، ویونگ، پروسیسنگ اور کمپوزٹ یونٹس سمیت تقریباً 450 سے 500 ٹیکسٹائل ملیں فعال ہیں۔ تاہم دسمبر 2025 تک کی صورتحال تشویشناک ہے، تقریباً 144 ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں، جن میں سے 100 سے زائد بندشیں صرف اسپننگ سیکٹر میں ہوئی ہیں جبکہ باقی ماندہ ملیں اپنی گنجائش کے صرف 30 سے 50 فیصد پر کام کر رہی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور ماہرین کے ساتھ ہونے والی مشاورت میں مستقل طور پر ایک اہم تشویش سامنے آئی ہے، اصل مسئلہ محض توانائی کی قیمت یا حکومتی پالیسی نہیں ہے، بلکہ صنعت کے اندر ویلیو ایڈیشن کی کمی، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق برانڈنگ کی عدم موجودگی ہے۔ ان اسٹیک ہولڈرز کے مطابق اگر پاکستان صرف اخراجات کم کرنے کی حکمت عملی تک محدود رہا تو وہ عالمی مارکیٹ میں اپنا پائیدار مقام حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔

مالی سال 2025 میں ٹیکسٹائل کی برآمدات تقریباً 17.88 ارب ڈالر رہیں، جو کل برآمدات کا 55 سے 60 فیصد بنتی ہیں۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں کے دوران ویلیو ایڈڈ سیکٹر جس میں نٹ ویئر، تیار ملبوسات (ریڈی میڈ گارمینٹس) اور ہوم ٹیکسٹائل شامل ہیں کا حصہ 55 فیصد رہا اور اس میں 3 فیصد سے زائد کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات جیسے کہ سوتی دھاگہ اور گرے فیبرک کا حصہ صرف 10 سے 12 فیصد رہا، جس میں دھاگے کا ایک بڑا حصہ خام مال کے طور پر بنگلہ دیش اور چین جیسے ممالک کو برآمد کر دیا گیا۔ صرف 20 فیصد کمپنیاں مکمل طور پر ورٹیکلی انٹیگریٹڈ (پیداوار کے تمام مراحل ایک ہی جگہ رکھنے والی) ہیں، جبکہ بقیہ 80 فیصد پیداوار کے بکھرے ہوئے مراحل میں کام کر رہی ہیں۔

ان چیلنجز کے باوجود کئی بڑے گروپس کامیابی کی مثال بن کر ابھرے ہیں۔ نشان ملز، گل احمد، سیفائر ٹیکسٹائل، انٹرلوپ، آرٹسٹک ملنرز، سورٹی، یونس ٹیکسٹائل، لبرٹی اور نووا ٹیکس جیسی کمپنیوں نے جدید مشینری میں سرمایہ کاری، برانڈنگ، ریٹیل نیٹ ورک کی توسیع، بین الاقوامی ماحولیاتی اور لیبر قوانین کی پاسداری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر توجہ دے کر عالمی منڈیوں میں اپنا نام بنایا ہے۔ مقدار کے بجائے معیار کو ترجیح دے کر یہ کمپنیاں بہتر قیمتیں حاصل کر رہی ہیں جو کہ عالمی پرتعیش برانڈز کے اسٹریٹیجک فلسفے سے مطابقت رکھتا ہے۔

دوسری طرف ملوں کی بندش کا ذمہ دار صرف بیرونی عوامل کو قرار نہیں دیا جا سکتا، اندرونی کمزوریاں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ توانائی کے زیادہ اخراجات (بجلی 13 سے 16 سینٹ فی یونٹ جبکہ حریف ممالک میں 5 سے 9 سینٹ ہے)، مہنگی گیس، بھاری ٹیکس، سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، سپر ٹیکس، بلند شرح سود اور پرانی مشینری (جو 20 سے 30 سال پرانی ہے اور 30 سے 50 فیصد زیادہ توانائی استعمال کرتی ہے) نے پیداواری لاگت میں اضافہ کیا ہے۔ کپاس کی کم پیداوار اور بنگلہ دیش و ویتنام جیسے حریفوں کو حاصل بہتر تجارتی معاہدوں نے پاکستان کے مارکیٹ شیئر کو مزید متاثر کیا ہے۔

تاہم سب سے اہم مسائل اندرونی ہیں، انتہائی کم اجرتیں، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں نہ ہونے کے برابر سرمایہ کاری، معیار پر سمجھوتہ، کسٹمر سپورٹ کا فقدان اور بعض معاملات میں ٹیکس چوری، جب فروخت کم ہوتی ہے اور فیکٹریاں بند ہوتی ہیں تو سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیا جاتا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ کم اجرتیں بہتر پیداواری صلاحیت میں تبدیل نہیں ہوتیں کیونکہ ورکرز کی تربیت اور تکنیکی ترقی محدود ہے۔

یہ رجحان صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے بیشتر کاروباری شعبوں، خاص طور پر مینوفیکچرنگ میں رائج ہے۔ سستی مزدوری، محدود ریسرچ، سمجھوتہ شدہ معیار اور غیر شفاف ٹیکس طریقوں پر مبنی ماڈل بنیادی طور پر ناقابلِ عمل ہے۔ بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک نے زیادہ لاگت کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے مارکیٹ میں جگہ بنائی ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بڑی حد تک خام مال فراہم کرنے والے ملک تک محدود ہے۔

یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش اصل چیلنج قیمت کا نہیں بلکہ معیار، ڈھانچے اور حکمت عملی کا ہے۔ دنیا کے کامیاب ترین برانڈز یہ ثابت کرتے ہیں کہ پائیدار کامیابی اخراجات کم کرنے سے نہیں بلکہ قدر بڑھانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اس سمت کو اپنا لیتا ہے تو وہ عالمی منڈیوں میں ایک مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے، بصورتِ دیگر موجودہ ماڈل صرف عارضی ریلیف ہی فراہم کرتا رہے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026